38

سوچیں کہ آپ کیسے سوچ سکتے ہیں/تحریر/ڈاکٹر حنان سحر

سوچ انسانی زندگی کا ایک اہم جزو ہے۔ یہ ہی انسان کو اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کرتی ہے۔ سوچ انسانی زندگی کے ہر ایک پہلو پر اثر انداز ہوتی ہے چاہے وہ بات چیت ہو، فیصلہ سازی ہو، مسائل کا حل ہو ،تخلیقیت و
انویشن ہو ،جزبات کا سامنا ہو یا اخلاقی استدلال ہو۔ آج تک جو بھی تخلیقات وجود میں آئی ہیں وہ سوچ کا ہی نتیجہ ہیں۔ یہ کالم سوچ کے عام تاثر اور حقیقی سوچ کے حصول پر مبنی ہے . ۔سوچ ایک دماغی حالت ہے جو آپ کو کیسی صورتحال کے مختلف پہلوؤں تک پہنچاتی ہے۔
تیسری دنیا کا المیہ یہ ہے کہ ان کی سوچ حیاتیاتی ضروریات کے گ رردا گرد گھوم رہی ہے۔ وہ اپنی خوراک کی ضروریاِتِ کے پورا کرنے کو ہی حقیقی سوچ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے اس حصے کی طرف سے زندگی کے مختلف شعبوں میں کوئی نمایاں کارکردگی نظر نہیں آ تی۔ ان کی سوچ )روٹی، کپڑا او ر مکان( تک ہی محدود ہے۔
میزلو ایک ماہر نفسیات تھے جو اپنے زمانہ نظریے
(Maslow’s Hierarchy of Needs)
کی وجہ سے مشہور ہیں ۔ انہوں نے ضروریات کی درجہِ بندی ایک اہرام کی شکل میں کی ہے ۔ جس میں حیاتیاتی ضروریات، تحفظ کی ضروریات ،م حبت اور تعلقات کی ضروریات ،عزت کی ضرو ریات اور حقیقت پسندی کی ضروریات با لترتیب شامل ہیں۔ ان تمام درجات کو پار کر کے ہی انسان مفکر بن سکتا ہے ۔ ۔سوچ کے حقیقی حصول کے لیے تعلیم واحد حل ہے ۔ تا ریخ گواہ ہے کہ ترقی یافتہ قوموں کی ترقی کا راز تعلیمی آزادی ہے ۔
چند سائنس دانوں کی مثالیں جنہوں نے اپنی سوچ سے دنیا کے نقشے کو بدل کر رکھ دیا درج ذیل ہیں ۔
یہ سوچ ہی ہے جس کی وجہ سے) آئن سٹائن( ایک مشہور سائنس دان نے نظریہ اضافت ،ماس انرجی مساوات ، براونین موشن اور کوانٹم فزکس کے نظریات دے کر فزکس کے بنیادی ت صورات میں انقلابی تبدیلیاں کیں۔ جس سے آج بھی انسانیت کو فاہدہ پہنچ رہا ہے۔ان میں ج۔پی۔اس کا نظام، شمسی پینل، نیوکلیئر انرجی، ام۔ار۔ا اور پی۔ای۔ٹی سکین قابلے ذکر ہیں۔
نکولا ٹیسلا ایک ماہ ر ایجادات تھے ۔ انہوں نے سوچ جیی نعمت کو استعمال کرکے ایسی ایجادات کیں کہ جن کا کوئی ثانی نہیں۔ ان کی ایجادات میں ذیل شامل ہیں نظام اے سی، ٹیسلا کوئل، انڈکشن موٹر، ریڈیو، وائرلیس بجلی کی فراہمی، ٹیسلا ٹربائن، ریموٹ کنٹرول۔
ان کے ساتھ ساتھ ماریہ کیوری جو ایک علمی ماہر فزکس اور کیمسٹ تھیں۔ ان کی سائنس، طب اور ریڈیولوجی میں لا تعداد خدمات ہیں۔ انہوں نے اپنے سوچنے کی صلاحیت سے دو مرتبہ م نوبل انعام حاصل کیا۔ ان کی خدمات میں ریڈیو ایکٹیویٹی کی دریافت، ریڈیم کو پولونیم سے الگ کرنے کا کام ، سب سے بڑھ کر انہوں نے کینسر کے علاج کے لیے ریڈیو ایکٹیویٹی کے استعمال کو دریافت کیا او ر طبی تحقیقات کے لیے پہلا ریڈیم انسٹی ٹیوٹ قائم کیا ۔
نیز تعلیم کا حصول عام ہی ایک قوم میں سوچ کے فروغ کا باعث ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں