ہوس آجکل ہمارے معاشرے میں بہت عام ہو گی ہے بہت سے بچے ہوس کا شکار ہو چکے ہیں کافی دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک خبر دیکھی جس کو سن کر میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گے ابھی تو ہم زینب کیس نہیں بھولیے تھے کہ اب ایک اور واقعہ منظر عام پر آ گیا
ملتان کے نواحی علاقہ پانچویں کلاس کا بچہ جس کو چند لڑکوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد اس کا گلہ گھونٹ کر مار دیا گیا
کیا وہ بچہ یہ سوال نہیں کرئے گیا کہ میرا کیا قصور تھا جو مجھے اتنی درد ناک موت دی گی ؟ ابھی تو اس نے دنیا دیکھی ہی نہیں کہ اس کو ہمیشہ کے لیے گہری نیند سُلا دیا گیا
اس ماں کا درد کا انذاز لگے جس کو اس کے بیٹے کی لاش کی بھیڑوں کے ہاتھوں سے نوچی ہوئی ملی ہو ۔
یہ واقعات دن با دن بڑھتے ہی جا رہے ہیں
ایسے واقعات پیدا ہونے کے بہت سے اسباب ہیں
1:اِنٹرنیٹ کا استعمال
آجکل کا انٹرنیٹ کا دور ہے ہر بچے کے ہاتھ میں موبائل فون ہیں جس کے بہت سے فوائد بھی ہیں اور نقصانات بھی ،انٹرنیٹ پہ بہت سی ایسی ویب سائٹ ہیں جس کے استعمال سے بچے بہت سے جرائم کا حصہ بن جاتے ہیں کیونکہ ان وہی عمر نشونما کی ہوتی ہے اس لیے وہ جلدی ان کا جرائم کا حصہ بن جاتے ہیں
2:والدین کا بچوں کو وقت نا دینا
آجکل مہنگائی نے سب کی کمر توڑ دی ہیں جس کی وجہ سے ہر انسان پیسے کمانے کی مشن بن گیا ہے بچوں کو وقت ہی نہیں دیں پاتا
والدین دونوں کمانے کے لیے صبح سے نکلتے ہے اور شام کو واپس آتے ہیں ان کو پتہ ہی ان کے بچے کی سارا دن کیا ایکٹویٹی رہی ۔
اس لیے بچے جرائم کا شکار ہو جاتے ہیں
3:بڑوں سے دُوری
ہمارا بچپن اپنی نانی دادی کے ساتھ گزار ہماری پرورش میں ہماری نانی دادی کا بڑا حصہ رہا ہیں لیکن آجکل ہر فیلمی الگ رہتی ہے جوائن فیلمی کا سسٹم ہی ختم ہوتا جا رہا ہیں سپرٹ فیلمی کی وجہ سے بچے تہنائی کا شکار ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ مختلف گروہوں کا حصہ بن جاتے ہیں
ہمیں اپنے بچوں کی خود حفاظت کرنی ہو گی ورنہ یہ بھیڑ نقب لگائے ہوتے ہیں ،
والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو وقت دیں ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو سنے ان سے دوستی والا رشتہ رکھیں تاکہ وہ اپنی ہر پریشانی والدین کو بتا سکیں والدین کو چاہیے وہ چھوٹی عمر کے بچوں کو موبائل لیے کر نا دیں اور بچوں پہ نظر رکھیں کہ وہ موبائل پر کس ایپ کو زیادہ چلاتے ہیں ہمیں خود اپنے بچوں کی حفاظت کرنی ہو گی ان بھیڑوں سے اپنے بچوں کو خود بچانا ہو گیا
اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین
