خوفِ رب سے اپنی آنکھوں کو رلاؤ دوستو ۔
نظرِ بد کے مر٘ض سے خود کو بچاؤ دوستو ۔
بدنگاہی زہرِ قاتل ہے ہمارے واسطے،
یہ پیغامِ حق زمانے کو سناؤ دوستو ۔
بدنگاہی کا خیال آنے لگے جب بھی تمھیں،
فکرِ قبر و حش٘ر سے یہ غم بھلاؤ دوستو ۔
بدنگاہی کرنے والا ہے گنہ کا مستحق،
خوب پیغامِ خدا ہر جا پھیلاؤ دوستو ۔
خوب تم قلب و نظر کی جب حفاظت کر سکو،
مژدہ رب سے پھر ولایت کا جو پاؤ دوستو ۔
مرض جسمانی ہو یا پھر روح کا جیسا بھی ہو؛
بد نگاہی چھوڑ کر ہر غم مٹاؤ دوستو ۔
خواہشِ نفس و حوس تم چھوڑ کیوں دیتے نہیں،
حکمِ رب قرآں میں ہے” نظریں جھکاؤ ” دوستو ۔
بدنگاہی میں ملوث ہے جو بندہءِخدا،
پھر عذابِ قبر سے اس کو ڈراؤ دوستو ۔
بدنگاہی میں ملوث ہیں جواں مرد اور زن
اس گنہ میں سوئے لوگوں کو جگاؤ دوستو ۔
بدنگاہی رکھتی ہے ” ام الخبائث” کا مقام،
با خدا ہر اک گنہ سے جاں چھڑاؤ دوستو ۔
سانحات بد نگاہی خوب راقم نے لکھے،
اک نظر پڑھ کے دعا کو ہاتھ اٹھاؤ دوستو ۔