محرم الحرام ہجری سال کا پہلا مہینہ ہے اور اسلامی تقویم میں اسے بہت خاص مقام حاصل ہے۔ یہ مہینہ ہمیں نہ صرف عبادت، صبر اور تقویٰ کی یاد دلاتا ہے بلکہ قربانی، حق و باطل کی تمیز، اور ایمان پر استقامت کا عظیم پیغام بھی دیتا ہے۔ محرم الحرام کے ساتھ ہی تاریخِ اسلام کا وہ دردناک واقعہ جُڑا ہے جو رہتی دنیا تک انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑتا رہے گا—یعنی واقعۂ کربلا۔
محرم اُن چار حرمت والے مہینوں میں شامل ہے جن کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ ان مہینوں میں جنگ و جدال سے بچنے اور امن قائم رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محرم کو “اللہ کا مہینہ” قرار دیا ہے۔ اس میں عبادت اور نیکی کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، خاص طور پر عاشورہ کے روزے کا بڑا اجر ہے۔ محرم الحرام کا سب سے اہم اور تاریخی واقعہ دسویں محرم، یومِ عاشورہ، کو پیش آیا۔ یہ دن اسلامی تاریخ کا وہ لمحہ ہے جب حق و باطل کی معرکہ آرائی میدانِ کربلا میں اپنے عروج پر پہنچی۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیارے نواسے تھے۔ انہوں نے دینِ اسلام کی اصل روح کو بچانے اور یزیدی فتنہ کو بے نقاب کرنے کے لیے اپنی اور اپنے خاندان کی قربانی پیش کی۔ یزید ایک ظالم، فاسق اور جابر حکمران تھا جو خلافت کو بادشاہت میں بدلنا چاہتا تھا، مگر امام حسینؓ نے اس کی بیعت سے انکار کر کے حق کا پرچم بلند کیا۔
کربلا میں امام حسینؓ کے ساتھ 72 جانثار تھے، جنہوں نے بھوک، پیاس اور سختیوں کے باوجود راہِ حق کو نہ چھوڑا۔ ان کے بچوں، بھائیوں، اور ساتھیوں نے بھی قربانی کی لازوال مثال قائم کی۔ امام حسینؓ نے یہ پیغام دیا کہ ایک مومن کبھی بھی باطل کے سامنے سر نہیں جھکاتا، چاہے قیمت جان کی قربانی ہی کیوں نہ ہو۔ کربلا ہمیں سکھاتا ہے کہ حق کے لیے کھڑا ہونا، ظلم کے خلاف آواز اٹھانا، اور قربانی کے جذبے سے سرشار رہنا ایمان کی اصل پہچان ہے۔ کربلا ہمیں وفاداری، قربانی، صبر، برداشت، عزتِ نفس، اور خدا پر بھروسے کا سبق دیتی ہے۔ امام حسینؓ کی شہادت یہ بتاتی ہے کہ حق کی راہ میں چلنا آسان نہیں، لیکن کامیابی صرف اسی راستے پر ہے۔
کربلا ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اہلِ ایمان کبھی بھی ظلم کے آگے نہیں جھکتے، چاہے تعداد میں کم ہوں، وسائل نہ ہوں، لیکن اگر نیت خالص ہو تو کامیابی ان کا مقدر ہے۔ آج بھی دنیا میں ظلم، ناانصافی، فتنہ و فساد عام ہے۔ ایسے میں ہمیں کربلا سے سبق لینا چاہیے کہ ہم حق کے ساتھ کھڑے ہوں، ظلم کے خلاف آواز بلند کریں، اور قربانی کا جذبہ پیدا کریں۔ امام حسینؓ کا پیغام ہر دور کے لیے ہے، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے جو معاشرے کا مستقبل ہیں۔ اگر ہم حسینی کردار کو اپنائیں تو معاشرے میں انقلاب آ سکتا ہے۔ محرم الحرام صرف غم اور آنسو کا مہینہ نہیں بلکہ بیداری، شعور، اور عملی قربانی کا پیغام دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس مہینے میں محض رسمیں نہ نبھائیں، بلکہ اس کے اصل مقصد کو سمجھیں اور اپنی زندگی میں لاگو کریں۔ حق کے ساتھ کھڑے ہونا، سچ بولنا، ظلم سے نفرت کرنا اور قربانی کے لیے تیار رہنا ہی حسینؓیت کا اصل سبق ہے۔
0