likho 0

یومِ وصال : حضرت شیخ مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ/ندائے حق/محمد مقصود کشمیری

آج یکم ذی القعدہ کی تاریخ ہمیں ایک ایسی باکمال، باصفا اور سراپا محبت ہستی کی یاد دلاتی ہے جن کی زندگی علم، عمل، اخلاص اور عشقِ رسول ﷺ کا حسین مرقع تھی۔ سیدی و مرشدی حضرت شیخ مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ نہ صرف ایک جلیل القدر عالم دین تھے بلکہ ایک شفیق مربی، مہربان رہبر اور دلوں کو جوڑنے والے درویش بھی تھے۔
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی بے مثال شفقت اور محبت تھی۔ جو بھی آپ کی صحبت میں آتا اس کا دل بدل جاتا۔ آپ کے اندازِ گفتگو میں نرمی، لہجے میں مٹھاس اور طرزِ تربیت میں ایسی حکمت تھی کہ سخت سے سخت دل بھی پگھل جاتا۔ آپ نے لوگوں کو ڈانٹ کر نہیں بلکہ محبت دے کر دین کے قریب کیا—
آپ رحمۃ اللہ علیہ عظیم محدث اور صوفی بزرگ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز تھے۔ اس نسبت نے آپ کی دعوتی و روحانی خدمات کو مزید وسعت بخشی۔ آپ نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں سفر کر کے اپنے شیخ کے فیوض و برکات کو عام کیا اور سلسلۂ ذکر و درود کو عالمی سطح پر پھیلایا۔۔
حضرت ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کا سب سے روشن باب کثرتِ درود شریف اور مجالسِ ذکر کا اہتمام تھا۔ یہی آپ کی خاص پہچان تھی۔ آپ قریہ قریہ، بستی بستی سفر کرتے، لوگوں کو جمع کرتے، اور محبت بھرے انداز میں انہیں درود و سلام کی برکتوں سے آشنا کرتے۔ ان محافل میں نہ کوئی تکلف ہوتا، نہ کوئی رسمی پن—بلکہ ایک سادہ، پرنور اور روح پرور ماحول ہوتا جس میں دل خود بخود اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں ڈھل جاتے۔
آپ کی یہ محنت ہزاروں اور لاکھوں انسانوں کے قلوب میں دائمی انقلاب برپا کر گئی۔ بے شمار لوگ آپ کی محافل میں آ کر دین سے جڑ گئے، اور ان کی زندگیاں عبادت، محبت اور خدمت کے راستے پر گامزن ہو گئیں۔
تحفظِ ختم نبوت ﷺ اور ناموسِ صحابہ و اہلِ بیت کے لیے آپ کی خدمات بھی ناقابلِ فراموش ہیں۔ آپ نے ہمیشہ اس عقیدۂ اساسی کے تحفظ کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا اور ہر محاذ پر اس کا دفاع کیا۔
✍️
تحریک تحفظ ختم نبوت آزاد کشمیر کے ساتھ آپ کی سرپرستی ایک مضبوط سہارا تھی، جس نے اس تحریک کو فکری استحکام اور روحانی قوت عطا کی۔
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی ایک نہایت قیمتی اور بصیرت افروز نصیحت بھی اہلِ دین کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ انسان اپنی جسمانی، روحانی اور عملی محدودیتوں کے باعث ہر میدان میں یکساں خدمات انجام نہیں دے سکتا، اس لیے ضروری ہے کہ ہر فرد ایک میدانِ عمل کا انتخاب کرے—چاہے وہ ختم نبوت ہو، دفاعِ صحابہ ہو، دعوت و تبلیغ ہو، درس و تدریس ہو یا فرقِ باطلہ کے خلاف جدوجہد۔ اسی میدان کو اپنی پہچان بنائے اور اس میں مہارت حاصل کرے۔
ساتھ ہی آپ یہ بھی تاکید فرماتے تھے کہ دیگر تمام دینی جماعتوں اور کارکنان کے ساتھ محبت، تعاون اور خیر خواہی کا تعلق رکھا جائے۔ اختلافات سے بالاتر ہو کر اتحاد کو فروغ دیا جائے۔ آپ کا یہ سنہری جملہ آج بھی رہنمائی کرتا ہے:
“کسی کے فریق نہ بنو، سب کے رفیق بنو”
کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو امت کو جوڑتا اور دین کے کام کو آگے بڑھاتا ہے۔
ان کے یومِ وصال پر آج کا یہ دن ہمیں محض غمگین نہیں کرتا بلکہ ایک پیغام دیتا ہے—محبت کا، اخلاص کا، اور عمل کا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم حضرت ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں زندہ کریں، درود و سلام کی محافل کو فروغ دیں، اور دین کے کسی ایک میدان میں اخلاص کے ساتھ اپنی خدمات پیش کریں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس عظیم ہستی کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، اور ہمیں ان کی محبتوں، شفقتوں اور تعلیمات کا سچا وارث بنا دے۔
آمین یا رب العالمین۔

لکھو کے ساتھ لکھو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں