گرمی کی شدید لہر تھی۔ تپتی دھوپ نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ سڑکیں سنسان پڑی تھیں، درختوں کے پتے مرجھائے ہوئے تھے اور ہوا جیسے کہیں کھو گئی تھی۔ ہر طرف ایک عجیب سی گھٹن تھی جو سانس لینا بھی مشکل بنا دیتی تھی۔ عائشہ کھڑکی کے پاس بیٹھی، آنکھوں میں ہلکی سی اداسی لیے باہر دیکھ رہی تھی۔ اس کی نظریں ان بے زبان پرندوں پر ٹکی تھیں جو گرمی اور پانی کی کمی کے باعث بے چین ہو کر ادھر ادھر پھدک رہے تھے، کبھی زمین پر چونچ مارتے، کبھی تھکے ہارے سایہ ڈھونڈتے۔
وہ یہ سب دیکھ کر اندر ہی اندر بے چین ہو رہی تھی۔ اسے یوں لگتا جیسے یہ صرف موسم کی شدت نہیں بلکہ اس کے اپنے دل کی کیفیت بھی ہے—خشک، بوجھل اور تھکی ہوئی۔ زندگی بھی جیسے ایک ہی جگہ رک گئی ہو۔ نہ کوئی تازگی، نہ کوئی خوشی، بس روزمرہ کی یکسانیت اور ایک خاموش سی تھکن۔
اس کی نظر آسمان کی طرف اٹھی، جیسے وہ کسی معجزے کی منتظر ہو۔ نیلا آسمان بالکل صاف تھا، بادلوں کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ اس نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور کھڑکی سے ٹیک لگا لی۔ اس کے دل میں ایک انجانی سی کٹھن تھی، جیسے کچھ ٹھہرا ہوا ہو، جو باہر نکلنا چاہتا ہو مگر راستہ نہ مل رہا ہو۔
اسی لمحے اسے اپنا بچپن یاد آ گیا۔ جب بارش کا پہلا قطرہ گرتا تو وہ خوشی سے چیخ اٹھتی تھی۔ ننگے پاؤں صحن میں دوڑتی، بارش میں بھیگتی اور امی کی آوازیں سنتی رہتی کہ “بیمار ہو جاؤ گی!” مگر اسے اس کی پرواہ نہ ہوتی۔ اس وقت بارش صرف پانی نہیں تھی، وہ خوشی تھی، آزادی تھی، زندگی تھی۔
اب وہی بارش جیسے کہیں دور رہ گئی تھی، اور اس کی جگہ سنجیدگی اور خاموشی نے لے لی تھی۔
اچانک ایک تیز ہوا کا جھونکا آیا۔ کھڑکی کے پردے ہلنے لگے۔ عائشہ چونک کر سیدھی ہو گئی۔ اس نے باہر جھانکا تو دیکھا کہ دور کہیں آسمان پر ہلکے ہلکے بادل نمودار ہو رہے ہیں۔ اس کے دل میں ایک امید کی کرن جاگی۔ ہوا میں اب پہلے جیسی تپش نہیں رہی تھی بلکہ ایک ہلکی سی ٹھنڈک شامل ہو چکی تھی۔
دیکھتے ہی دیکھتے بادل گہرے ہونے لگے اور پورے شہر پر چھا گئے، جیسے کسی نے آسمان پر سیاہ چادر تان دی ہو۔ فضا میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی، جیسے سب کچھ کسی بڑے لمحے کا انتظار کر رہا ہو۔
پھر اچانک—
بارش کی پہلی بوند عائشہ کی کھڑکی پر آ کر گری۔
وہ ٹھٹھک گئی۔
ایک بوند… پھر دوسری… پھر تیسری…
چند ہی لمحوں میں بارش تیز ہو گئی۔ پانی کی بوندیں شیشے پر بجنے لگیں۔ ۔ عائشہ کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔ اس کی اداسی جیسے دھلنے لگی ہو۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کے اندر بھی کوئی بارش برس رہی ہو، جو اس کے دل کی گرد صاف کر رہی ہو۔
کھڑکی کے اس پار درخت بارش میں جھوم رہے تھے، جیسے خوشیاں منا رہے ہوں۔ سوکھے پتے تازہ ہو گئے تھے اور زمین کو جیسے نئے زندگی مل گئی ہو۔ پرندے جو ابھی کچھ دیر پہلے بے چین تھے، اب خوشی سے چہچہا رہے تھے، گویا اپنے رب کا شکر ادا کر رہے ہوں۔
جب بارش کی بوندیں مٹی پر پڑیں تو ایک بھینی سی مہکتی خوشبو فضا میں پھیل گئی۔ وہ خوشبو عائشہ کے دل میں اترتی چلی گئی، جیسے کسی نے اس کے اندر امید کے چراغ جلا دیے ہوں۔
عائشہ خود کو روک نہ سکی۔ وہ جلدی سے دروازہ کھول کر باہر صحن میں آ گئی۔ ٹھنڈی بوندیں اس کے چہرے پر پڑنے لگیں۔ اس نے اپنی ہتھیلی آگے بڑھائی اور بارش کو اپنے ہاتھوں میں محسوس کیا۔ ہر بوند جیسے کوئی پیغام لے کر آ رہی تھی—تازگی کا، زندگی کا، امید کا۔
اس نے آنکھیں بند کر لیں، چہرہ آسمان کی طرف اٹھایا اور دل سے دعا کی:
“اے اللہ! جس طرح تو نے بارش کو برسا کر زمین کو تازگی دی، اسی طرح میرے دل کی ویرانی کو بھی زندگی سے بھر دے۔ میرے اندر کی گھٹن کو دور کر دے اور مجھے نئی امید عطا فرما۔”
اس کے دل پر ایک عجیب سا سکون اتر آیا۔ جیسے اس کی دعا سن لی گئی ہو۔
وہ کچھ دیر یونہی بارش میں کھڑی رہی۔ ہر بوند اس کے اندر کی تھکن کو دھوتی جا رہی تھی۔ اس نے محسوس کیا کہ زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ جیسے گرمی کے بعد بارش آتی ہے، ویسے ہی دکھ کے بعد خوشی بھی آتی ہے۔
اسے احساس ہوا کہ وہ خود بھی کہیں نہ کہیں ہمت ہار بیٹھی تھی۔ اس نے اپنی خوشیوں کو خود سے دور کر لیا تھا۔ مگر آج کی بارش نے اسے یاد دلایا کہ ہر اندھیری رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے۔
بارش آہستہ آہستہ کم ہونے لگی۔ بوندیں رکنے لگیں اور آسمان صاف ہونے لگا۔ بادلوں کے پیچھے سے ہلکی سی دھوپ جھانکنے لگی، جیسے مسکرا رہی ہو۔
عائشہ نے ایک گہری سانس لی۔ اس کے چہرے پر اب وہی اداسی نہیں تھی جو کچھ دیر پہلے تھی، بلکہ ایک نرم سی روشنی تھی، ایک اطمینان، ایک یقین۔
وہ واپس اپنے کمرے میں آئی، مگر اب وہ پہلے والی عائشہ نہیں تھی۔ اس کے اندر کچھ بدل چکا تھا۔
اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ زمین بھیگی ہوئی تھی، درخت تازہ تھے اور فضا میں ایک نئی تازگی محسوس ہو رہی تھی۔
وہ مسکرائی اور آہستہ سے خود سے کہا:
“ہر گھٹن کے بعد پہلی بارش ضرور آتی ہے… بس انتظار کرنا پڑتا ہے۔”
اور اس دن کے بعد عائشہ نے سیکھ لیا کہ زندگی کی سختیاں ہمیشہ قائم نہیں رہتیں۔ اگر دل میں امید باقی ہو تو ہر موسم بدل سکتا ہے، اور ہر خشک دل میں کبھی نہ کبھی پہلی بارش ضرور برستی ہے۔
0