پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور عسکری قوت کا جائزہ لینے کے لیے حالیہ برسوں بالخصوص 2025 اور 2026 کے دوران ہونے والی پیش رفت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، کیوں کہ اس عرصے میں خطے کے بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی حالات نے پاکستان کو اپنی دفاعی حکمت عملی میں اہم تبدیلیاں لانے پر ابھارا ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کی 2025 کی رپورٹ اور پاکستان کے حالیہ دفاعی بجٹ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان نے اپنی روایتی اور اسٹریٹجک صلاحیتوں میں توازن پیدا کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کے حصول پر غیر معمولی توجہ دی ہے۔ پاکستان کی فضائیہ کے بیڑے میں جدید ترین جے ٹین سی (J-10C) اور جے ایف 17 تھنڈر بلاک تھری (JF-17 Block III) کی شمولیت نے فضائی برتری کے تصور کو نئی جہت عطا کی ہے، جب کہ میزائل پروگرام میں ابابیل اور شاہین تھری جیسے شہہ کاروں کے کام یاب تجربات نے دشمن کے میزائل ڈیفنس سسٹم کو ناکارہ بنانے کی صلاحیت پیدا کر دی ہے۔
میزائل ٹیکنالوجی کے حوالے سے پاکستان انتہائی مضبوط و مستحکم ہے۔ حالیہ رپورٹس اور ڈیفنس سیکورٹی ایشیا کے تجزیوں کے مطابق پاکستان نے جنوری 2026 میں جدید کروز میزائل “تیمور” کا کام یاب تجربہ کیا ہے جو 600 کلومیٹر تک دشمن کے زمینی اور بحری اہداف کو انتہائی درستی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میزائل کی خاص بات اس کا ریڈار سے بچ نکلنے والا نظام اور انتہائی نیچی پرواز ہے، جو اسے کسی بھی فضائی دفاعی نظام کے سسٹم کے لیے ایک چیلنج بناتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے پاس مختصر فاصلے کے میزائلوں میں نصر (70 سے 100 کلومیٹر) شامل ہے جو تکینیکی طور پر دشمن کی پیش قدمی روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ درمیانے فاصلے کے میزائلوں میں غوری (1500 کلومیٹر) اور شاہین ٹو (2500 کلومیٹر) شامل ہیں، جب کہ شاہین تھری کی رینج 2750 کلومیٹر تک ہے جو پورے جنوبی ایشیا اور اس سے باہر کے اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان کا سب سے اہم حالیہ سنگ میل ابابیل میزائل نظام ہے جس کی رینج 2200 کلومیٹر ہے اور یہ ایم آئی آر وی (MIRV) ٹیکنالوجی سے لیس ہے یعنی یہ ایک ہی وقت میں متعدد ایٹمی وار ہیڈز لے جا کر مختلف اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے جس سے دشمن کا دفاعی نظام مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔ پاکستان نے اپنی دفاعی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میزائلوں کی ایک ایسی وسیع رینج تیار کی ہے جو مختصر فاصلے سے لے کر براعظمی حدود تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان کے میزائل پروگرام کا آغاز حتف سیریز سے ہوا، جس میں حتف اول ایک اہم سنگ میل تھا، جو ستر کلومیٹر تک مار کرنے والا ایک غیر ہدایتی میزائل تھا، جس نے ملک کے لیے ٹیکٹیکل دفاع کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد حتف اول اے اور حتف اول بی کے ذریعے اس کی رینج اور درستی میں اضافہ کیا گیا جو کہ سو کلومیٹر تک رسائی حاصل کر گئے۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے حتف دوم جسے ابدالی بھی کہا جاتا ہے تیار کیا گیا جو دو سو کلومیٹر تک کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی خاص بات اس کا موبائل لانچ سسٹم ہے جو اسے جنگی میدان میں انتہائی متحرک بناتا ہے۔ حتف سوم یا غزنوی میزائل کی رینج دو سو نوے کلومیٹر ہے اور یہ مائع ایندھن کے بجائے ٹھوس ایندھن پر چلنے والا نظام ہے جو اسے فوری جوابی کارروائی کے لیے موزوں ترین بناتا ہے۔ پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں شاہین سیریز کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے جس میں شاہین اول یا حتف چہارم ساڑھے سات سو کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے، جب کہ اس کے جدید ورژن شاہین ون اے کی رینج نو سو کلومیٹر تک بڑھا دی گئی ہے، جس نے پاکستان کی سٹریٹجک گہرائی میں اضافہ کیا ہے۔ پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی میں درمیانے اور طویل فاصلے کے میزائل دشمن کے لیے سب سے بڑا خوف تصور کیے جاتے ہیں۔ غوری اول جسے حتف پنجم بھی کہا جاتا ہے پندرہ سو کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ مائع ایندھن سے چلنے والا میزائل ہے جو انتہائی بلند پرواز کر کے ہدف کو نشانہ بناتا ہے۔ غوری دوم کی رینج کو بڑھا کر تئیس سو کلومیٹر تک پہنچایا گیا ہے، جس سے پاکستان کی رسائی خطے کے دور دراز علاقوں تک ممکن ہو گئی ہے۔ شاہین دوم یا حتف ششم ایک ایسا بیلسٹک میزائل ہے جو پندرہ سو سے دو ہزار کلومیٹر تک اپنے ہدف کو کام یابی سے نشانہ بنا سکتا ہے اور اس کی رفتار بھی اسے موجودہ جدید ترین دفاعی نظاموں کے لیے ایک مشکل ہدف بناتی ہے۔ پاکستان کا سب سے طاقت ور روایتی بیلسٹک میزائل شاہین سوم ہے، جس کی رینج ستائیس سو پچاس کلومیٹر ہے اور یہ پورے جنوبی ایشیا اور اس سے باہر کے اسٹریٹجک اہداف تک پہنچنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ نصر میزائل جسے حتف نہم کہا جاتا ہے محض ستر کلومیٹر کی رینج رکھتا ہے، لیکن یہ ایک ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار ہے جسے دشمن کی فوج کی بڑی پیش قدمی کو روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
کروز میزائلوں کے شعبے میں پاکستان کے دفاعی ذخیرے میں بابر اور رعد سیریز شامل ہے، جو کہ زمین سے لگ کر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بابر اول جسے حتف ہفتم کہا جاتا ہے سات سو کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے اور یہ اپنی اسٹیلتھ خصوصیات کی وجہ سے ریڈار کی گرفت میں نہیں آتا۔ بابر ون اے اور بابر ون بی اس کے مزید بہتر ورژن ہیں، جب کہ بابر ٹو کی رینج ساڑھے سات سو کلومیٹر تک ہے جو جدید ترین نیویگیشن سسٹم سے لیس ہے۔ بحری دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے بابر تھری تیار کیا گیا، جو آب دوز سے فائر کیا جانے والا کروز میزائل ہے اور اس کی رینج ساڑھے چار سو کلومیٹر ہے۔ فضا سے زمین پر مار کرنے کے لیے رعد اول اور رعد دوم میزائل موجود ہیں، جن کی رینج بالترتیب ساڑھے تین سو اور چھ سو کلومیٹر ہے اور یہ جے ایف 17 اور معراج طیاروں سے فائر کیے جا سکتے ہیں۔ بحری جنگ کے لیے حربہ اور ضرب میزائل ہیں، جو ساحلی دفاع اور بحری جہازوں سے فائر کیے جاتے ہیں اور دشمن کے بیڑے کو سمندر برد کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
پاکستان نے اپنی فضائی حدود کے تحفظ کے لیے بھی بہترین میزائل تیار کیے ہیں۔ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں میں عنزہ سیریز کے میزائل شامل ہیں جن میں عنزہ اول، دوم اور عنزہ سوم شامل ہیں، جو کندھے پر رکھ کر فائر کیے جانے والے شارٹ رینج میزائل ہیں اور نچلی پرواز کرنے والے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے لیے اہم ہتھیار ہیں۔ طویل فاصلے کے فضائی دفاع کے لیے پاکستان نے ایچ کیو نائن پی سسٹم اپنایا ہے جو ایک سو پچیس سے ڈیڑھ سو کلومیٹر تک کسی بھی فضائی خطرے کو ختم کر سکتا ہے، جب کہ ایل وائی 80 (LY 80) میزائل نظام چالیس کلومیٹر تک موثر دفاع فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ایف ایم 90 (FM 90) اور سپاڈا 2000 جیسے نظام بھی ملک کی حساس تنصیبات کے دفاع پر مامور ہیں۔ فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں میں پی ایل 5 (PL5)، پی ایل 9 (PL9)، پی ایل 10 (PL10) اور سب سے اہم پی ایل پندرہ شامل ہیں جو جے ایف 17 بلاک تھری کے ساتھ مل کر پاکستان کو برتری دلاتے ہیں۔ ٹینک شکن میزائلوں میں بکتر شکن اور برق میزائل شامل ہیں جن میں برق میزائل ڈرون طیاروں سے فائر کیا جاتا ہے اور یہ انتہائی درستی کے ساتھ متحرک اہداف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ تمام میزائل مل کر پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو ایک ایسی دیوار بنا دیتے ہیں جسے عبور کرنا کسی بھی دشمن کے لیے ناممکن ہے۔ بین الاقوامی دفاعی جرائد کے مطابق پاکستان کا یہ میزائل پروگرام مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے، لیکن اس کی طاقت اور تنوع خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ تمام اعداد و شمار مستند عالمی دفاعی جرائد، سیپری رپورٹس اور حالیہ عسکری تجربات کے سرکاری اعلانات سے اخذ کیے گئے ہیں جو پاکستان کے دفاعی استحکام کی عکاسی کرتے ہیں۔
0