تعلیمی سال اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ نصاب ، وقت اور سال کے دورانیے کو دیکھا جائے اور بچوں کی صلاحیت کو جانچا جائے ہو تو اندازہ ہو جائے گا کہ اتنے سے وقت میں نصاب کو سمجھا کر مکمل کروانا اور پھر اس کی دوہرائی کروانا انتہائی مشکل ہو تا ہے۔ بطور استاد ہمارا یہ مشاہدہ رہا ہے کہ بچوں کے سوالات کی طرف توجہ دی جائے تو نصاب مکمل کروانا ناممکن ہو جائے گا اور ادارے کا پریشر الگ ہوتا ہے۔ اگر نصاب کی طرف توجہ دی جائے تو بچوں کے سوالات رہ جاتے ہیں۔ اس لیے زیادہ فوکس نصاب کی تکمیل پر ہوتا ہے نہ کہ بچوں کے قلبی اطمینان کی طرف۔ بچے بھی دو طرح کے ہوتے ہیں۔ کچھ رٹا لگا کر یا اپنی ذہانت اور اکیڈمی کی توجہ سے بات کو کسی حد تک سمجھ لیتے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جن کی اکثریت ہوتی ہے کہ ذہنی صلاحیت اتنی زیادہ نہیں ہوتی کہ صرف رٹا لگا کر سمجھ سکیں۔ اکیڈمی کی فیسز ناقابل برداشت ہوتی ہیں تو خود کو حالات کے حوالے اپنی قسمت پر روتے رہتے ہیں۔ یوں امتحان کا وقت سر پر پہنچ جاتا ہے۔
زندگی اک امتحان گاہ ہے۔ پیدا ہونے سے مرنے تک روز ایک نئے امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔ نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نئے تجربات ہوتے ہیں اور بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ اس سب کے باوجود جن امتحانات کا تعلق تعلیم سے ہے، نفسیاتی طور پر ان کا اثر بچوں پر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ امتحانات کے دنوں میں بچے کے ساتھ ساتھ والدین جس کرب سے گزرتے ہیں ، وہ ایک قابل غور عمل ہے۔ تعلیمی اداروں کا کردار، ان کی پالیسیاں اور ان کا رویہ بچوں کے ساتھ کیسا ہوتا ہے؟ یہ پہلو بھی قابل غور ہے۔ امتحانات کا شیڈول ہو یا امتحان گاہوں کا ماحول، کوئی چیز منصوبہ بندی کا عکاس نہیں ہوتی۔ امتحانات کی شکل میں فارمیلٹی پوری کیا جاتی ہے ۔ صورت حال ایسی ہوتی ہے کہ
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے۔
امتحان ایک جانچ پرکھ کا نام ہے۔ سارا سال ایک مخصوص سلیبس پڑھایا جاتا ہے۔ جسے ایک متعین دورانیے میں مکمل کرنا ہوتا ہے۔ جب مکمل ہو جائے تو پھر اس کی ذہانت، فہم اور علمی استعداد کو پرکھا جاتا ہے، جس کی بنیاد پر کامیابی کی درجہ بندی ہوتی ہے اور اگلے مرحلے پر ترقی کا فیصلہ ہوتا ہے۔
یہاں بات صرف اگلے مرحلے میں ترقی تک محدود نہیں بلکہ اچھے نمبرز لینا، ایک دوسرے سے آگے بڑھنا، مقابلہ کرنا، بہتر کارکردگی دکھانا، گھر والوں اور پورے خاندان والوں کی امیدوں پر پورا اترنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور ادارے کی توقعات اضافی بوجھ بن جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں اس بات کا خوف لگا رہتا ہے کہ اگر مطلوبہ نتائج نہ مل سکے تو پورے گھر کی بدنامی کا بوجھ سر پر اٹھانا پڑے گا۔ ہر شخص طعنے مارے گا ۔ مذاق اڑایا جائے گا۔ والدین اور اساتذہ کے چہرے اتر جاتے ہیں کیوں کہ اب وہ دوسروں پر “فخر” کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ یہ سارے خدشات ایک طالب علم کے ذہن میں گھوم رہے ہوتے ہیں، جواس کے ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
ایک طرف امتحان کی فکر تو دوسری طرف اتنے لوگوں کا دباؤ، بچے کو نفسیاتی طور پر مفلوج کر دیتا ہے۔ جو لاشعوری طور پر بچوں کی یاداشت میں کمی کا سبب بنتا ہے۔ بسا اوقات یاد ہونے کے باوجود بھولنا شروع ہو جاتا ہے۔ ان کی محنت ضائع ہو جاتی ہے ۔ تعلیم کو بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔ صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ سر درد، پیٹ درد یا چکرانے کی شکایت سننے کو ملتی ہیں۔ چڑچڑا پن، نیند کا نہ آنا، کھانے کو دل نہ کرنا اور ہر وقت دل کی دھڑکن کا تیز ہونے جیسے معاملات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ان سب کے پیچھے فقط ایک ہی لفظ ہوتا ہے اور وہ ہے دباؤ۔ امتحانی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ انتہائی نامعقول بات ہے۔ اتنی نامعقول بات ہے کہ بسا اوقات جس کی انتہاء خودکشی کی صورت میں دیکھنے کو ملتی ہے۔
اس میں جہاں نصاب یا نظام کی خرابی کا معاملہ ہے، وہیں طلبا کی اپنی کوتاہیاں بھی شامل ہیں ۔ سارا سال اسی بات میں گزار دیتے ہیں کہ کل سے پڑھنا شروع کریں گے۔ امتحانات سر پر آ پہنچتے ہیں، لیکن کل نہیں آتی۔ اور جب کہ آتی ہے تو پھر یہ نہیں پتہ چلتا کہ کیا کیا پڑھنا ہے اور کہاں کہاں سے پڑھنا ہے؟
ترقی یافتہ ممالک میں بھی طلبہ کا امتحان لیا جاتا ہے، مگر انہیں ذہنی دباؤ سے نکالنے کا خوب اہتمام ہوتا ہے۔ لیکچرز دیے جاتے ہیں۔ امتحانی شیڈول ہی یوں مرتب کیا جاتا ہے کہ بچوں کو الفاظ رٹانے کے بجائے بات سمجھائی جا سکے۔ ہر چیز پریکٹیکلی کر کے دکھائی جاتی ہے۔ امتحان سے قبل دہرائی کروائی جاتی ہے۔ تاکہ امتحان کا دباؤ کم ہو سکے۔ ان کی محنت ضائع نہ ہو۔ کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ وہ لوگ تعلیم کو بوجھ نہیں سمجھتے بلکہ انجوائے کرتے ہیں۔ بچوں کو بھر بھر کے کتابوں کے بیگ نہیں تھماتے بلکہ ہنر، فن اور مہارت دیتے ہیں۔ خصوصا چھوٹے بچوں کا کتابوں کے ساتھ اتنا ہی تعلق ہوتا ہے جتنا سبز چائے کا ہرے رنگ کے ساتھ۔
سوال یہ کہ ہم کیا کریں ؟ تو جواب یہ ہے کہ ہم نصاب اور نظام تو نہیں بدل سکتے، بدل سکتے ہیں تو اپنے آپ کو، اپنی سوچ اور فکر کو، اپنے مقصود اور منزل کو۔ جس کے لیے سب سے پہلے ہمیں باقاعدہ وقفوں کے ساتھ پڑھائی کا شیڈول بنانا ہو گا۔ مسلسل کام طبیعت میں اکتاہٹ پیدا کر دیتا ہے۔
اپنے جسم اور روح کو نارمل رکھنے کے لیے متوازن نیند کا ہونا ضروری ہے۔ یہ ہر کسی کی صحت کے اعتبار سے الگ ہو سکتی ہے۔
پڑھائی کے ساتھ ساتھ کچھ تفریح کا سامان ضرور ہونا چاہیے ، جو آپ کے ذہن کو فریش رکھ سکے۔
اپنی محنت کے اعتبار سے متوازن خوراک کا انتظام ہونا چاہیے تاکہ کسی قسم کی کوئی جسمانی کمزوری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
خود کو پاس، فیل، نمبر گیم اور پوزیشن کی دوڑ سے الگ رکھیں ۔ کامیاب ہونا ہے تو اسی کے مطابق خود کی تربیت کریں۔ الفاظ رٹنے کے بجائے بات کو سمجھیں۔
0