( ایک رات کی کہانی جب دنیا تباہی کے دہانے پر تھی،کوئی امن کا محافظ سامنے آیا)
سات اور آٹھ اپریل کی درمیانی رات کو ساری دنیا کا الیکٹرانک اور سوشل میڈیا جاگ رہا تھا کیوں کہ امریکی صدر نے ” ایرانی تہذیب” کو مٹانے کی دھمکی دی تھی جسے ایٹمی حملے کا اشارہ بھی سمجھا جارہا تھا۔ ہر ذی شعور فکرمند تھا ۔ کیوں کہ یہ جنگ بہت سی عالمی جنگوں کا پیش خیمہ بن سکتی تھی۔ انسانیت بحیثیت مجموعی امن پسند ہے۔ خود امریکہ کے اندر سے ایرانی بچوں کے سکول پر حملے کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں مگر بے لگام طاقت کو کون لگام ڈالے ؟ یہ معاملہ بہت پیچیدہ ہوگیا تھا۔ ایسے میں ایک ملک نے امن کا بیڑا اٹھایا ، راتوں کو جاگ جاگ کے حکمت عملی تیار کی ،ایران اور امریکہ کے مابین راضی نامہ کروانے کی کوشش کی،ایک طرف عرب ریاستوں کا بھائی چارہ تھا ،دوسری طرف حرمین شریفین کی حفاظت کی زمہ داری۔ ایک طرف امریکہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والی پوزیشن پر ،دوسری طرف ایران اپنی خودمختاری کے لئے انتہائی حد پر کھڑا تھا۔ پوری دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی،عالمی معیشتیں لرز رہی تھیں اور ایک ملک اس آتش فشاں کو بجھانے کے لئے بھاگ دوڑ میں مصروف تھا۔ یہ وہی ملک تھا جسے کبھی ڈیفالٹ کرنے کی کوشش کی گئی، کبھی دہشت گردی کا الزام تھوپا گیا مگر اس بار یہ ملک ایک نئے انداز میں عالمی منظر نامے پر نمودار ہوا ،وہ روپ ایک صلح جو ،امن پسند ،ذمہ دار اور ذہین ترین ملک کا حسین ترین روپ تھا۔ جی ہاں ۔۔۔۔یہ میرا اور آپ کا پاکستان ہے۔ اس پر فخر کیجئیے ،اس سے محبت کیجئیے اور دشمن کے پراپیگنڈے کو ناکام کیجئیے۔اپنی قومی اور عسکری قیادت کا شکریہ ادا کیجئیے کہ جس نے انسانوں کا شکریہ ادا نہ کیا ،اس نے اپنے رب کا بھی شکریہ ادا نہ کیا۔اپنے رب العالمین کے حضور سر بسجود ہوجائیں۔ اگر پاکستان “اسلام آباد اکارڈ” پر دو متحارب فریقین میں صلح کروانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو بلاشبہ یہ پاکستان کے ایک نئے سنہرے دور کا آغاز ہوگا جو تاریخ میں مطالعہ پاکستان کی نئی کتب میں لکھا جاۓ گا!اور ہاں پاکستان کی اس کامیاب عالمی سفارت کاری پر دنیا بھر میں پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کیا جارہا ہے۔ حال ہی میں وزیراعظم نے سعودیہ ،قطر اور ترکی کا فوری دورہ کیا جب کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے جنگی محاذ کے درمیان تہران پہنچے،بلاشبہ جنگ کے دوران وہاں پہنچنا بڑے جگرے کا کام ہے ۔یہ اسرائیل کے لئے بھی ایک پیغام تھا کہ ایران تنہا نہیں ہے ،ایک ایٹمی طاقت کا فیلڈ مارشل وہاں موجود ہے۔انھوں نے ایرانی قیادت سے کامیاب مذاکرات کئے جس کے نتیجے میں اسرائیل نے لبنان پر بمباری روک دی ہے اور ایران نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا اعلان بھی کردیا ہے جس سے دنیا کی اسٹاک ایکسچینج میں بھی بہتری آئی ہے۔ اس وقت ہماری قومی ،سیاسی اور عسکری قیادت کے اتحاد ویکجہتی کی بدولت پاکستان اس اہم مقام پر فائز ہوگیا ہے کہ اقوامِ عالم کے امن کے سفیر اور ضامن کا کردار ادا کر رہا ہے۔ آئندہ چند روز میں اسلام آباد امن مذاکرات میں امریکی صدر ٹرمپ سمیت ایران ،سعودی عرب ،ترکیے ،قطر اور دیگر ممالک کے وفود کی آمد متوقع ہے جہاں مذاکرات کا دوسرا دور ظہور پذیر ہوگا۔پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت،دنیا بھر کی آنکھوں کا تارا بن گئی ہے جو نہ صرف تیسری جنگ عظیم کو روکنے کے لئے اہمیت کی حامل ہے بلکہ امید کی جاتی ہے کہ مسئلہء کشمیر کے حل کے لئے بھی مثبت پیش رفت کی جاۓ گی ۔ دعا ہے کہ پاکستان امت مسلمہ کے دکھوں کا درماں کرسکے اور اس کامیاب سفارت کاری کے ثمرات پاکستان کے غریب عوام تک بھی پہنچ سکیں۔
~ مٹی کے تعویز بنا کے
نام وطن کا گلے لگا کے
ہر مشکل سے ہاتھ چھڑا کے
تیرے سارے خواب بچا کے
بس اتنا کہنے آئے ہیں
شکریہ پاکستان پاکستان شکریہ!
اس مٹی کو ہاتھ لگا کے
ماتھے پہ یہ خاک لگا کے!
رکھا دل کے ساتھ لگا کے
نام سے پہلے “پاک” لگا کے
بس اتنا کہنے آئے ہیں
شکریہ پاکستان پاکستان شکریہ
مسکرا پاکستان پاکستان شکریہ !