0

موسمِ زیتون۔۔۔۔ خون ، خاک اور صبر /تحریر/ضیاء چترالی

موسمِ زیتون… خون، خاک اور صبر/تحریر/ضیاء چترالی

زیتون اور فلسطین کا رشتہ صدیوں نہیں ہزاروں برسوں پر محیط ہے۔ یہ دو نام محض جغرافیائی مفہوم نہیں، بلکہ وجود کے دو پہلو ہیں۔ ایک کا ذکر آتے ہی دوسرے کی خوشبو دل کی آنکھوں میں اُترتی ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے بھی پہلے زیتون کے درخت فلسطینی وادیوں کی مٹی میں رقصاں تھے اور آج بھی وہی درخت اس سرزمین کی گواہی دیتے ہیں۔ یہاں ایک زیتون کا درخت بھی ہے، جس کی عمر ساڑھے چار ہزار برس بتائی جاتی ہے۔ یعنی وہ اُس زمانے کا درخت جب حضرت ابراہیم علیہ السلام ابھی عراق سے ارض مقدس پر قدم رنجہ ہوئے تھے۔ وہ آج بھی اسی طرح تروتازہ کھڑا ہے، پھل سے بھرا ہوا اور اس کے پتوں پر تاریخ کی گرد نہیں، ایمان کی روشنی ہے۔
محمود درویش نے کہا تھا:
“يا زيتونةَ الوطن لا تذبلي، ففي ظلّك تستريح أرواح الشهداء، وتحيا ذاكرة الأرض التي لا تموت.”
“اے وطن کے زیتون! تو کبھی مرجھا نہ جانا، کہ تیری چھاؤں میں شہیدوں کی روحیں سکون پاتی ہیں اور تیری مٹی میں اُس سرزمین کی یاد زندہ ہے جو کبھی نہیں مرتی۔”
زیتون فلسطین کی جاودانی روح، شہادت کی خوشبو اور زمین کی ابدی یاد کا استعارہ بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطینی رومال “کفیہ” پر زیتون کی شاخوں کی کڑہائی ہوتی ہے۔
جب اکتوبر کی خنک ہوا بیت اللحم کے پہاڑوں اور نابلس کی وادیوں سے گزرتی ہے، تو اس کے ساتھ زیتون کے درختوں کی خوشبو بھی لے کر آتی ہے، وہ خوشبو جو صدیاں گزرنے کے باوجود اہلِ فلسطین کے رزق، ان کی نسبت اور ان کے صبر کی سمبل بنا ہوا ہے۔ مگر رواں برس کا موسمِ زیتون ایک بار پھر خون اور راکھ کے سائے میں ڈوبا ہوا ہے۔ کھیت وہی ہیں، درخت وہی، مگر ان کے گرد اب بندوقوں کے دہانے، آنسو گیس کے بادل اور بچوں کی چہک کے بجائے فائرنگ کی کھنک موجود ہے۔ وہی بچے جو کبھی اپنے دادا کے ساتھ مل کر زیتون چُنا کرتے تھے، آج اپنے باپ کا نیم جان اجسام اٹھا رہے ہیں۔ اس سال کا موسمِ زیتون محض زراعت نہیں، بلکہ مزاحمت کی ایک علامت بن چکا ہے، ایک ایسا جــہاد جو زمین کے ساتھ انسان کے تعلق کو محفوظ رکھنے کے لیے لڑا جا رہا ہے۔
زیتون چنائی، قومی تہوار سے محاذِ جنگ تک:
قطف زیتون فلسطین کا سب سے بڑا قومی، معاشی اور ثقافتی موسم ہے۔ ہر سال ہزاروں خاندان اس موسم کا انتظار کرتے ہیں، بچے اسکول سے چھٹی کا خواب دیکھتے ہیں، بزرگ گھروں کی چکیوں کو گرم رکھتے ہیں اور چنائی کے دن بازار کی رونق بڑھ جاتی ہے۔ مگر رواں برس کی شروعات سے ہی یہ موسم بدل کر ایک میدانِ جنگ بن گیا ہے، قابض اسرائیلی فوج اور مسلح آبادکاروں نے زیتون کے کھیتوں کو محاصرہ کے احاطے میں تبدیل کر دیا ہے۔ چند ہفتوں میں، انسانی ریزگار کا سایہ زمین سے اٹھ کر فائرنگ کی لکیروں میں بدل گیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق، گزشتہ ہفتے ہفتہ کی شام 19 فلسطینی گرفتار کیے گئے، جبکہ متعدد علاقوں میں جھڑپیں بھڑک اٹھیں۔ ان کے ساتھ ہی موسمِ زیتون کے ساتھ جڑے مزارعین پر حملے تیز ہو گئے، زیتون چننا محض کسانوں کی محنت نہیں، بلکہ زمین سے جنم لینے والی ایک قوم کی بقا کا سوال بن گیا ہے۔
فلسطين ٹی وی نے اطلاع دی ہے کہ بیت لحم کے مغربی قصبے حوسان کے قریب عین الهوية کے علاقے میں فوج نے 15 سے زائد مزدوروں کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ اسرائیل میں کام کے لیے داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ شمالی الضفة میں طوباس میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے دو بچے (15 سالہ) اور ایک نوجوان (18 سالہ) شدید زخمی ہوئے، دونوں کو براہ راست گولی ماری گئی، ان کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔ قصبہ مركة (جنوبی جنین) کے قریب، فوج نے چار افراد کو گرفتار کیا جن میں ایک مبینہ مطلوب بھی شامل تھا۔ دوسری جانب آبادکاروں نے زیتون کے کھیتوں پر اپنے حملے بڑھا دیئے ہیں۔ زیتون کے درخت کاٹے جا رہے ہیں اور باغات کو جلایا جا رہا ہے۔ ایک ضعیف خاتون کو رات کے وقت آبادکاروں اور فوج نے زیتون چننے کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے پکڑ کر مارا پیٹا گیا، مگر وہ پھر بھی کھڑی رہی اور بولی: “ہمارے جسموں سے زمین چھین لو گے؟ زیتون ہمارے خون میں اگتا ہے!”
زیتون کی معیشت، رزق سے زیادہ
فلسطین کی مٹی 8 لاکھ 20 ہزار دونم اراضی پر زیتون کے درختوں کو سنبھالا ہوا ہے۔ ان زمینوں میں 11 ملین سے زائد زیتون کے درخت ہیں، جن میں سے کئی کی عمر 1500 سال سے بھی زیادہ ہے۔ یہ درخت ہر سال تقریباً 7 سے 8 ہزار ٹن تیل دیتے ہیں (اچھے موسموں میں یہ 22 ہزار ٹن تک پہنچ جاتا ہے) جس کی مالیت تقریباً 140 ملین امریکی ڈالر ہے۔ یہ فصل معاش کے ساتھ ساتھ ثقافت، یاد اور شناخت کا حصہ ہے۔ فلسطینی اسے ’’رزقِ طیب‘‘ کہتے ہیں، صرف کھانے پینے کا سامان نہیں، خیال کی زنجیر، نسلوں کی کہانی، زمین کی محبت اور آزادی کی علامت۔ مگر اس سال موسم کی حالت “شلتونی” قرار دی گئی ہے، یعنی پیداوار گزشتہ عشروں کے نصف سے بھی کم رہ گئی ہے۔
زمین پر قبضے کا نیا ہتھیار
زیتون کے درخت ایک سند ہیں، ایک شاہد ہیں کہ یہ لوگ اس زمین پر ہزاروں برس سے بستے ہیں۔ اس لیے قابض قوتیں ان درختوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ زیتون کے کھیتوں کے قریب 114 نئی بستیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن کے اردگرد رہنے والوں نے مظالم، دھوکے اور زبردستی قبضے کی کہانی بیان کی ہے۔ پچھلے دو برسوں میں 33 فلسطینی دیہات خالی کروائے گئے اور فلسطینیوں 7154 حملے ریکارڈ کیے گئے۔ حملہ آور آبادکار اور دجالی فوج نے زیتون کے موسم کو “خطرناک” قرار دیا ہے اور کسانوں کی نقل و حرکت پر بے جا پابندیاں عاید کر رکھی ہیں۔ یوں فلسطینی کسانوں کو ان کی فصل سے دستبردار کرانے کی کوشش عروج پر ہے۔
اس وقت فلسطینی کسان مزدوری نہیں، بلکہ جنگ کے محاذ پر کھڑے ہیں۔ گزشتہ ہفتے 19 فلسطینی گرفتار اور متعدد نوجوان زخمی ہوئے اور زیتون کے میدان فوجی اور آبادکاروں کے محاصرے میں آ گئے ہیں۔ بیت لحم کے مزارعین کو اپنی زمین تک جانے سے روکا جا رہا ہے اور جو کسی طرح زیتون چننے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، ان سے ٹوکریاں چھینی جاتی ہیں۔ یہ کارروائیاں محض سیکورٹی کا حصہ نہیں، یہ فصل، معاش اور نسل کشی کے پسِ پردہ مقاصد کا حصہ ہیں۔ کسان صرف زیتون نہیں چن رہے بلکہ مزاحمت کی جڑیں فروغ دے رہے ہیں۔
خواتین محاذِ اول پر
ایک فلسطینی بزرگ خاتون نے ثابت کیا کہ مزاحمت کا مطلب صرف مردوں کی مارپیٹ نہیں، بلکہ زمین کی محبت کا اظہار ہے۔ اس نے زیتون چننے کی کوشش کی اور تشدد کا نشانہ بننے کے بعد بھی زمین سے نہ ہٹی۔ اس نے کہا: “ہمارے جسموں سے زمین چھین لو گے؟ زیتون ہمارے خون میں اگتا ہے!” یہ جذبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ زیتون محض پھل نہیں، وہ تاریخ، وجود اور امید کا تعلق ہے۔
ایک دن ابو فاروق کے ساتھ
جنین کی بستی “جبع” میں ابو فاروق جب صبح نو بجتے ہیں تو چھوٹے باغ کی طرف چل پڑتے ہیں۔ پانچ دونم زمین، گیارہ افراد، ایک امید: فصل کی لٹری۔ دادا نے بیٹے سے کہا: “زیتون کی خوشبو جنت کی خوشبو ہے اور یہ درخت ہماری تاریخ کا گواہ ہے۔”
بیٹی ٹوکری اٹھائے، پتے سنبھالے اور دادا نے نظم گنگنایا:
“يا زيتونَ العماير.. لِجدادِك أنا ساير”
“اے زیتون کے درخت! میں تیرے بزرگوں (یعنی درختوں) کے نقشِ قدم پر گامزن ہوں۔”
زیتون، آنسو اور امید
آج فلسطین کی وادیوں میں زیتون کے پتوں کے درمیان آنسو بھی گرتے ہیں، مگر یہ کمزوری کے آنسو نہیں، یہ تجدیدِ عہد کے آنسو ہیں۔ ہر دانہ، ہر پتہ، ہر شاخ اس بات کی علامت ہے کہ یہ زمین صبر کرتی ہے، مزاحمت کرتی ہے اور زندہ رہتی ہے۔ شاعرِ فلسطین محمود درویش نے کہا تھا:
“على هذه الأرض ما يستحق الحياة… زيتونة لا تنتهي، وأمّ تحرس ابنها الشهيد.”
“اس سرزمین پر وہ سب کچھ ہے جو زندگی کے قابل بناتا ہے… ایک زیتون کا درخت جو کبھی مرجھاتا نہیں اور ایک ماں جو اپنے شہید بیٹے کی رکھوالی کر رہی ہے۔”
فلسطینیوں کے لیے زیتون چننا صرف تیار فصل کا حصول نہیں، یہ تاریخ کو زندہ رکھنے کی عبادت ہے۔ اور شاید یہی فلسفہ ان کے صبر کا راز ہے کہ جب زمین جلتی ہے، وہ نئے بیج بوتے ہیں، جب درخت اکھاڑے جاتے ہیں، وہ نئے پودے لگاتے ہیں اور جب دنیا خاموش رہتی ہے تو وہ آسمان کی طرف دیکھ کر کہتے ہیں:
“ہمارا زیتون زندہ ہے اور ہم ابھی زندہ ہیں۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں