گزشتہ قسط میں خانپور کی علمی و روحانی ساعتوں، اکابرینِ علم و فضل کی محبتوں اور جامعہ عبداللہ بن مسعود و جامعہ امداد العلوم کی مبارک نسبتوں کا تذکرہ نذرِ قارئین کیا جا چکا ہے۔ انہی بابرکت لمحات کے تسلسل میں،اکابرین کی دعاؤں اور اجازت کے ساتھ ہمارا قافلہ اُس تاریخی اور روحانی بستی کی جانب رواں ہوا جس کا نام برصغیر کی علمی، اصلاحی اور خانقاہی تاریخ میں نہایت احترام اور عقیدت کے ساتھ لیا جاتا ہے؛ یعنی دین پور شریف۔
دین پور شریف محض ایک بستی یا قصبہ نہیں بلکہ اکابرینِ امت کی یادوں، اولیائے کرام کے فیوض، علمائے ربانیین کی خدمات اور اہلِ اللہ کی روحانی نسبتوں کا ایک زندہ مرکز ہے۔ یہی وہ سرزمین ہے جہاں سلسلۂ عالیہ قادریہ راشدیہ کے انوار آج بھی اہل حق کے دلوں کو منور کرتے ہیں، یہی وہ خطہ ہے جو حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ جیسے عظیم مصلح اور مجددِ وقت کی نسبت سے بھی ممتاز مقام رکھتا ہے، اور یہی وہ بستی ہے جس کی فضاؤں میں آج بھی اکابرین کے قدموں کی چاپ محسوس ہوتی ہے۔
دین پور شریف پہنچتے ہی ہماری پہلی حاضری اُس تاریخی قبرستان میں ہوئی جو حقیقت میں اہلِ دل کے لیے ایک خاموش درسگاہ اور مشتاقانِ علم کے لیے ایک زندہ تاریخ ہے۔ یہ کوئی عام قبرستان نہیں بلکہ ایسی عظیم شخصیات کا آرام گاہ ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں دینِ اسلام کی اشاعت، علومِ نبوت کی خدمت اور امت کی اصلاح میں صرف کر دیں۔
ہم نے عقیدت و احترام کے ساتھ اُن مقدس مزارات پر حاضری دی جہاں حضرت مولانا خلیفہ غلام محمد رحمہ اللہ، حضرت میاں سراج احمد دین پوری رحمہ اللہ، حضرت مولانا عبید اللہ سندھی رحمہ اللہ،حضرت مولانا زبیر احمد دین پوری رحمہ اللہ ،حضرت مولانا لال حسین اختر رحمہ اللہ، حضرت مولانا عبداللہ درخواستی رحمہ اللہ، حضرت مولانا عبد الشکور دین پوری رحمہ اللہ،حضرت مولانا لقمان علی پوری رحمہ اللہ، حضرت میاں ریاض احمد دین پوری رحمہ اللہ، حضرت میاں فاروق احمد دین پوری رحمہ اللہ، حضرت مولانا فدا الرحمان درخواستی رحمہ اللہ اور دیگر بے شمار جید علماء، مشائخ اور مردانِ حق آسودۂ خاک ہیں۔
ان عظیم ہستیوں میں سے ہر ایک اپنی ذات میں ایک انجمن، ایک تحریک اور ایک تاریخ ہے۔ اگر ان کے علمی، دینی اور اصلاحی کارناموں کا تذکرہ کیا جائے تو صفحات کم پڑ جائیں اور الفاظ ساتھ چھوڑ دیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ایسے رجالِ کار کی زندگیاں کتابوں میں نہیں، قوموں کی تقدیر میں لکھی جاتی ہیں۔
قبرستان کی خاموش فضاؤں میں کھڑے ہو کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وقت اپنی رفتار روک کر ماضی کی عظمتوں کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ان مزارات کے گرد پھیلی ہوئی سکون کی کیفیت، ہوا میں بسی روحانیت اور ہر سمت جھلکتی للہیت دل پر عجیب اثر چھوڑ رہی تھی۔ یہ وہ ہستیاں تھیں جنہوں نے اپنی زندگیاں شہرت کے لیے نہیں بلکہ رضائے الٰہی کے لیے بسر کیں، اسی لیے آج بھی ان کے فیوض کے چشمے جاری ہیں۔
یہی وہ سرزمین ہے جہاں حضرت مولانا عبید اللہ سندھی رحمہ اللہ کی ابتدائی علمی و فکری تربیت ہوئی۔ یہیں وہ تاریخی کمرہ آج بھی موجود ہے جہاں بیٹھ کر تحریکِ ریشمی رومال کے ابتدائی نقوش مرتب ہوئے اور جہاں سے برصغیر کی آزادی کی جدوجہد کا ایک درخشاں باب رقم ہوا۔ اس کمرے میں داخل ہوتے ہی ایک عجیب سی ہیبت، وقار اور تاریخی عظمت کا احساس دل پر طاری ہو جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دیواریں آج بھی اپنے اندر اُس دور کی داستانیں محفوظ کیے ہوئے ہیں۔
قبرستان سے فراغت کے بعد ہم دین پور شریف کے عظیم دینی مرکز کی جانب روانہ ہوئے۔ مغرب کی نماز کا وقت قریب تھا۔ مدرسہ کی عمارت، اس کا ماحول، اس کی سادگی اور اس کی روحانی فضا دیکھ کر دل بے اختیار اکابرین کی یادوں میں کھو گیا۔ یہاں کی فضا میں تصنع نہیں تھا، بلکہ اخلاص کی خوشبو تھی؛ یہاں نمود و نمائش نہیں تھی بلکہ للہیت کی چمک تھی؛ یہاں دنیاوی جاہ و حشمت نہیں تھی بلکہ اکابرین کے نقشِ قدم کی برکت تھی۔
نمازِ مغرب کی ادائیگی کے بعد راقم اور سفیرِ نعت، بانی و چیئرمین پاکستان نعت کونسل، حافظ فیصل بلال حسان صاحب دامت برکاتہم العالیہ کو حضرت میاں مسعود احمد دین پوری دامت برکاتہم العالیہ کی خدمت میں حاضر ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔
حضرت والا کی مجلس میں قدم رکھتے ہی دل پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوگئی۔ چہرے پر وقارِ سلف، گفتگو میں حکمتِ اکابر، مزاج میں شفقت اور نشست و برخاست میں خانقاہی عظمت جھلک رہی تھی۔ بلاشبہ حضرت میاں مسعود احمد دین پوری دامت برکاتہم العالیہ اپنے اسلاف کی علمی و روحانی امانت کے حقیقی امین محسوس ہوتے ہیں۔
حافظ فیصل بلال حسان صاحب نے حضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کے برادران کے وصال پر تعزیت پیش کی۔ حضرت نے نہایت شفقت اور محبت کے ساتھ گفتگو فرمائی۔ دورانِ مجلس حضرت نے ہمارے استاذِ مکرم سید سلمان گیلانی رحمہ اللہ کا تذکرہ فرمایا اور ان کے انتقال پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے دعائے مغفرت کی۔
اسی موقع پر حافظ فیصل بلال حسان صاحب نے راقم کا تعارف بھی حضرت کی خدمت میں کروایا۔ حضرت نے نہایت شفقت، محبت اور دعاؤں سے نوازا۔ اہلِ اللہ کی مجالس میں چند لمحوں کی حاضری بھی بعض اوقات برسوں کے مطالعے سے بڑھ کر اثر رکھتی ہے، اور یہ مجلس بھی انہی یادگار ساعتوں میں سے ایک تھی۔
مجلس سے فراغت کے بعد ہم دوبارہ اُس تاریخی مقام کی جانب گئے جہاں تحریکِ ریشمی رومال کے ابتدائی نقوش مرتب ہوئے تھے۔ شام کی مدھم روشنی، خاموش فضائیں اور تاریخ کے ان مقدس آثار کو دیکھ کر دل بار بار اس حقیقت کی طرف متوجہ ہو رہا تھا کہ امتوں کی تقدیر بدلنے والے لوگ ہمیشہ سادہ کمروں، خاموش بستیوں اور اخلاص سے بھرپور دلوں میں جنم لیتے ہیں۔
بعد ازاں ہمیں لنگر خانے میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی جہاں برکت کے طور پر لنگر تناول کیا۔ وہ سادہ سا کھانا، مگر محبتوں اور دعاؤں سے بھرپور، آج بھی یادوں میں تازہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اہلِ اللہ کے آستانوں کا لنگر صرف جسم کی غذا نہیں بلکہ روح کی توانائی بھی بن جاتا ہے۔
دین پور شریف کی گلیوں میں چلتے ہوئے بارہا یہ احساس ہوتا تھا کہ یہاں آج بھی اکابرین کی سادگی زندہ ہے۔ کچی بستیاں، سادہ مکانات، بے تکلف ماحول، پرخلوص لوگ اور بزرگوں کے اندازِ زندگی کی جھلک ہر طرف دکھائی دیتی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ بستی جدید زمانے کے شور میں بھی اپنے اسلاف کی امانت کو پوری دیانت داری کے ساتھ محفوظ کیے ہوئے ہے۔
دین پور شریف کی یہ حاضری ہمارے اس جماعتی سفر کا ایک ایسا باب بن گئی جس میں تاریخ بھی تھی، روحانیت بھی، اکابرین کی نسبتیں بھی تھیں اور اہلِ اللہ کی دعائیں بھی۔
تاہم سفر کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔
دین پور شریف کی پُرنور ساعتوں کے بعد ہمارا قافلہ ظاہر پیر کی جانب روانہ ہوا، جہاں ایک اور عظیم علمی و روحانی شخصیت سے ملاقات مقدر بننی۔ اس ملاقات کی تفصیل، وہاں کی کیفیات اور آئندہ سفر کی روداد ان شاء اللہ سفرنامے کی اگلی قسط میں نذرِ قارئین کی جائے گی۔