جب زمین کا قدرتی توازن بگڑتا ہے تو اس کا سب سے پہلا اور بڑا وار انسان کی بنیادی ضرورت یعنی خوراک پر ہوتا ہے۔ آج ماحولیاتی تبدیلیاں محض موسم کی گرمی یا سردی کا مسئلہ نہیں رہیں، بلکہ یہ ہمارے دسترخوان تک پہنچنے والے غلے کو براہِ راست نگل رہی ہیں۔ موسموں کا شدت اختیار کرنا، شہروں کا بارشوں میں ڈوب جانا اور زرعی سیزن کا الٹ جانا، یہ سب ایسے عوامل ہیں جو دنیا کو ایک خاموش قحط کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
ہمارا روایتی زرعی نظام ایک مخصوص وقت کے حساب سے چلتا تھا لیکن اب موسمیاتی بے قاعدگیوں نے اس پوری ترتیب کو توڑ دیا ہے۔ گندم، چاول اور دیگر فصلیں اپنے مقررہ درجہ حرارت چاہتی ہیں مگر بے وقت کی شدید گرمی اور ہیٹ ویو فصلوں کا دانہ وقت سے پہلے پچکا دیتی ہیں جس سے فی ایکڑ پیداوار میں زبردست کمی ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف خشک سالی زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو ختم کر رہی ہے اور اچانک آنے والی طوفان نما بارشیں زرخیز مٹی کو بہا کر لے جاتی ہیں جس سے زمین بنجر ہونے لگتی ہے۔
اس پورے بحران کا ایک اور خطرناک رخ اربن فلڈنگ یا شہروں کا پانی میں ڈوبنا ہے۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ فصلیں دیہات میں اگتی ہیں تو شہری سیلاب کا غذائی تحفظ سے کیا تعلق؟ مگر حقیقت یہ ہے کہ جدید دور میں خوراک کی ترسیل کا سارا نظام سڑکوں اور منڈیوں پر منحصر ہے۔ جب بڑے شہروں میں سیلابی پانی جمع ہوتا ہے تو دیہات سے آنے والا غلہ راستے میں ہی رک جاتا ہے۔ شہروں کے اندر موجود غلے کے بڑے گودام اور کولڈ اسٹوریج پانی میں ڈوب جاتے ہیں، لاکھوں ٹن اناج سڑ جاتا ہے اور مارکیٹ میں مصنوعی یا حقیقی مہنگائی کا طوفان اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔
اسی طرح زرعی سیزن کا توازن خراب ہونے سے کسان پریشان ہیں۔ بارشیں وقت پر نہیں آتیں اور جب برسات کا موسم گزر جاتا ہے تب طوفانی بارشیں ہوتی ہیں، جس سے بیج گل جاتے ہیں۔ اس بدلتے ہوئے موسم کی وجہ سے نئی اور خطرناک بیماریاں اور کیڑے فصلوں پر حملہ آور ہو رہے ہیں جو دیکھتے ہی دیکھتے پوری فصل چٹ کر جاتے ہیں۔
اس سنگین صورتحال سے نکلنے کے لیے حکومت اور کسانوں کو فوری طور پر ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو موسمیاتی شدت کا مقابلہ کر سکیں۔ ہمیں ایسی فصلیں اور بیج اگانا ہوں گے جو زیادہ گرمی اور کم پانی برداشت کر سکیں۔ شہروں میں پانی کی نکاسی کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ خوراک کی رسد کا سلسلہ کسی بھی صورت میں منقطع نہ ہو۔ اگر ہم نے آج اس خطرے کو سنجیدہ نہ لیا تو آنے والے وقت میں خوراک کی کمی انسانیت کے لیے ایک بہت بڑا المیہ بن جائے گی۔
0