نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
اقبال جوانوں کو شاہین کہتے ہیں۔ ترقی یافتہ قوموں کے ہاں جوان ایک مضبوط پاور سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی افادیت کسی پارس پتھر سے کم نہیں۔ قائد کہتے ہیں کہ
” پاکستان کا مستقبل، اس کی تقدیر اور امید جوانوں کے ہاتھ میں ہے”
یعنی یہ کہ ان بزرگوں کے جوانوں سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں۔ یقیناً وہ چاہتے تھے کہ ایسی ریاست تشکیل دی جائے جہاں جوان خون کو اپنے ہنر آزمانے کا موقع میسر آ سکے مگر حیف ہے کہ
جوان جوان تو سبھی کرتے ہیں جوانوں کے لیے کوئی کچھ نہیں کرتا۔
ہر انتخابی خوابوں کے رنگین موسم میں، ہر سیمینار و کانفرنس میں، ہر قومی دن اور اہم تقریب میں جوانوں کی افادیت، ان کے جذبوں اور صلاحیتوں کا خوب غلغلہ اٹھتا ہے۔ انہیں آنے والا کل کے پر کیف تعبیر بتایا جاتا ہے۔ اس نسل کو مستقبل کی امید اور خوابوں کی تعبیر کہا جاتا ہے مگر جب تقریروں کا شور تھمتا ہے۔ جب پالیسیاں بنانے کے لیے اہل حل و عقد میز سجاتے ہیں تو ان اوراق میں جوان نظر نہیں آتے کہ ان کے لیے کیا کچھ طے کرنا ہے۔
نوجوان نسل کو ہر طبقہ اپنے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور مستقبل کے سر سبز باغات دیکھانے، جھوٹی امیدیں اور وعدے کرنے کے بعد انہیں زندگی کے بھپرے سمندر کے عین درمیان میں جا کر تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اب یہاں سے اس جوان کو کیسے پار لگنا ہے، اس کے ساتھ زندگی کا بہتا سمندر کیا کرتا ہے، آیا وہ ڈوبتا ہے یا ساحل پہ پہنچتا ہے۔۔۔؟ اس سب سے ان لوگوں کو کچھ غرض نہیں ہے کیوں کہ ان کے مقاصد پورے ہو چکے ہوتے ہیں اب یہ نوجوان ان کے لیے ایک بوجھ سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔
پھر کہا جا سکتا ہے کہ جوان جوان تو سبھی کرتے ہیں مگر جوانوں کے لیے کوئی کچھ نہیں کرتا
وطن عزیز ان ممالک میں شامل ہے جن کے پاس جوانوں کی شکل میں ایک مضبوط کھیپ اور قیمتی اثاثہ موجود ہے۔ پاکستان میں تقریباً 64 فیصد آبادی تیس سال سے کم عمر جوانوں کی ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو دنیا کے جوان ترین ممالک میں شامل کیا جاتا ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پندرہ سے چوبیس سال کے جوانوں میں بیروزگاری کی شرح 12.6 فیصد ہے۔
یعنی یہ کہ پاکستان کے پاس ایک بڑا اثاثہ موجود ہے مگر اس سے خاطر خواہ فائدہ حاصل نہ تو کیا جا رہا اور نہ ہی اس کے لیے کچھ اقدامات ٹھوس بنیادوں پر کیے گئے۔ اگر یہ نوجوان نسل درست سمت پہ چل پڑے اور اپنی صلاحیتوں کو ٹھیک جگہ پہ لگانا شروع کر دے تو بہت جلد ملک کی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں مگر افسوس یہ ہے کہ نوجوان صرف تقریروں،انتخابی جلسوں اور منشور کا ہی موضوع رہتے ہیں۔
اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ جوان جوان تو سبھی کرتے ہیں مگر جوانوں کے لیے کوئی کچھ نہیں کرتا۔
آج کے دور میں تعلیمی حالت زار سب پہ عیاں ہیں۔ ایک والد اپنی ساری جمع پونجی اولاد پہ اس لیے نچھاور کر دیتا ہے کہ وہ مستقبل میں اس کا سہارا بنے گا۔ اگر کمر جھکی یا ہاتھوں میں رعشہ آیا تو کوئی سہارا موجود ہوگا مگر اس والد کے تمام خواب اس وقت چکنا چور ہو جاتے ہیں جب اس کا جوان بیٹا کمانے کے لائق نہیں رہتا۔ اس والد کی امیدیں اس وقت ٹوٹ جاتی ہیں جب اس کا کڑیل جوان ملازمت کے حصول کے لیے روز روز کے ٹیسٹ، انٹرویو اور دفتروں کے چکر لگاتے لگاتے اپنی عمر گزار بیٹھتا ہے۔ اس وقت وہ جوان بھی شدید ذہنی کوفت اور اذیت سے گزر رہا ہوتا ہے۔زندگی کے دکھ یتیم بچہ، بد صورت عورت اور ایک بیروزگار جوان ہی سمجھ سکتا ہے۔ وہ چاہ کر بھی خاندان کی امیدیں پوری نہیں کر پاتا۔ وہ جوان مسلسل ایک کرب سے گزر رہا ہوتا ہے۔ اس کے قلب و جگر میں ایک آگ لگی ہوتی ہے جسے دنیا دیکھنے سے عاجز ہے ۔
لہذا کہا جا سکتا کہ
جوان جوان تو سبھی کرتے ہیں مگر جوانوں کے لیے کوئی کچھ نہیں کرتا۔
آج کا جوان ڈگریوں کے پلندے اٹھائے پھر رہا ہے مگر اس کے باوجود بھی وہ مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت میں مبتلا ہے۔ ایک جوان سولہ سے اٹھارہ سال زندگی کے بہتر ایام پڑھائی میں صرف کرتا ہے، وقت اور پیسہ خرچ کرتا ہے، حالات کو جھیلتا ہے اس امید پہ کہ یہاں سے فراغت کے بعد ایک اچھے مستقبل کی شروعات ہو سکے گی مگر یہ سب اس کا ایک خواب ہی رہتا ہے۔ آج بھی پاکستان میں کتنے نوجوان ایسے ہیں جو اعلی تعلیم کی ڈگریاں اٹھائے پھر رہے ہیں مگر بیروزگاری کے سوا انہیں کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ انہوں نے جو کچھ سوچ کر تعلیمی کیرئر شروع کیا تھا اس کی توقعات یہ نظام پوری نہیں کر پا رہا۔ خالی جیب کے ساتھ نوجوان کو گھر، خاندان اور معاشرے کی بھی تیز نشتر اور تنقید کو جھیلنا پڑتا ہے یہ وہ کرب ہے جو بیان کرنا ممکن نہیں۔
لہذا کہا جا سکتا کہ
جوان جوان تو سبھی کرتے ہیں مگر جوانوں کے لیے کوئی کچھ نہیں کرتا
ہمارے ہاں جوانوں کے لیے نہ تو خاطر خواہ تحقیقی ادارے ہیں اور نہ ہی ملازمت کے وسیع مواقع۔ نہ جوانوں کے لیے کاروبار کی شروعات کے کوئی حکومتی اقدامات اور نہ ہی آسان قرضوں کی فراہمی کا کوئی شفاف نظام ہے۔ جوانوں کے پاس جوش و جذبے بھی موجود ہے، صلاحیتیں بھی موجود ہیں مگر انہیں نہ تو وہ ماحول ملتا اور نہ ہی سپورٹ کہ جہاں یہ صلاحتیں مزید پروان چڑھ سکیں۔ تحقیق کا دائرہ تنگ ہے تو کھیل کے میدان ویران، آرٹ اور فن کے اظہار کے مواقع اور نہ ہی فنی تعلیم کا وسیع انتظام اس سب کے باوجود نوجوان نسل کی صلاحیتیں منفی جگہوں پہ لگ رہی ہیں کیوں کہ جب مثبت مواقع میسر نہ آئیں گے تو پھر انہوں نے کہیں تو صرف ہونا ہی ہے۔ اس بے یقینی کیفیت میں ہزاروں کی تعداد میں باہر ممالک ہجرت کر رہے ہیں یہ ہجرت صرف انسانوں کی ہجرت نہیں بلکہ صلاحیتوں، اثاثے، خوابوں اور مستقبل کی بھی ہجرت ہے جس پہ کوئی ٹس سے مس نہیں رہا۔زبانی جمع خرچ کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کہ وہ اثاثہ جس سے غیر اقوام فائدہ اٹھا رہی ہیں کیسے ہم اس سے مستفید ہو کر ملکی ترقی میں انہیں معاون بنا سکتے
لہذا یہ کہنا ہرگز غلط نہیں کہ
جوان جوان تو سبھی کرتے ہیں مگر جوانوں کے لیے کوئی کچھ نہیں کرتا
لہذا اس میں ذمہ داری ریاست کے ساتھ ساتھ والدین کی بھی ہے کہ وہ نوجوان نسل کے مستقبل کے لیے بہتر منصوبہ بندی کریں۔انہیں صرف نمبروں کی میشن نہ سمجھیں بلکہ ان کی تخلیقی اور ذہنی صلاحیتوں کے مطابق انہیں ماحول فراہم کریں۔میڈیا کا کردار بھی اہم ہے کہ اس نسل کو فقط گلیمر، سنسنی خیزی اور وقتی شہرت کے قصوں کے بجائے علم، اختراع، تحقیق اور عملی کردار کو نمایاں کریں۔ ریاست کو بھی اب فقط نعرے بازی، وقتی پالیسیوں اور سبز باغات دکھانے کے بجائے جوانوں کے لیے ترجیحی بنیادوں پر دیر پا منصوبہ بندی کر کے عملی اقدامات کرنے چاہیے ورنہ تاریخ عالم میں یہی لکھا جائے گا اور دنیا بھر میں یہی تاثر قائم رہے گا کہ
ایک خطہ ایسا تھا جہاں اک بڑا اثاثہ موجود تھا مگر وہاں
جوان جوان تو سبھی کرتے تھے مگر جوانوں کے لیے کوئی کچھ نہ کرتا تھا