تاریخِ انسانیت میں کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جو وقت کی گرد میں کبھی گم نہیں ہوتے بلکہ ہر دور میں حق، صبر، استقامت اور قربانی کی علامت بن کر زندہ رہتے ہیں۔ امام حسینؓ کا کردار بھی ایسا ہی ایک درخشاں باب ہے جس نے ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے حق کی سربلندی کے لیے اپنی جان، اپنے اہلِ خانہ اور اپنے رفقاء تک کو قربان کر دیا، مگر باطل کے آگے بیعت کا ہاتھ نہ بڑھایا۔
جب یزید اقتدار پر قابض ہوا تو اس نے مدینہ منورہ میں موجود امام حسینؓ سے بیعت کا مطالبہ کیا۔ امام حسینؓ جانتے تھے کہ یزید کی حکومت اسلامی اصولوں اور عدل و انصاف سے دور جا چکی ہے، اس لیے آپؓ نے اس کی بیعت سے انکار کر دیا۔ حالات کی نزاکت کے پیشِ نظر آپؓ مدینہ سے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے تاکہ خونریزی سے بچا جا سکے اور امت کے حالات کا جائزہ لیا جا سکے۔
اسی دوران کوفہ کے لوگوں نے ہزاروں خطوط اور پیغامات کے ذریعے امام حسینؓ کو دعوت دی کہ آپؓ کوفہ تشریف لائیں، ہم آپؓ کا ساتھ دیں گے اور آپؓ کی قیادت میں حق کا علم بلند کریں گے۔ ان حالات کی حقیقت جاننے کے لیے امام حسینؓ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؓ کو کوفہ روانہ فرمایا۔ ابتدا میں اہلِ کوفہ نے حضرت مسلم بن عقیلؓ کا بھرپور استقبال کیا اور ہزاروں افراد نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی، مگر جب ظلم و جبر کا بازار گرم ہوا اور ابنِ زیاد نے دھمکیوں اور لالچ کے ذریعے لوگوں کو خوف زدہ کیا تو وہی لوگ حضرت مسلم بن عقیلؓ کا ساتھ چھوڑ گئے۔
تنہائی کے عالم میں حضرت مسلم بن عقیلؓ نے حق کا دامن نہ چھوڑا اور آخرکار جامِ شہادت نوش فرمایا۔ ان کی شہادت کی خبر امام حسینؓ تک راستے میں پہنچی، مگر آپؓ نے حق کے سفر کو ادھورا چھوڑنے کے بجائے اسے مکمل کرنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ آپؓ کا مقصد اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ دین کی اصل روح اور عدل و انصاف کی حفاظت کرنا تھا۔
محرم الحرام کی دوسری تاریخ کو امام حسینؓ کا قافلہ کربلا کے میدان میں پہنچا۔ چند ہی دنوں بعد یزیدی لشکر نے فرات کا پانی بند کر دیا۔ معصوم بچوں کی پیاس، خواتین کی بے بسی اور رفقاء کی قربانیاں تاریخ کا ایسا دردناک منظر ہیں جنہیں یاد کر کے آج بھی آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔
دس محرم الحرام کا سورج طلوع ہوا تو امام حسینؓ کے جانثار ساتھی ایک ایک کر کے میدان میں اترتے رہے اور حق کی خاطر اپنی جانیں قربان کرتے رہے۔ آخر میں امام حسینؓ نے بھی شجاعت، صبر اور استقامت کی ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر تاریخ میں کم ملتی ہے۔ آپؓ نے اپنی جان قربان کر دی مگر ظلم کے سامنے سر نہ جھکایا اور یوں کربلا کا میدان رہتی دنیا تک حق اور باطل کے درمیان فرق کی علامت بن گیا۔
حسینی کردار ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ حق کا راستہ اگرچہ مشکل اور آزمائشوں سے بھرپور ہو، مگر ایک سچا مسلمان کبھی ظلم، ناانصافی اور باطل کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالتا۔ امام حسینؓ نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا کہ عزت کی موت، ذلت کی زندگی سے کہیں بہتر ہے۔
آج بھی جب دنیا میں حق اور باطل کی کشمکش جاری ہے تو حسینی کردار انسانیت کو صبر، استقامت، جرات اور سچائی کا درس دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک فکر، ایک پیغام اور ایک لازوال تحریک کا نام ہے جو قیامت تک زندہ رہے گی۔
ہمیں چاہیے کہ ہم حسینی بنیں اور دین کی حفاظت و پاسبانی کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی سے گریز نہ کریں۔
0