Rana Asad Minhas 0

سرکاری اداروں میں نوجوانوں کو آگے کیوں نہیں آنے دیا جاتا؟/تحریر/رانا اسد منہاس

نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ یہ جملہ ہم نے اتنی بار سنا ہے کہ اب یہ محض ایک نعرہ محسوس ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر نوجوان واقعی قوم کا مستقبل ہیں تو کیا انہیں حال میں بھی کوئی جگہ دی گئی ہے؟ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ کسی بھی ملک کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ یہی نوجوان مستقبل کے سائنس دان، منتظم، بیوروکریٹ، سیاست دان، انجینئر، صحافی، ڈاکٹر اور صنعت کار بنتے ہیں۔ اگر انہیں بروقت مواقع، رہنمائی اور اعتماد دیا جائے تو وہ ملک کو ترقی کی نئی منزلوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس اگر ان کی صلاحیتوں کو نظر انداز کیا جائے، انہیں فیصلہ سازی سے دور رکھا جائے اور تجربے کے نام پر ہمیشہ انتظار کرنے پر مجبور کیا جائے تو اس کا نقصان صرف نوجوانوں کو نہیں بلکہ پورے ملک کو اٹھانا پڑتا ہے۔پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوان آبادی کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ آبادی کا بڑا حصہ تیس سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جو کسی بھی ملک کی معیشت، صنعت، سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم اور حکمرانی کو نئی سمت دے سکتی ہے۔اس لحاظ سے پاکستان کو ایک “یوتھ پاور” سمجھا جانا چاہیے۔لیکن بدقسمتی سے سرکاری اداروں میں نوجوانوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اعلیٰ عہدوں، پالیسی سازی، انتظامی فیصلوں اور اہم ذمہ داریوں میں زیادہ تر وہی افراد نظر آتے ہیں جو کئی دہائیوں سے نظام کا حصہ ہیں، جبکہ نوجوانوں کو اکثر یہ کہہ کر پیچھے رکھا جاتا ہے کہ ان کے پاس تجربہ نہیں۔یوں لگتا ہے جیسے ہمارے اداروں میں قابلیت کا معیار عمر نہیں بلکہ سروس کے سال ہیں۔ حالانکہ دنیا اس سوچ سے بہت آگے نکل چکی ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ تجربہ کب حاصل ہوگا اگر نوجوانوں کو ذمہ داری ہی نہ دی جائے؟پاکستان میں اکثر سرکاری اداروں میں ترقی کا نظام انتہائی سست ہے۔ ایک قابل اور تعلیم یافتہ نوجوان سرکاری ملازمت میں آنے کے بعد کئی سال تک معمولی ذمہ داریوں تک محدود رہتا ہے۔ اس دوران اس کے نئے خیالات، توانائی اور جدید ٹیکنالوجی سے واقفیت سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بہت سے باصلاحیت نوجوان یا تو نجی شعبے کا رخ کرتے ہیں یا پھر بہتر مواقع کی تلاش میں بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ہر سال ہزاروں ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین اور سائنس دانوں کی صورت میں “برین ڈرین” کا سامنا کرتا ہے۔ پاکستان میں اس صورتحال کی بہت سی وجوہات ہیں۔ سرکاری اداروں میں نوجوانوں کو آگے نہ آنے دینے کی ایک بڑی وجہ سینئرٹی کلچر بھی ہے۔ ہمارے ہاں اکثر اداروں میں قابلیت، کارکردگی اور جدید سوچ کے بجائے صرف ملازمت کے سالوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اگر کوئی نوجوان اپنی قابلیت سے بہتر تجاویز پیش کرے تو بعض اوقات اسے یہ کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے کہ ابھی آپ نئے ہیں، پہلے تجربہ حاصل کریں۔ اس رویے سے نہ صرف نوجوانوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے بلکہ ادارے بھی جدید سوچ سے محروم رہ جاتے ہیں۔دوسری وجہ سفارش، اقربا پروری اور سیاسی مداخلت ہے۔ جب تقرریاں اور ترقیاں میرٹ کے بجائے تعلقات کی بنیاد پر ہونے لگیں تو محنت، قابلیت اور تعلیم کی اہمیت خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں نوجوان صرف ملازمت تو حاصل کر لیتا ہے، لیکن اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع نہیں پاتا۔تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے اداروں میں جدید تربیت اور لیڈرشپ پروگراموں کی شدید کمی ہے۔ نوجوان افسران کو وہ ماحول نہیں ملتا جہاں وہ اپنی انتظامی صلاحیتیں بہتر بنا سکیں یا پالیسی سازی کا حصہ بن سکیں۔

اس کے برعکس اگر ہم دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی بات کریں تو ان ممالک نے نوجوانوں پر اعتماد کیا اور اس کے مثبت نتائج حاصل کیے۔ سنگاپور نے اپنی آزادی کے بعد نوجوان اور ذہین افراد کو سرکاری نظام کا حصہ بنایا۔ انہیں بہترین تربیت دی گئی، بیرون ملک بھیجا گیا، جدید انتظامی مہارتیں سکھائی گئیں اور کم عمری میں ہی اہم ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چند دہائیوں میں ایک چھوٹا سا جزیرہ دنیا کی مضبوط معیشتوں میں شامل ہو گیا۔ اسی طرح فن لینڈ میں نوجوانوں کی رائے کو صرف سنا نہیں جاتا بلکہ قومی پالیسیوں میں شامل بھی کیا جاتا ہے۔ وہاں تعلیم اور تحقیق پر سرمایہ کاری کی جاتی ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ قومیں صرف عمارتوں سے نہیں بلکہ ذہنوں سے ترقی کرتی ہیں۔ واضح رہے کہ جنوبی کوریا وہ ملک ہے جس نے جنگوں اور غربت سے نکل کر دنیا کی صف اول کی معیشتوں میں جگہ بنائی۔ اس کامیابی کے پیچھے نوجوان انجینئرز، سائنس دان، محققین اور منتظمین کی محنت شامل ہے، جنہیں حکومت نے اعتماد، وسائل اور مواقع فراہم کیے۔ اگر ترقی یافتہ ممالک کی بات کریں تو متحدہ عرب امارات کا نام ذہن میں آتا ہے وہاں بھی نوجوانوں کے لیے الگ وزارت قائم کی گئیں۔ نوجوانوں کو حکومتی منصوبوں، ڈیجیٹل اصلاحات اور مستقبل کی منصوبہ بندی میں شامل کیا گیا۔ آج یہی ملک جدید طرز حکمرانی اور تیز رفتار ترقی کی مثال بن چکا ہے۔

یہ بات یاد رکھیں کہ یہ ممالک اس لیے کامیاب نہیں ہوئے کہ ان کے پاس ہم سے زیادہ وسائل تھے، بلکہ اس لیے کہ انہوں نے اپنے نوجوانوں پر اعتماد کیا۔ انہوں نے تجربے اور نوجوانی کو ایک دوسرے کا مخالف نہیں بلکہ ساتھی سمجھا۔پاکستان کو بھی اب یہی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ سرکاری اداروں میں ایسی اصلاحات کی ضرورت ہے جن میں میرٹ کو اولین ترجیح دی جائے، نوجوان افسران کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے، ترقی کا نظام صرف سینئرٹی کے بجائے کارکردگی سے جوڑا جائے اور جدید ٹیکنالوجی سے واقف نوجوانوں کو اصلاحات کی قیادت دی جائے۔اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف مواقع کا انتظار نہ کریں بلکہ اپنی قابلیت، دیانت داری، مسلسل سیکھنے کی خواہش اور پیشہ ورانہ اخلاقیات سے خود کو منوائیں۔ یاد رکھیں کہ نوجوانی صرف عمر کا نام نہیں بلکہ کردار، وژن اور مسلسل محنت کا نام بھی ہے۔ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ اکیسویں صدی کے مسائل کو بیسویں صدی کی سوچ سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ اگر پاکستان کو عالمی مقابلے میں آگے بڑھنا ہے تو اسے اپنے نوجوانوں کو صرف مستقبل کہہ کر خوش نہیں کرنا ہوگا بلکہ انہیں حال کا حصہ بنانا ہوگا۔وقت آ گیا ہے کہ سرکاری اداروں کے بند دروازے کھلیں، نئی سوچ کو جگہ ملے، صلاحیت کو عمر پر ترجیح دی جائے اور نوجوانوں کو صرف کرسیوں کے گرد انتظار کرنے کے بجائے فیصلوں کی میز تک پہنچایا جائے۔کیونکہ جن قوموں نے اپنے نوجوانوں پر اعتماد کیا، تاریخ نے قیادت بھی انہی کے نام لکھی۔ اور جنہوں نے اپنی نئی نسل کو انتظار کی زنجیروں میں جکڑے رکھا، وہ وقت کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔پاکستان کے پاس آج بھی ایک سنہری موقع موجود ہے۔ اگر ہم نے اپنی نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو پہچان لیا، انہیں اعتماد دیا اور ان کے لیے راستے کھول دیے تو یہی نوجوان پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ثابت ہوں گے۔ لیکن اگر ہم نے انہیں صرف تجربے کے نام پر روکے رکھا تو شاید آنے والی نسلیں ہم سے یہی سوال کریں گی کہ جب ہمارے پاس دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادی تھی تو ہم نے اس سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟

نوجوان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں