دنیا میں انسان کی حیثیت کیا ہے؟ مذہب سے قطعِ نظر یہ بہت بڑا سوال ہے۔ اس سوال کا جواب صنعتی انقلاب نے دیا تو سہی، لیکن اس سے بھی بڑا سوال یہ تھا کہ کیا واقعی اس پورے عالم کا کوئی بدیع، صانع اور خالق بھی ہے؟ صنعتی انقلاب کا باقاعدہ آغاز اٹھارویں صدی عیسوی کے آخر میں ہوا۔ یکایک سب کچھ بدلنے لگا۔ دھیرے دھیرے انسانوں کی جگہ مشینوں نے لے لی اور کئی گنا بہتر انداز میں وہی کام کم وقت میں کرنے لگیں جو انسان کم معیار اور زیادہ وقت کے ساتھ کرتا تھا۔ یہ چیز انسان کو نرگسیت اور احساس برتری میں مبتلا کرنے کے لیے کافی تھی۔ شاید تبھی جرمن فلسفی فریڈرک نطشے نے انیسویں صدی میں God is dead کا نعرہ لگا کر ‘مڈل مین’ کا انکار کیا اور انسان کے اس نعرۂ من برتر کو مزید ہوا دی۔ جیسے جیسے ترقی ہوتی رہی، کائنات کے راز فاش ہوتے رہے ویسے ویسے انسان مادے کا اسیر ہوتا رہا۔ ظاہر ہے، ہزاروں سالوں کے بعد وہ اپنی محدود دنیا سے اچانک باہر نکلا تھا، اچانک چبھنے والی اس چکا چوند سے اس کی آنکھوں کا متاثر ہو جانا غیر معمولی بات نہیں تھی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مادے سے قربت واقعی اس بات کا باعثِ اصلی ہے کہ انسان خدا سے دور ہونے پر مجبور ہو چکا ہے۔ کیا نت نئی دریافتیں واقعی غیر محسوس انداز میں آباؤ اجداد سے چلے آ رہے اس چٹان نما مستحکم یقین کے سینے کو چھید رہی ہیں؟
صنعتی انقلاب کے بعد انسان کائنات کے مخفی حقائق اور تیزی سے تلاش کرنے لگا، اس کی جستجو میں تیزی آئی اور نتائج تک جلد پہنچنے کی ہوس اس میں ویسے ہی بڑھ گئی، جیسے کوئی مشین جلد سے جلد نقطۂ اختتام تک پہنچا دیتی ہے۔ ابتدائی طور پر انسان کو یہی محسوس ہوا کہ یہ کائنات ایک روٹین کے ساتھ چل رہی ہے، یہاں کچھ متعین اصول و ضوابط کام کر رہے ہیں اور انہوں نے ہی مل ملا کر ہستی کو سنبھالا ہوا ہے۔ مفکرین کا خیال تھا کہ مادے کے چند قوانین کو سمجھ کر پوری کائنات کی تشریح ممکن ہے، اور اس بظاہر خودکار نظام میں کسی ماورائے عقل خالق کی ضرورت نہیں رہی۔ لیکن تجسس کے ہاتھوں مجبور انسان جیسے جیسے غور و فکر کر کے گہرائیوں میں اترتا گیا، اور کوانٹم فزکس، بلیک ہول، ڈی این اے کے ناقابل یقین معلوماتی نظام اور کائنات کی بناوٹ میں موجود انتہا کی نفاست جیسے سربستہ راز اس کی عقل کے پردے پر حرکت کرنے لگے، تو وہی نظام جس کو سمپل اور سادہ قرار دے کر وہ خدا کو ایک غیر ضروری وجود قرار دے چکا تھا، اسی نظام کی باریک بین پرفیکشن نے اس کی عقل کو ہلا کر رکھ دیا، اور وہ اس بات کو ماننے کے قریب ہونے لگا کہ کوئی تو ہے، جو اگر ڈیزائنر ہے تو اس کا ڈیزائن پرفیکٹنس کی انتہا پر پہنچا ہوا ہے، جو اگر ریاضی دان تو اعداد کی بازی گری سے واقف ہے، جو اگر آرٹسٹ ہے تو رنگوں کے ملاپ کے ان رازوں سے بھی واقف ہے کہ ذرہ برابر چیونٹی میں کئی رنگ بھر دیتا ہے، اور اتنے بڑے آسمان کو فقط ایک رنگ بخشتا ہے، اور اس رنگ کو انسان ہزاروں برس سے تکتا آ رہا ہے پر آج تک نہ تھکا ہے، نہ لمحے بھر کو اکتایا ہے۔
اگر کچھ دیر کے لیے یہ بات مان بھی لیں کہ سب کچھ مادہ اور اس کے مخصوص اصولوں کا کیا دھرا ہے، تو سوال یہ ہے کہ مادے کے پاس تو صرف حرکت ہے، پرفیکٹ حرکت تو نہیں ہے نا۔ یہ بات بالکل ویسے ہے جیسے ہم کینوس پر رنگ کا ڈبہ پھینکیں اور یہ توقع کریں کہ مونا لیزا جیسا شاہ کار وجود میں آ جائے۔ کائنات کا تناسب اپنے نقطۂ عروج پر ہے۔ خدا نے قرآن کے مقابلے کی کتاب لانے کا چیلنج کیا تھا، وہی چیلنج یہ کائنات بھی بزبان حال دیتی ہے، اور یہی سوال کرتی ہے کہ کوئی ہے ایسا تخلیق کار، جس کے پاس اس سے بہتر خیال موجود ہو؟ کوئی ہے ایسا رنگ مصور جو سبزے کے لیے کوئی اور بہتر رنگ تجویز کر سکے؟ کوئی ہے جو غذائی سائیکل کو اس سے اعلیٰ انداز میں پیش کر سکے؟ کوئی ہے جو کائنات کے نظم کے لیے زیادہ اچھا خاکہ بنا سکے اور کوئی ہے ایسا جو اس کائنات کے عروج و زوال کی کہانی کا نسبتاً بہتر پلاٹ پیش کر سکے۔ سوال یہی ہے کہ کیا اس سب میں واقعتاً انسان کو خدا نظر نہیں آ رہا، یا اگر نظر آ رہا ہے تو وہ کون سا محرک ہے جس نے اسے نظریں چرانے پر مجبور کر دیا ہے۔
اس سب کے باوجود بھی انسان خدا کا منکر کیوں ہے؟ میری طالب علمانہ فکر اس کی دو وجوہات بیان کرتی ہے۔ پہلی وجہ مطلق آزادی کا تصور ہے۔ کلیسا کے غیر حقیقی اور انتہائی متشدد رویے کے نتیجے میں بالآخر مغرب نے مذہب کو اپنی سماجی زندگی سے یہ کہہ کر رخصت کر دیا کہ اب مذہب ہر انسان کا ذاتی معاملہ ہے، کسی بھی خارجی قوت، حتی کہ ریاست کو بھی اختیار نہیں کہ وہ مذہب کے بارے میں کوئی پوچھ تاچھ یا جبری نفاذ کرے۔ یہ Absolute freedom (مطلق آزادی) کا تصور تھا۔ بیسویں صدی میں فرنچ مفکر ژاں پال سارتر نے Radical Freedom کا فلسفہ پیش کیا۔ یہ نظریات اتنے پرکشش تھے کہ دیکھتے ہی دیکھتے پھیل گئے اور بہت کم ایسے لوگ رہ گئے جو ان خیالات سے متاثر نہیں ہوئے۔ (یا نہ ہونے کا دکھاوا کرتے رہے۔) سوشل میڈیائی انقلاب کے بعد بعد ویسے بھی معلومات کا بہاؤ اور بڑھ گیا۔ سو آج کا انسان خود کو ماضی کی بہت ساری روایات اور ان کہے قوانین سے آزاد سمجھتا ہے۔ ایک دفعہ (بزعم خود) آزاد ہونے کے بعد دوبارہ مذہبی پابندیوں کو قبول کر لینا ایک بہت مشکل امر ہے۔ ظاہر ہے کہ خدا کا اقرار انسان سے ایسے بہت سارے امور کا تقاضا کرتا ہے جن سے مذکورہ فکر سے متاثر انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ ایک خارجی طاقت اس کی آزادی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ نئے دور کا انسان بھلے معلومات کے بہاؤ میں بہہ رہا ہے، ماضی کے لوگوں کی بنسبت اس نے بہت کم وقت میں زیادہ دلائل کو اکٹھا کر لیا ہے۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو معلومات کا بہاؤ ایک ہی جانب ہے۔ وہ ٹرینڈ سے جڑے رہنے پر مجبور ہے۔ وہ ٹرینڈ کو اپنے خیالات کی عدالت میں پیش کرنے کے بجائے افکار کو ٹرینڈ کے ترازو میں تولتا اور اسی کے معیار پر پرکھتا ہے۔ وہ چاہ کر بھی غیر جانب دار نہیں ہے۔ وہ اس دلیل کو قبول تو کرتا ہے جو وجودِ خدا کا انکار کرتی ہے، لیکن اس دلیل کو، جو پکار پکار کر خدا کے وجود کا اعلان کرتی ہے، وہ ماننے سے پہلے عقلی اور منطقی معیار پر تولنے کے بجائے ان متعینہ معیارات میں تولتا ہے جو اس کے دماغ میں غیر محسوس طور پر گھسا دیے گئے ہیں۔ وہ دلیل کو قبول نہیں کرتا یا پھر کرنا نہیں چاہتا۔
ماضی کے ملحد کے پاس شاید تھوڑی بہت وجہ تھی، لیکن حال کے ملحد کے پاس وہ بھی باقی نہیں رہی۔ فرنچ فلسفی رینے ڈیکارٹ نے انسانی وجود کے تحقق پر دلیل قائم کی تھی کہ I think, therefore I am. کہ میں سوچتا ہوں، اسی لیے میں ہوں۔ اسی پر تبصرہ کرتے ہوئے ہندوستان کے جلیل القدر مفکر مولانا وحید الدین خان لکھتے ہیں کہ I am, therefore God is. کہ میں ہوں، اسی لیے خدا بھی موجود ہے۔ انسان کا اپنی ذات کے اندر اتنا متناسب اور مکمل ہونا کہ اس سے مزید بہتر ہونے کا سوال ہی پیدا نہ ہو سکے؛ بھلا اس سے بڑھ کر کوئی اور دلیل ہو سکتی ہے؟ بھلا کیسے کوئی اتنے پرفیکٹ نظام عالم کو محض حادثات اور اتفاقات کا نتیجہ کہہ سکتا ہے؟ کہنے والے نے یوں ہی نہیں کہا تھا کہ ڈھونڈنے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے، وہ واقعی مل جاتا ہے، بس اس کے لیے ایک غیر جانب دار نظر اور سوچنے والا ذہن چاہیے۔