زمانۂ حاضر کا ایک نہایت الم ناک المیہ یہ ہے کہ لوگ وابستگی تو اختیار کر لیتے ہیں مگر وفاداری نہیں سیکھتے، نسبت کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر اخلاص کی منزل تک نہیں پہنچ پاتے۔ کسی تنظیم، ادارے، تحریک یا جماعت کا نام اپنے تعارف کے ساتھ جوڑ لینا آسان ہے، لیکن اس نام کی حرمت، وقار اور عزت کا پاس رکھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔
افسوس! آج بہت سے افراد اپنے ہی قافلے کے مسافر ہوتے ہوئے اسی قافلے کے چراغ بجھانے میں مصروف ہیں۔ محفلوں میں وفاداری کے قصیدے پڑھتے ہیں، لیکن پسِ پردہ طعن و تشنیع کے تیر چلاتے ہیں۔ سامنے آئیں تو عقیدت و محبت کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں اور نگاہوں سے اوجھل ہوں تو انہی محسنوں کے خلاف زبان درازی کو اپنی ذہانت کا کمال سمجھتے ہیں جن کے سائے میں انہوں نے عزت، شناخت اور مقام پایا ہوتا ہے۔
یاد رکھیے! مخلص آدمی اختلاف کر سکتا ہے، اصلاح کی بات بھی کر سکتا ہے، مگر اپنے ہی آشیانے کو آگ نہیں لگاتا۔ وہ اپنی ہی شاخ کو تیشہ نہیں مارتا جس پر اس کا بسیرا ہو۔ وہ جانتا ہے کہ بے جا تنقید اور پسِ پردہ کردار کشی صرف افراد کو نہیں بلکہ پورے ادارے کے وقار کو مجروح کر دیتی ہے۔
لکھنؤ کی تہذیب میں ایک لفظ استعمال ہوتا ہے: پاسِ وفا۔ یعنی تعلق کا حق ادا کرنا، نسبت کی لاج رکھنا اور احسان کو فراموش نہ کرنا۔
اسی حقیقت کو شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ ایک فارسی مقولے میں یوں بیان کیا کرتے ہیں:
سعدیہ شیرازیہ،
کم ذات را علم مده،
کم ذات را عالم شود،
استاد ذیگردنلوی۔
یعنی: “کم ظرف اور کم اصل شخص کو علم نہ سکھاؤ، کیونکہ جب وہ علم حاصل کر کے صاحبِ منصب یا صاحبِ حیثیت بن جاتا ہے تو سب سے پہلے اپنے ہی استاد اور محسن کے خلاف کھڑا ہوتا ہے، اور اسی کے احسانات کو فراموش کر دیتا ہے جس نے اسے مقام عطا کیا تھا۔”
یعنی اگر صاف لفظوں میں یوں بیان کیا جائے تو بے جاں نہ ہوگا
“کہ کم زات علم سیکھنے کے بعد سب سے پہلے اپنے ہی استاد کی گردن اتارتا ہے”
یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ انسانی نفسیات کا ایک تلخ باب ہے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ بعض لوگ اپنے محسنوں کے دسترخوان سے فیض پاتے ہیں، انہی کی سرپرستی میں پروان چڑھتے ہیں، انہی کی شفقت سے پہچان حاصل کرتے ہیں، مگر جب وقت بدلتا ہے تو سب سے پہلے انہی پر تیرِ ملامت برسانا شروع کر دیتے ہیں۔ احسان فراموشی کا یہی رویہ معاشروں کے اخلاقی زوال کا پیش خیمہ بنتا ہے۔
افسوس کہ آج پاسِ وفا کی جگہ مفاد پرستی نے لے لی ہے۔ لوگ اپنے محسنوں کی رفاقت میں پلتے ہیں، انہی کے دسترخوان سے فیض پاتے ہیں، انہی کی سرپرستی میں آگے بڑھتے ہیں، لیکن جب خواہشاتِ نفس راہ بدلتی ہیں تو سب سے پہلے انہی کے خلاف محاذ کھول دیتے ہیں۔
یہ رویہ اختلاف نہیں، بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔ یہ تنقید نہیں، بلکہ نمک حرامی کی ایک ایسی صورت ہے جو کردار کی کمزوری کو عیاں کر دیتی ہے۔ صاحبِ ظرف انسان اپنے محسن کی عزت کو اپنی عزت سمجھتا ہے، اور صاحبِ مروّت شخص اپنے ادارے کی آبرو پر حرف آنا گوارا نہیں کرتا۔
ایک شاگرد کی پہچان صرف اس کی قابلیت نہیں بلکہ اپنے استاد کے ساتھ وفا بھی ہے۔ ایک کارکن کی شناخت صرف اس کی سرگرمی نہیں بلکہ اپنی تنظیم کے ساتھ اخلاص بھی ہے۔ اور ایک رفیقِ سفر کی عظمت صرف اس کے دعووں سے نہیں بلکہ مشکل گھڑی میں اس کے ثابت قدم رہنے سے ظاہر ہوتی ہے۔ وفاداری کا امتحان خوشحالی کی محفلوں میں نہیں بلکہ آزمائش کی ساعتوں میں لیا جاتا ہے۔
زبان انسان کے کردار کا آئینہ ہے۔ جو شخص ہر مجلس میں اپنے ہی لوگوں کا تذکرہ تحقیر سے کرے، ہر نشست میں اپنے ہی ادارے کی کمزوریاں اچھالے اور ہر محفل میں اپنے ہی خیر خواہوں پر تیر اندازی کرے، وہ درحقیقت دوسروں سے زیادہ اپنے کردار کا تعارف پیش کر رہا ہوتا ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے شعبوں، اپنے اساتذہ، اپنے اداروں اور اپنی تنظیموں کے ساتھ تعلق کو محض نام کی حد تک نہ رکھیں بلکہ اس میں خلوص، وفا، مروّت، پاسِ ادب اور شعور کی روح بھی شامل کریں۔ اختلاف ہو تو مہذب انداز میں، اصلاح کرنی ہو تو خیر خواہی کے جذبے سے، اور بات کرنی ہو تو ایسے الفاظ کے ساتھ جن میں شائستگی بھی ہو اور ذمہ داری بھی۔
کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ قافلے دشمنوں کی یلغار سے کم اور اپنوں کی بے وفائی سے زیادہ ٹوٹتے ہیں، اور ادارے مخالفین کی سازشوں سے کم جبکہ اپنے لوگوں کی ناشکری اور منافقانہ روش سے زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاصِ نیت، پاسِ وفا، حسنِ ادب اور استقامتِ کردار کی دولت عطا فرمائے، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو تعلق نبھانا جانتے ہیں، احسان ماننا جانتے ہیں، اور اپنی نسبتوں کی لاج رکھنا جانتے ہیں۔