والدین کی قدر/نوجوانوں سے خطاب/تحریر/خواجہ مظہر صدیقی 0

والدین کی قدر/نوجوانوں سے خطاب/تحریر/خواجہ مظہر صدیقی

والدین کی قدر/نوجوانوں سے خطاب/تحریر/خواجہ مظہر صدیقی

میں ایک تقریب میں مؤدب سامع کی حیثیت سے موجود تھا۔ یہ ایک نوجوان مصنف کی کہانیوں پر مشتمل کتاب کی رونمائی کی تقریب تھی جو ایک کالج کے سیمینار ہال میں منعقد ہوئی۔
میزبان نے اچانک مجھے فون پر پیغام بھیجا کہ آپ بھی ڈائس پر تشریف لائیں اور کچھ ارشاد فرمائیں۔ میں نے ابتدا میں معذرت کی، لیکن پھر میرا نام پکارا گیا اور مجھے ڈائس پر جانا پڑا۔

میرے ساتھ ایک بزرگ ادیب تشریف فرما تھے۔ وہ دھیمی آواز میں اپنے دل کا حال سنا رہے تھے کہ تین بیٹے ہیں مگر کوئی خیر خبر نہیں لیتا۔ کئی کئی دن تک ملنے نہیں آتے۔ ان کے پاس اتنا وقت نہیں کہ اپنی بوڑھی ماں کے پاس بیٹھ سکیں۔ ان کی باتیں میرے دل پر گہرا اثر چھوڑ گئیں۔

میں نے ڈائس پر جا کر سب سے پہلے نوجوان مصنف کو کتاب کی اشاعت پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی۔ پھر نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے عرض کیا:
میرے پیارے بچو! میں آپ سے اپنے دل کی بات کہنا چاہتا ہوں ۔ جو میں کہنے لگا ہوں یہ ایک کتاب سے پڑھا گیا اقتباس ہے جس نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔ آپ سب کی سماعتوں کی نذر کرتا ہوں ۔

“یاد رکھو، ماں باپ بھی یتیم ہوتے ہیں۔
لوگ سمجھتے ہیں کہ یتیم وہ ہے جس کے ماں باپ نہ ہوں،
مگر کبھی سوچا ہے؟
وہ ماں باپ بھی یتیم ہو جاتے ہیں جن کے جیتے جی بچے ان کا سہارا چھوڑ دیتے ہیں۔

یتیمی صرف ماں باپ کے مرنے سے نہیں آتی،
یہ اس وقت بھی آتی ہے جب اولاد اپنے والدین کو بڑھاپے میں تنہا چھوڑ دے۔
جب وہ گھر میں تو موجود ہوں، مگر دل سے کوئی ان کے ساتھ نہ ہو۔
جب بات کرنے والا نہ ہو، ان کی آنکھوں کا حال سمجھنے والا نہ ہو۔

ماں باپ کو بڑھاپے میں عزت اور محبت نہ دینا،
ان کی زندگی کا سب سے بڑا یتیم خانہ بنا دیتا ہے۔

یتیم وہ بھی ہے جو اپنی اولاد کے ہوتے ہوئے بھی اکیلا رہ جائے۔”

والدین کی قدر/نوجوانوں سے خطاب/تحریر/خواجہ مظہر صدیقی
والدین کی قدر/تحریر/نمرہ امین(لاہور)
والدین کی قدرو قیمت/مضمون نگار/محب اللہ ہمدرد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں