0

غازی علم الدین شہیدؒ عشقِ رسول ﷺ کی زندہ مثال / تحریر / فیضُ الرحمٰن، کراچی

غازی علم الدین شہیدؒ — عشقِ رسول ﷺ کی زندہ مثال

تحریر: فیضُ الرحمٰن، کراچی

غازی علم الدین شہیدؒ، جن کا نام عشقِ رسول ﷺ کی علامت بن چکا ہے، 4 ستمبر 1908ء کو لاہور کے ایک شریف اور متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد، طالع مند، محنتی، باعزت اور دیانتدار نجار تھے۔ ان کی شہرت محلے تک محدود تھی، مگر ان کی شرافت اور دیانتداری ہر جگہ دلوں کو جیت لیتی تھی۔

ابتدائی تعلیم اور تربیت

محلے کی مسجد ہی بچوں کی ابتدائی درسگاہ تھی۔ طالع مند نے اپنے بیٹے علم الدین کو قرآنِ مجید پڑھنے کے لیے مسجد بھیجا۔ علم الدین نے چند دن تعلیم حاصل کی، مگر زیادہ تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ قدرت نے ان کے اندر ایک ایسا جوش اور راز رکھا تھا جو علم سے کہیں بڑھ کر تھا۔

کچھ عرصہ وہ اپنے والد کے ساتھ کوہاٹ میں مقیم رہے۔ یہ علاقہ بہادر پٹھانوں کا مانا جاتا ہے۔ پٹھانوں کی یہ خوبی مشہور ہے کہ جو ان سے بھلائی کرے، وہ اسے کبھی نہیں بھولتے۔ ایک روز اکبر خان نامی پٹھان کا اپنے بھائی سے جھگڑا ہوا اور وہ گرفتار ہوگیا۔ طالع مند نے فوراً اپنا کام چھوڑ کر اس کی مدد کی۔ کسی نے پوچھا:
“کیا وہ تمہارا رشتہ دار ہے؟”
طالع مند نے جواب دیا:
“نہیں، مگر وہ میرا محسن ہے۔ اگر وہ خوشی میں ہمیں نہیں بھولتا تو میں مصیبت میں اسے کیسے بھول سکتا ہوں؟”

اس واقعے نے اکبر خان کے دل پر گہرا اثر چھوڑا۔ اس نے ایک سال کا کرایہ معاف کر دیا اور محبت کی نشانی کے طور پر باپ بیٹے کو ایک چادر تحفے میں دی۔

گستاخِ رسول کی گستاخی اور ایک عاشقِ صادق کا جذبہ

جب ہندو راجپال نامی گستاخ نے حضور ﷺ کی شانِ اقدس میں “رنگیلا رسول” کے نام سے کتاب لکھی، تو مسلمانوں کے دل غیرت سے بھر گئے۔ انگریز حکومت نے بظاہر مقدمہ چلایا مگر عدالت نے راجپال کو بری کر دیا۔ یہ خبر سنتے ہی مسلمانوں کے جذبات بھڑک اٹھے۔

اسی زمانے میں کم عمر مگر پُرجوش نوجوان غازی علم الدین بھی جذبۂ عشقِ رسول ﷺ سے سرشار تھے۔ ایک دن وہ ایک مجمع سے گزرے جہاں مقرر ناموسِ رسالت ﷺ پر تقریر کر رہا تھا۔ یہ سن کر علم الدین کے دل میں آگ بھڑک اٹھی۔

چند دن بعد خواب میں ایک بزرگ نے فرمایا:
“علم الدین! جلدی کرو، راجپال تمہارے ہاتھوں ہی مارا جائے گا، یہ سعادت تمہارے لیے مقدر ہے۔”
صبح ہوتے ہی علم الدین نے ایک تیز چھری خریدی اور راجپال کی دکان پر پہنچے۔ پوچھا:
“راجپال کون ہے؟”
اس نے جواب دیا: “میں ہوں۔”
یہ سنتے ہی علم الدین نے چھری اس کے سینے میں پیوست کر دی۔ راجپال موقع پر ہی ڈھیر ہوگیا۔

گرفتاری، مقدمہ اور عزمِ شہادت

قتل کے بعد غازی علم الدین نے اطمینان سے قریب ہی نلکے پر جا کر خون سے آلود چھری دھوئی اور خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ تھانے کے باہر مسلمانوں کا ہجوم ان کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب تھا۔

مسلم اخبارات نے مطالبہ کیا کہ غازی علم الدین کو رہا کیا جائے، کیونکہ انہوں نے ناموسِ رسالت ﷺ کی پاسداری کی ہے۔ مقدمہ چلا، ہر عدالت نے سزائے موت سنائی۔ علامہ اقبالؒ اور محمد علی جناحؒ نے ان کی رہائی کے لیے بھرپور کوشش کی، مگر فیصلہ برقرار رہا۔

کسی نے مشورہ دیا: “قتل سے انکار کر دو تاکہ جان بچ جائے۔”
غازی نے جواب دیا:
“تم مجھے شہادت سے کیوں محروم کرنا چاہتے ہو؟ میں فخر سے کہتا ہوں کہ راجپال کو میں نے مارا۔ یہ میرے نامۂ اعمال کا اعزاز ہے۔ میں اس اعزاز کے بغیر حضور ﷺ کے دربار میں کیسے جا سکتا ہوں؟”

لمحۂ شہادت

پھانسی کا حکم سن کر ان کے چہرے پر خوف کے بجائے مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ وہ نعتیہ اشعار پڑھنے لگے:

بے تاب ہو رہا ہوں فراقِ رسول ﷺ میں
اک دم کی زندگی بھی محبت میں ہے حرام

پھانسی کے قیدی کا وزن عام طور پر گھٹتا ہے، مگر غازی علم الدین شہیدؒ کا وزن بڑھ گیا۔ 22 مئی 1929ء کو ان کا وزن 128 پونڈ تھا، جبکہ شہادت کے دن 140 پونڈ تھا۔

31 اکتوبر 1929ء، بروز جمعرات، میانوالی جیل میں وہ باوضو ہوئے، دو نفل ادا کیے، تختۂ دار کو چوما، اور درود و سلام پڑھتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جان کی کوئی بات نہیں

بعد از شہادت

جب علامہ اقبالؒ نے ان کے چہرے کی زیارت کی تو آنسو بھر لائے اور فرمایا:
“اسیں گلاں ای کردے رہے، تے ترکھاں دا منڈا بازی لے گیا!”
(ہم تو باتیں ہی کرتے رہے، بڑھئی کا بیٹا بازی لے گیا۔)

غازی علم الدین شہیدؒ کو لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

خاک ہو کر عشق آرام سے سونا
جان کی اکسیر ہے الفتِ رسول ﷺ کی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں