گفتگو کے بھی آخر کچھ آداب ہیں/تحریر/ڈاکٹر حافظ مدثر اقبال ٹمنانسانی زندگی کی تعمیر میں زبان کا کردار بہت اہم ہے، انسان کے ڈیل ڈول والے بارعب و باوقار جسم میں یہ ایک چھوٹا سا عضو ہے جو بغیر ہڈی،کری اور مضبوط کھال کے ہے، اس کا طول و عرض بمشکل ڈیڑھ یا دو انچ ہوگاجسے محفوظ بتیسی کے اندر رکھا گیا ہے۔گوشت کا یہ لوتھڑا انسان کی شخصیت و وجود اور عمل و کردار میں بہت اہمیت رکھتا ہےاسی لیے اصلاح و تربیت کے دوران اسے سب سے زیادہ اہمیت دینی چاہیےاور وقتاً فوقتاً اس کی تربیت کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی نگرانی بھی خوب کرنی چاہیے۔ تاریخ شاہد ہے کہ کبھی اور کسی دور میں بھی بد کلامی نے انسان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا، معاشرے میں جتنے بھی لڑائی جھگڑے،انتشار و فساد،غارت گری اور بد امنی ہے اس کی بنیاد بد کلامی ہی ہے جبکہ میٹھے بول میں ایسا جادو ہے جس نے ہمیشہ فتح پائی ہےاور دلوں کو مسخر کیا ہے، جوبھی معاشرہ امن و سکون ، اتفاق و اتحاد اور محبتوں کا گہوارہ ہے اس کی وجہ اس کے باسیوں کے میٹھے بول اور آداب گفتگو سے واقفیت ہے۔زبان کا درست استعمال یہ وہ سحر ہے جو خوبصورتی کی کمی کو پورا کر دیتا ہے مگر خوبصورتی کبھی بھی اس کی کمی کو پورا نہیں کر سکتی ۔
ایک مرتبہ کسی بادشاہ نے یہ خواب دیکھا کہ اس کے سارے دانت ٹوٹ گئے ہیں ۔صبح جب آنکھ کھلی تو بادشاہ سخت پریشان تھا۔ اس نے فوراً حکم دیا کہ سلطنت کے مشہور تعبیر دان( خوابوں کی تعبیر کا علم رکھنے والا) کو دربار میں پیش کیا جائے۔اس نے مشہور تعبیر دان کو بلویا اور اس سے اس خواب کی تعبیر پوچھی ، اس نے کہا جناب والا یہ بہت برا خواب ہے اس کی تعبیر یہ ہے کہ آپ کے سارے رشتہ دار آپ کے سامنے مر جائیں گے۔ یہ سن کر بادشاہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ اس کے دل کو تعبیر کی تلخی گوارا نہ ہوئی۔ اس نے یہ تعبیر بتانے والے کو سخت سزا دینے کا حکم دیا اور اسے دربار سے نکال دیا،اور درباریوں سے کہا کہ کیا میری سلطنت میں اس سے زیادہ ماہر تعبیر نہیں ہے؟ کچھ لمحے کے لیے سارا محل خاموشی میں ڈوب گیا،پھر بادشاہ نے دوبارہ حکم دیا کہ کوئی اور ماہر تعبیر بلوایا جائے ۔کچھ دیر بعد دربار میں دوسرا عالم حاضر ہوا۔ بادشاہ نے ان کو بھی وہی خواب دوبارہ سنایا اور تعبیر دریافت کی۔اللہ تعالیٰ نے انہیں علم کے ساتھ ساتھ حکمت کی دولت سے بھی نوازا تھا۔ اس عالم نے مسکرا کر نہایت ادب اور نرمی سے عرض کیا:اس نے کہا حضور یہ خواب تو بڑا اچھا اور مبارک ہے اس سے آپ کی طویل عمری کا اظہار ہے، آپ کے سارے رشتہ داروں سے آپ کی عمر لمبی ہوگی یہ سن کر بادشاہ کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی اور وہ خوش ہو کر بولا کہ کتنی اچھی تعبیر ہے! پھر بادشاہ نے اپنے درباریوں کی طرف رخ کیا اور کہا:کہ “خواب کی تعبیر دونوں نے ایک ہی بتائی ہے۔ ایک نے کہا کہ میرے سارے رشتہ دار میرے سامنے مر جائیں گے ، دوسرے نے کہا کہ میں ان سب سے زیادہ عمر پاؤں گا۔ بات ایک ہی تھی، فرق صرف اندازِ بیان کا تھا۔ پہلا شخص آدابِ گفتگو سے ناواقف تھا، اسی لیے سزا کا مستحق ٹھہرا، اور دوسرا شخص حسنِ بیان اور شائستگی کے ساتھ بات کہنے کا ہنر جانتا تھا، اسی لیے وہ انعام کا حقدار ہوا۔” یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسان کی اصل خوبی اس کے گفتار اور اندازِ بیان میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ ایک ہی بات اگر سختی اور تلخی سے کہی جائے تو دلوں کو زخمی کر دیتی ہے، لیکن اگر وہی بات نرمی، احترام اور محبت کے ساتھ بیان کی جائے تو سننے والے کے دل میں اتر جاتی ہے۔ انسان کی زبان اس کی شخصیت کا آئینہ ہوتی ہے، اسی سے دوسروں کے دلوں میں جگہ بنتی ہے یا نفرت پیدا ہوتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اور لوگوں سے اچھی بات کرو( القرآن)۔ بلاشبہ زبان کا درست استعمال انسان کو تختے سے اتار کرعزتوں کے تخت پے بٹھا دیتا ہے اور زبان کا غلط استعمال تخت شاہی سے اتار کر تختہ دارپے لٹکا دیتا ہے۔