ڈیجیٹل شور اور اخلاقی خاموشی از قلم عذبہ جالب
چند دن قبل سے ایک معمول سا بن گیا ہے ۔ جیسے ہی کوئی سوشل ایپ کھولی جاتی ہے ایک جیسے موضوع ہی چاروں طرف رُل رہے ہوتے ہیں ۔ اور پھر انہی موضوعات سے نکلتے مزید اختلافی موضوعات .
جنید صفدر کی شادی ، مریم نواز کی فیشن سینس، مریم اورنگزیب کا تبدیل شدہ چہرہ ، پیپلز پارٹی کی معروف شخصیت کی شادی ، موازنے ، تقابل، تنقید ، آٹسٹک بچہ ، اور ان سب موضوعات کی مد میں گالیوں کے نذرانے ۔۔۔۔
ہر ایک کی زبان پر یہی موضوع ۔۔۔
اور یہی نہیں ، یہاں کوئی بھی موضوع مارکیٹ میں آئی نئی پراڈکٹ سا ہوتا ہے ۔ ایک دن ہوا تو مہینوں تک وہ گردش میں رہے گا حالانکہ وہ موضوع بالکل مہمل ہوتا ہے ۔ اس پر تنقید یا تبصرہ تک بے معنی ہوتا ہے ۔ لیکن وہ گردش میں بھرپور طریقے سے رہتا ہے ۔
چلیں یہاں تک بات ہوتی تو سمجھ آتی ہے کہ چینلز کا کام ہے خبریں پھیلانا ، انہیں تو پیسہ ہی اس چیز کا ملتا ہے لیکن یہاں بات آگے بڑھ کر عوام کے ہتھے چڑھ چکی ہوتی ہے ۔
کوئی بھی موضوع جو سوشل میڈیا کی نظر ہو جائے اور پھر عام عوام کے ہتھے بھرپور طریقے سے نا چڑھے ایسا کس کتاب میں لکھا ہے ۔ اب اگر کوئی بھی موضوع ، موضوع کی حد تک رہے تو بھی مسئلہ نہیں ۔
مسئلہ تو تب بنتا ہے جب اس پر ہر شخص خود کو بطورِ تجزیہ نگار ، تنقید نگار اور کالم نگار پیش کرنا شروع کردیتا ہے ۔
اور یہ مسئلہ اس لیے مسئلہ ہے کیونکہ ہمارے لوگوں کو اختلاف کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا ۔
ہمارے پرانے پنجابیوں کی ایک عادت رہی ہے یہ کسی سے اختلاف رکھیں اور دلیل پاس نا ہو تو ماں بہن کی گالی پر اتر آیا کرتے تھے اپنا پلڑا بھاری رکھنے کیلئے۔ اب یہ سب سوشل میڈیا پر چلتا ہے ۔ اور کمنٹ سیکشن میں اپنا آپ دکھاتی عوام
جسے دیکھ کر واقعی محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے پاس سوائے سوشل میڈیا کے اور کوئی کام دھندا نہیں اور روزگار کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کی کس قدر کمی ہو چکی ہے ۔
ایک بات ہمیشہ کہتے آئے ہیں اور اب بھی کہنا چاہیں گے کہ ہر سیاسی پارٹی سے دوسروں کو اختلاف رہا ہے ۔ آپ بہت سوں کے مخالف ہوں گے اور بہت سے آپ کے ۔ ضروری نہیں کہ جس نظریے کو آگے پھیلانے کو آپ ضروری سمجھتے ہیں دوسرا بھی سمجھے ۔
اوپر جن پنجابیوں کا ذکر کیا ہے ان کی بھی ایک اچھی اور عمدہ عادت ہوا کرتی تھی کہ وہ ماں بہن کو سامنے دیکھ کر چاہے وہ اپنی ہو یا نا ہو ۔۔۔ عورت ذات ہے تو گالیوں کو وہیں دبا دیا کرتے تھے ۔
ہمارے بڑے بتاتے ہیں عورت کی عزت بھی انہی لوگوں میں تھی کہ کسی سے اخیر کا جھگڑا ہوگیا اور بیچ دوسرے کی ماں بہن نے آ کر منت ترلہ کیا وہیں پر لڑائیاں ختم ہوجایا کرتی تھیں ۔ گالیاں تھم جایا کرتی تھیں ۔
دھیاں تے سب دیاں سانجھیاں ہندیاں نے
ماواں تے سب دیاں سانجھیاں ہندیاں نے
یہ مقولے انہی لوگوں کے مشہور تھے جو جُسّے میں آج کی نسل سے دگنے اور طاقتور ہوا کرتے تھے ، بارعب ہوا کرتے تھے ۔۔۔ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اتنی تمیز اور غیرت و شرم تو ان میں بھی ہوا کرتی تھی ۔
لیکن یہ سوشل میڈیائی مخلوق
دیکھ کر لگتا ہے شاید یہ کسی دوسرے گولے (سیارے) کی مخلوق ہوں ۔ جن میں نا تمیز ہے ، نا شرم و حیا ، نا اختلاف کا ڈھنگ ، نا دلیل کا سامنا کرنے کی طاقت ۔۔
تحریک انصاف کے لوگ ہیں تو وہ لیگیوں کو اس قدر گندھی گالیوں سے نوازیں گے۔ لیگی ہیں تو پی ٹی آئی کو۔۔ اور اسی طرح کو بھی جماعت حزبِ مخالف کو۔
ماں بہن کی گالی دے دینا ، کسی کو بھی حرام کا قرار دے دینا تو بہت بہت نارمل ہوچکا ہے ہمارے ہاں ۔۔۔ اگر سپورٹر کو گالی نہیں دینی تو چلو پھر کسی لیڈر کی شکل و صورت کو لیکر تمسخر اڑایا جائے ، اس کی نجی زندگی کو زیر بحث لایا جائے کہ اس کے کام سے ہمیں کیا غرض ۔
ایک عجب طوفانِ بدتمیزی برپا ہوتا ہے ۔ اور اس میں کیا داڑھی دار طبقہ اور کیا دیہاڑی دار طبقہ
سبھی اوپر سے نیچے تک ایک ہی زبان و لہجے میں تر نظر آتے ہیں۔ ۔۔۔
کیا یہی ہیں ہماری اخلاقیات ؟؟؟؟
ہماری تعلیمات ؟؟؟
ہمارا دین ؟؟؟؟
دین و شریعت نے تو کسی کی شکل کا مذاق اڑانے سے منع کیا ہے ، کسی کے نام تک الٹے لینے سے گریز کرنے کا کہا گیا ہے ۔ مگر نہیں ۔۔۔۔
ہم دین کے نام پر سب کر گزرتے ہیں ۔ “اپنا حق اور ہمارا اختلاف” کہہ کر گالی دیتے ہیں اور فراغت و ویلے پن کا ضیاع کرتے ہیں۔
دیکھیں !!!
فارغ ہیں تو بجائے فضول قسم کی بحثوں میں پڑنے کے ، کوئی سکل سیکھ لیں ، کوئی ہنر لے لیں ، نہیں چاہیے تو محلے کے بچوں کے ساتھ جاکر تھوڑی دیر کیلئے گیند بلا جسے عرف عام میں کرکٹ کہا جاتا ہے وہ کھیل آئیں ۔ اپنی صحت پر توجہ دیں ، خود پر دھیان دیں ۔ سیلف گرومنگ نام سنا ہوگا نا ۔ اس پر دھیان دے لیں ۔ مطالعہ کر لیں ۔ بری عادات کو چھوڑنے کی پریکٹس کرلیں۔ جب تک کوئی کام دھندا نہیں ملتا خود پر وقت صرف کرلیں ۔کچھ لکھنے کی الجھن ہورہی ہے تو پھر ان موضوعات پر لکھ لیں جو جہاد بالقلم میں آ جائیں ۔ مسائل پر لکھیں ، اپنے (صحیح معنوں پر) حق کیلئے لکھیں ، فرائض پورے کرنے پر لکھیں ، گُل پلازہ بھی تو ایک سانحہِ عظیم گزرا ہے ۔ ایسے ڈھیروں سانحے روز ہم پر گزرتے ہیں جن پر لکھنا ، بولنا ، آواز اٹھانا ، جنہیں فراموش نا ہونے دینا ، ان جیسا دوسرا کوئی سانحہ نا گزرے اس میں اپنا کردار ادا کرنا ۔۔۔
ان پر لکھیں ۔ ان پر لکھنا بولنا آگاہی دینا ہمارا فرض بھی ہے ۔۔۔
خیر پھیلائیں ۔ خیر کے پھیلانے کا باعث بنیں ۔ شر پھیلانے والوں کی پہلے ہی کمی نہیں ہے ۔