Usman Yasin 0

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر/تحریر/عثمان یاسین

آفتاب نبوت کے طلوع ہونے سے قبل ظلم و ستم اور جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں نے سارے جہان کو بالعموم اور عربستان کو بالخصوص اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ جس کی وجہ سے عدل و انصاف، ہمدردی و غمخواری، پیار و محبت، اخوت و بھائی چارہ اور راحت و سکون عنقا ہو چکا تھا۔ معصوم بچیوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا۔ مظلوم عورتوں کو جانوروں سے بھی بدتر سمجھا جاتا تھا اور انسانیت تباہی و بربادی کے دہانے پر پہنچ چکی تھی۔ ظلم و جبر، ناقدری و ناحق شناسی نے چہار جانب اپنے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ ہر کوئی اپنے آپ کو اور اپنے قبیلے کو سب سے اعلیٰ گردانتے ہوئے ذرا ذرا سی بات پہ خون کے ندی نالے بہانے کیلئے ہر لمحہ تیار رہتا تھا۔ لیکن جب نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو تھوڑے سے عرصے میں دنیا کا نقشہ تبدیل ہو گیا۔ زندگیوں کے رخ بدل گئے۔ کانٹوں بھرے راستوں پر چلنے والے پھولوں کی سیج پہ آن کھڑے ہوئے۔
اندھیرے میں چلنے والے نور کے قمقموں میں چلنے لگے۔ ظالم و جابر، منصف و عادل بن گئے، خدا ترسی و نرمی سے عاری ہمدردی و غمخواری کا مرکز و محور بن گئے۔ کسی کے جانور کو اپنی چراگاہ میں چرنے کی وجہ سے سالہا سال تک لڑائیاں لڑنے والے اوروں کیلئے مال کیا جان کے نذرانے پیش کرنے لگ گئے۔ اپنے سے بڑا کسی کو نہ سمجھنے والے اوروں کو ترجیح دیکر جذبہ ایثار کا ایسا مظاہرہ کرنے لگے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ رشک کرنے پر مجبور ہو گیا۔ انہی الفاظ کی منظر کشی حفیظ تائب نے اپنے شعر میں کی ہے کہ
حضور آئے تو سر آفرینش پا گئی دنیا
اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آ گئی دنیا
ستے چہروں کا زنگ اترا بجھے چہروں پہ نور آیا
حضور آئے تو انسانوں کو جینے کا شعور آیا
حضور اکرم، سید الکونین صلی اللہ علیہ وسلم تمام اخلاق و خصائل، صفات و جمال میں اعلیٰ و اشرف تھے۔ ان تمام کمالات و محاسن کا احاطہ کرنا اور بیان کرنا انسانی قدرت سے باہر ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ اپنی کتاب” تہذیب” میں لکھتے ہیں کہ ” اللہ تعالیٰ نے اخلاق و عادات کی تمام خوبیاں، کمالات اور اعلی صفات حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی میں جمع فرما دیں تھیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اولین و آخرین کے علوم سے جو آپ کے شایان شان تھے بہرور فرمایا تھا حالانکہ آپ امی تھے، کچھ لکھ پڑھ نہ سکتے تھے، نہ انسانوں میں کوئی آپ کا معلم تھا۔ اس کے باوجود آپ کو ایسے علوم عطاء فرمائے گئے جو اللہ تعالیٰ نے تمام کائنات میں کسی اور کو نہیں دیئے۔ آپ کو کائنات ارضی کے خزانوں کی چابیاں پیش کی گئیں مگر آپ نے دنیاوی مال و متاع کے بدلے میں ہمیشہ آخرت کو ترجیح دی۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم علم و حکمت کے سب سے زیادہ جاننے والے تھے ۔ سب سے زیادہ محترم، سب سے زیادہ منصف ، سب سے زیادہ حلیم و بردبار ، سب سے زیادہ پاکدامن اور عفیف اور لوگوں کو سب سے زیادہ نفع پہنچانے والے اور لوگوں کی ایذا رسانی پر سب سے زیادہ صبر و تحمل کرنے والے تھے۔ ( وسائل الوصول، شمائل الرسول)
اللّٰہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ کریم میں مکارم اخلاق، محامد صفات اور ان کی کثرت و قوت اور عظمت کے لحاظ سے قرآن کریم میں مدح و ثنا فرمائی۔ چنانچہ سورہ قلم کی آیت نمبر چار میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ” بلاشبہ آپ بڑے ہی صاحب اخلاق ہیں ” ایک اور جگہ سورہ النساء آیت نمبر ایک سو تیرہ میں ارشاد خداوندی ہے کہ ” آپ پر اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا فضل ہے ”
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ارشاد فرمایا کہ ” مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کیلئے بھیجا جا رہا ہے” ایک اور روایت میں ہے ” میں اچھے کاموں کو مکمل کرنے کیلئے بھیجا گیا ہوں۔ ان آیات واحادیث سے واضح ہوتا ہے کہ آپ کی ذات گرامی تمام محاسن و مکارم اخلاق کی محور و منبع تھی اور کیوں نہ ہو کہ آپ کا معلم قادر لم یزل سب کچھ جاننے والا ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ایذا دینے پر سب سے زیادہ صابر تھے۔ برائی کرنے والے سے درگزر فرماتے اور جو شخص آپ سے بد سلوکی کرتا آپ اس سے نیک سلوک کرتے تھے۔ جو شخص آپ کو نہ دیتا آپ اسے دیتے اور جو شخص آپ سے ظلم کرتا آپ اس سے درگزر فرماتے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کیلئے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا ۔ ( شمائل ترمذی، نشر الطیب)
آپ نہایت حلیم تھے نہ کسی کو دشنام دیتے نہ سخت بات فرماتے تھے۔ نہ لعنت کرتے تھے اور نہ بد دعا دیتے تھے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ( مکمل زندگی) ہمارے لیئے مشعل راہ ہے۔ آپ پر ایمان، آپ سے بے پناہ محبت ، آپ کا ادب و احترام، آپ کی اطاعت و فرمانبرداری جیسے ہم پر آپ کے بےشمار حقوق ہیں لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنا محاسبہ کریں اور غور و فکر کریں کہ ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق ادا کر رہے ہیں یا نہیں ؟ سنت نبی پہ عمل کر رہے ہیں یا نہیں ؟ اگر عمل کر رہے ہیں تو آج ہم پستی کی طرف کیوں جا رہے ہیں ؟ آج ہماری زندگی مشکل کیوں ہو چکی ہے۔ بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم نے آقا کی زندگی کو اپنے لیے مشعل راہ بنانا چھوڑ دیا ہے۔
اگر جنت میں جانے کا ارادہ ہو تمامی کا
تو گلے میں طوق ڈالو محمد کی غلامی کا
باری تعالیٰ ہمیں آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک طریقوں کو حرزِ جاں بنانے کی توفیق کامل عطاء فرمائے آمین ثم آمین وایاک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں