یوں تو ! اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذاتِ اقدس نے اپنے محبوب حبیبِ کبریا، خاتمُ الرسول، امامُ الانبیاء، سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ اقدس کو جو بے شمار کمالات و معجزات سے نوازا ہے، جن کا شمار کرنا عام انسان کے بس کی بات نہیں۔ تمام انبیاء و رسل کو جو کمالات و معجزات عطا کیے گئے، وہ ایک طرف، اور آپ ﷺ کو جو کمالات و معجزات عطا کیے گئے، وہ الگ ایک مقام رکھتے ہیں۔
یوں تو سب کے سب معجزات اور کمالات اپنی مثال آپ ہیں
مگر میری نظر سب سے منفرد کمال اور معجزاہ وہ آپ محمد مصطفیٰ ﷺ کو حاصل ہے وہ نبوت قبل از آدم نبینا و علیہ الصلوۃ والتسلیم اور ختم نبوت بعد از انبیاء کا اعزاز ہے
یہ دو معجزاتِ و کمالات ایسے ہیں جو ذات باری تعالٰی نے اپنے محبوب کو عطا کیے اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس کے عظیم تر عظیم ہونے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے
نبوت قبل از آدم نبینا و علیہ الصلوۃ والتسلیم ایک ایسا کمالِ معجزہ ہے کہ جس پر انسانی کی سوچ کا اختتام ہو جاتا ہے
محمد نہ ہوتے یہ خدائی نہ ہوتی
خدا نے یہ دنیا بنائی نہ ہوتی
فرمان مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم ہے
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
: «کُنْتُ نَبِیًّا وَآدَمُ بَیْنَ الْمَاءِ وَالطِّینِ» یا «وَآدَمُ بَیْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ»معنی: “میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم پانی اور مٹی (یا روح اور جسم) کے درمیان تھے۔ اس سے مراد حضور اکرم ﷺ کی روحانی عظمت، مقامِ ولادتِ نبوت اور ازلی تقدیر میں آپ کے منصبِ رسالت کا طے ہونا ہے، جو تمام مخلوقات اور حضرت آدم نبینا و علیہ الصلوۃ والتسلیم کی تخلیق سے بھی پہلے اللہ کے ہاں مقرر تھا۔ اس روایت کو امام ترمذی، امام حاکم اور دیگر محدثین نے نقل کیا ہے
ایک اور روایت تاریخ ابن عساکر میں ہےحضرت کعب الاحباررضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم پر تمام انبیاء مرسلین (علیھم الصلوۃ والتسلیم)کی تعداد کے برابر لاٹھیاں نازل فرمائیں۔ پھر وہ اپنے بیٹے حضرت شیث علی نبیناوعلیہ الصلوۃ والتسلیم کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: میرے بیٹے! میرے بعد تم میرے خلیفہ ہو، لہٰذا اس خلافت کو تقویٰ اور عروۂ وُثقی کے ذریعے تھامنا۔ اور جب بھی تم اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا تو محمد(صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر بھی کرنا،کیونکہ جب مَیں روح اور مٹی کے درمیان تھا، مَیں نے عرش کے پائے پر ان کا نام لکھا دیکھا تھا۔ پھر مَیں نے آسمانوں کا چکر لگایا تو ایسی کوئی جگہ نہ تھی جہاں محمد(صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم) کا نام نہ لکھا ہو۔ نیز میرے رب(عزوجل) نے مجھے جنت میں ٹھہرایا تو مَیں نے جنت میں کوئی محل یا کوئی کمرہ ایسا نہیں دیکھا جہاں محمد(صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم) کا نام نہ لکھا ہو۔ مَیں نے محمد(صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم) کا نام جنت کی حوروں کے سینوں پر لکھا دیکھا، جنت کے محلات کی اینٹوں پر، طوبیٰ کے درختوں کے پتوں پر، سِدرۃ المنتہیٰ کے پتوں پر، پردوں کے اطراف پر اور فرشتوں کی آنکھوں کے درمیان اسے لکھا دیکھا۔ لہٰذا تم ان کا ذکر کثرت سے کرنا، اس لیے کہ فرشتے بھی ہر وقت آپ(صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر کرتے ہیں۔(تاریخ دمشق ابن عساکر،جلد23،صفحہ281،مطبوعہ:دار الفکر،
نبوت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم قبل از آدم نبینا و علیہ الصلوۃ والتسلیم کی ایک روایت یوں بیان کی جاتی ہے کہ
اس روایت میں وسیلہ کا مسلہ بھی حل ہو جاتا ہے کہ نیک بندوں کا وسیلہ دے کر دعائیں کرنا بدعت نہیں نبینا آدم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی سنت ہے
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدم نبینا و علیہ الصلوۃ والتسلیم گناہ کرنے لگے جو گناہ انہوں نے کیا تھا تو اپنا سر عرش کی طرف اٹھایا اور کہا: اے اللہ! میں تجھ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حق کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے معاف کر دے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ ’محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا اور کون ہیں؟‘ تو انہوں نے کہا: تیرا نام بابرکت ہے، جب تو نے مجھے پیدا کیا تو میں نے اپنا سر تیرے عرش کی طرف اٹھایا تو اچانک وہاں یہ لکھا ہوا دیکھا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ» تو میں نے جان لیا کہ جس کے نام کو تو نے اپنے نام کے ساتھ کیا اس سے زیادہ قدر و منزلت والا تیرے نزدیک اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی: ’اے آدم! تیری اولاد سے وہ آخری نبی ہیں اور ان کی امت تیری اولاد سے تمام امتوں سے آخر میں ہو گی، اور اے آدم! اگر وہ نہ ہوتے تو میں تجھ کو پیدا بھی نہ کرتا۔‘“ [معجم صغير للطبراني/كتاب المناقب/حدیث: 903]
میری نظر کی آڑ میں ان کا ظہور تھا
اللہ ان کے نور کا پردہ بھی نور تھا
نبوت محمدی صلی اللّٰہ علیہ کی تصدیق کو مہر ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالٰی نے اپنے محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کو زمین پر بھیجنے سے قبل ہی ختم نبوت کا اعزاز دے دیا تھا اور یہ وہ کمالے نبوت ہے جس کے لیے اللہ تعالٰی نے انبیاء علیہ الصلوۃ والتسلیمات کو زمین پر اتارنے سے قبل اپنے محبوب کی نبوت کا اقرار کروایا اور گواہی دی قرآن میں سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 81 میں آتا ہے
“اور (وہ وقت یاد کرو) جب اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمہیں کتاب اور حکمت دوں، پھر تمہارے پاس وہ رسول تشریف لائے جو تمہاری کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہو، تو تم ضرور بالضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور بالضرور اس کی مدد کرنا۔ اللہ نے فرمایا: کیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا ؟ سب نے عرض کیا: ہم نے اقرار کیا۔ فرمایا: تو ایک دوسرے پر گواہ ہو جاؤ اور میں خود بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں
منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی
قسمت کھلی ترے قد و رخ سے ظہور کی
بے شک ختم نبوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس کا وہ کمال ہے جس کی بدولت تمام انبیاء علیہ الصلوۃ والتسلیمات کو نبوت و رسل کا تاج ملا بلکہ یوں کہوں کہ اگر محمد نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کو باری تعالٰی نے قرآن میں یوں بیان فرمایا
مفہوم سورہ الاعراف آیت نمبر 158 کا ہے
آپ ﷺ کا اعلانِ عام کہ آپ تمام انسانوں کے لیے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں، لہٰذا اب قیامت تک آنے والا ہر انسان اسی شریعت اور نبی کا تابع ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے اوپر باری تعالٰی نے قرآن کی اس آیت کے ذریعے مہر لگا کہ میرا محبوب صلی اللہ علیہ وسلم ہی آخری نبی ہے
سورہ الاحزاب کی آیت نمبر 40 میں باری تعالٰی فرماتے ہیں
مفہوم: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم کرنے والے (آخری نبی) ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے
حدیثِ مبارکہ میں یوں آتا ہے
مجھے دوسرے انبیاء پر چھ چیزوں میں فضیلت دی گئی ہے: مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے، رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی، میرے لیے مالِ غنیمت حلال کیا گیا، میرے لیے ساری زمین پاک اور مسجد بنا دی گئی، مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا، اور مجھ پر انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔” (صحیح مسلم:
اک اور جگہ ارشاد فرمایا ترجمہ: “بنو اسرائیل کی قیادت خود ان کے انبیاء کرتے تھے، جب ایک نبی کی وفات ہوتی تو دوسرا نبی اس کا جانشین بن جاتا، اور یقیناً میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔” (صحیح بخاری: 3455
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے بعد آنے والے جھوٹے مدعیان نبوت کی نفی اس انداز میں کی کہ کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا اور کاذاب ہو گا
ارشاد فرمایا “قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تقریباً تیس (30) کذاب (بڑے جھوٹے) ظاہر ہوں گے، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ ہوگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔” (صحیح مسلم:
پھر فرمایا اور میں خاتم النبیین (آخری نبی) ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔” (صحیح مسلم:
ختم نبوت پر اتنا زور اس لیے دیا گیا کہ شریعت اور دین اب مکمل ہوچکا ہے اپ کے بعد جو بھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے گا وہ کاذاب اور مرتد ہوگا
باری تعالٰی نے سورہ المائدہ کی آیت نمبر 3 میں ارشاد فرمایا آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین (معیشت و ضابطہ حیات) پسند کر لیا
نبوت ختم ہے تجھ پر، رسالت ختم ہے تجھ پر
ترا دیں ارفع و اعلیٰ، شریعت ختم ہے تجھ پر
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے محبوب حبیب کبریا امام انبیاء سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا امتی اور سیرت و صورت اپنانے کی توفیق عطا فرمائے آمین
و ما علینا الا البلاغ المبین