Muhammad Riaz 0

انٹرنیشنل/دنیا میں بڑھتا ہوا اسلام فوبیا، وجوہات، حقائق اور تدارک کی عالمی کوششیں/تحریر/محمد ریاض ایڈووکیٹ

اسلام فوبیا آج دنیا کو درپیش اہم سماجی، سیاسی اور انسانی حقوق کے مسائل میں سے ایک ہے۔ اس اصطلاح سے مراد اسلام یا مسلمانوں کے بارے میں غیر معمولی اور غیر معقول خوف، نفرت، تعصب یا امتیازی رویہ ہے۔ اگرچہ مختلف مذاہب اور اقوام کو تعصب اور نفرت کا سامنا رہا ہے، لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں اسلاموفوبیا نے ایک عالمی رجحان کی شکل اختیار کرلی ہے۔ مغربی دنیا میں دہشت گردی کے چند بڑے واقعات، سیاسی پولرائزیشن، ہجرت کے بحران، سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہمات اور بعض سیاسی رہنماؤں کے بیانات نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ یورپ، امریکہ اور دیگر خطوں میں مسلمانوں کو مذہبی شناخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک، نفرت انگیز جرائم اور سماجی تعصب کا سامنا ہے۔
اسلام فوبیا کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے نمایاں وجہ اسلام کے بارے میں لاعلمی اور غلط فہمیاں ہیں۔ اقوام متحدہ کے اسلام فوبیا کے خلاف خصوصی نمائندے میگیل آنخل موراتینو کے مطابق مغربی دنیا میں اسلام کے بارے میں معلومات کا شدید فقدان پایا جاتا ہے اور لوگ اکثر ایسے ذرائع سے متاثر ہوتے ہیں جو اسلامی تعلیمات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض انتہاپسند گروہوں کے اقدامات کو پورے مذہب اور تمام مسلمانوں سے منسلک کر دیا جاتا ہے، جس سے عام مسلمانوں کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہوتا ہے۔ میڈیا کی بعض رپورٹس اور فلمی و سیاسی بیانیے بھی اسلام کو سیکیورٹی یا انتہاپسندی کے تناظر میں پیش کرکے تعصبات کو ہوا دیتے ہیں۔
اسلام فوبیا کے فروغ میں سیاسی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں بعض سیاسی جماعتیں اور رہنما مذہبی اور ثقافتی اختلافات کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ موراتینو نے خبردار کیا ہے کہ کئی سیاسی تحریکیں مذہب کو تقسیم اور گروہ بندی پیدا کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہمات کو اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر نظر انداز کیا جاتا ہے۔
ایک اور اہم وجہ مسلمانوں کی آبادی میں اضافے اور ہجرت کے بارے میں پائے جانے والے خدشات ہیں۔ بعض یورپی اور مغربی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی مقامی ثقافت، قومی شناخت یا سیاسی نظام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اگرچہ آبادیاتی تبدیلیوں پر علمی اور پالیسی سطح کی بحث ایک جائز موضوع ہے، لیکن جب ایسے خدشات مبالغہ آرائی، خوف یا عمومی تاثر کی بنیاد پر پیش کیے جائیں تو وہ اسلاموفوبیا بیانیے کا حصہ بن جاتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں اسلام فوبیا کے کئی نمایاں واقعات سامنے آئے ہیں۔ اگست 2026 میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے برطانیہ کو طنزیہ انداز میں ’’اسلامی جمہوریہ برطانیہ‘‘ قرار دیا۔ اس بیان پر برطانوی اور آئرش یہودی تنظیموں سمیت متعدد شخصیات نے شدید تنقید کی اور اسے تقسیم پیدا کرنے والی اور اسلاموفوبک زبان قرار دیا۔ سابق برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کے سابق چیف آف اسٹاف گیون بارویل نے اس بیان کو ’’کھلی اسلاموفوبیا‘‘ قرار دیا۔ اس واقعے نے یہ واضح کیا کہ اسلاموفوبیا صرف عوامی سطح کا مسئلہ نہیں بلکہ بعض اوقات عالمی رہنماؤں کی زبان اور سیاسی بیانیوں میں بھی جھلکتا ہے۔
امریکہ میں بھی مسلمانوں کے خلاف تعصب میں اضافہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست ٹیکساس میں اسلام فوبیا بڑھ رہا ہے اور مسلم کمیونٹی کو دھمکیوں، توہین آمیز رویوں اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بعض مسلم اداروں کو دہشت گردی کی دھمکیاں دی گئیں جبکہ بعض سیاسی شخصیات نے انتہائی سخت مسلم مخالف بیانات بھی دیے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اسلام فوبیا صرف نظریاتی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے عملی اثرات بھی مسلم کمیونٹی کی سلامتی اور بنیادی حقوق پر مرتب ہو رہے ہیں۔
یورپ میں بھی مسلم مخالف واقعات میں اضافہ ایک تشویشناک حقیقت بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کے مطابق یورپ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایشیا اور افریقہ کے بعض خطوں میں بھی یہ رجحان بڑھ رہا ہے۔ مساجد پر حملے، مسلم خواتین کے خلاف امتیازی رویے، حجاب پر تنازعات اور مہاجر مسلم آبادیوں کے خلاف نفرت انگیز مہمات اس رجحان کی مختلف شکلیں ہیں۔
اسلام فوبیا کے سدباب کے لیے عالمی سطح پر مختلف اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے 15 مارچ کو اسلام فوبیا کے خلاف عالمی دن قرار دیا ہے اور اس مسئلے کے حل کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر کام جاری ہے۔ موراتینو کے مطابق اقوام متحدہ اسلام فوبیا کی واضح تعریف، تعلیمی اقدامات، مؤثر قانون سازی اور نگرانی کے نظام کی بہتری پر مشتمل ایک جامع منصوبہ تیار کر رہا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب کے مختلف مظاہر کی نشاندہی اور ان کا مؤثر تدارک کرنا ہے۔
اسلامی ممالک بھی مختلف عالمی فورمز پر اسلام فوبیا کے مسئلے کو اجاگر کر رہے ہیں۔ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) مسلسل اس مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھاتی رہی ہے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم اور مذہبی امتیاز کے خلاف مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرتی ہے۔ متعدد مسلم ممالک نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں میں اسلام فوبیا کے خلاف قراردادوں کی حمایت کی ہے تاکہ مذہبی آزادی اور باہمی احترام کو فروغ دیا جا سکے۔
علمائے دین اور مذہبی اداروں کی ذمہ داری بھی اس ضمن میں نہایت اہم ہے۔ ماہرین کے مطابق اسلام فوبیا کا مقابلہ صرف سیاسی یا قانونی اقدامات سے نہیں بلکہ تعلیم، مکالمے اور آگاہی کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے حقیقی پیغام، بقائے باہمی، رواداری اور انسان دوستی کو دنیا کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ موراتینو نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ اسلام کے بارے میں درست معلومات عام کی جائیں اور سکولوں، جامعات اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے غلط فہمیوں کا خاتمہ کیا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام فوبیا صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور سماجی ہم آہنگی کا مسئلہ ہے۔ جب کسی مذہبی یا نسلی گروہ کے خلاف نفرت کو معمول بنا دیا جائے تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ دنیا کو ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں اختلافِ عقیدہ کے باوجود احترام، برداشت اور مساوات کو فروغ دیا جائے۔ اسلاموفوبیا کے خلاف مؤثر جدوجہد اسی وقت ممکن ہے جب حکومتیں، عالمی ادارے، مذہبی رہنما، میڈیا اور سول سوسائٹی مل کر تعصب، نفرت اور غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ یہی راستہ ایک پرامن، متوازن اور انصاف پر مبنی عالمی معاشرے کی طرف لے جا سکتا ہے۔
اسلام

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں