Sadiq Qalati 0

لاپتہ افراد کا عالمی دن/تحریر/صادق قلاتی

ہر سال 30 اگست کو دنیا بھر میں لاپتہ افراد کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2010ء میں قرارداد 65/209 کے ذریعے اس دن کو جبری گمشدگیوں کے متاثرین سے منسوب کیا اور 2011ء سے اسے عالمی سطح پر منانے کا فیصلہ کیا۔ اس دن کا مقصد محض ان لوگوں کو یاد کرنا نہیں جو اپنے گھروں سے نکلے اور واپس نہ آئے، بلکہ دنیا کو یہ یاد دلانا بھی ہے کہ کسی انسان کو قانون کی نظروں سے اوجھل کردینا ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا تعلق براہِ راست انسانی وقار، آزادی، انصاف اور ریاستی ذمہ داری سے ہے

دنیا کے مختلف خطوں میں جنگوں، سیاسی کشمکش، آمرانہ ادوار، مسلح تنازعات اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران لوگ لاپتہ ہوتے رہے ہیں۔ اور یہ تعداد ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی ہیں

کسی اپنے کی موت کا غم اپنی جگہ ناقابلِ برداشت ہوتا ہے، لیکن لاپتہ ہوجانے کا دکھ اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔ موت کم از کم ایک حقیقت اپنے پیچھے چھوڑ جاتی ہے جبکہ جبری گمشدگی خاندان کو حقیقت سے بھی محروم کردیتی ہے۔ ماں کو معلوم نہیں ہوتا کہ بیٹا زندہ ہے یا نہیں، بیوی کو خبر نہیں ہوتی کہ شوہر کس حال میں ہے، بچے برسوں تک دروازے کی طرف دیکھتے رہتے ہیں اور خاندان عدالتوں، تھانوں، سرکاری دفاتر اور انسانی حقوق کے اداروں کے درمیان جواب تلاش کرتا رہتا ہے

اقوامِ متحدہ بھی اس اذیت کو محض ایک فرد کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں سمجھتی بلکہ اسے خاندان اور پورے معاشرے کو متاثر کرنے والا جرم قرار دیتی ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق جبری گمشدگی سے متاثرہ خاندان کو اپنے عزیز کے بارے میں سچ جاننے، انصاف حاصل کرنے اور مؤثر تلافی کا حق حاصل ہے۔

یہ مسئلہ کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق جبری گمشدگی آج بھی دنیا کے مختلف حصوں میں ایک عالمی مسئلہ ہے اور کم از کم 85 ممالک میں تنازعات یا جبر کے ادوار کے دوران بڑی تعداد میں لوگ لاپتہ ہوئے ہیں۔ 2025ء میں اقوامِ متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے جبری یا غیر رضاکارانہ گمشدگیاں نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 1980ء میں اپنے قیام سے لے کر اب تک وہ 62,904 کیسز متعلقہ ریاستوں کو بھیج چکا ہے، جبکہ 100 ممالک میں 49,664 کیسز ایسے تھے جو ابھی تک واضح، بند یا ختم نہیں ہوئے تھے

کسی بث ریاست کی بنیادی زمرہ داری ہے کہ شہری قانون کے تحفظ میں زندگی گزارے۔ اگر کسی شخص پر جرم کا الزام ہے تو اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے، اس کے خلاف شواہد پیش کیے جائیں اور قانون کے مطابق فیصلہ ہو۔ اگر وہ بے گناہ ہے تو اسے آزادی ملنی چاہیے، اور اگر مجرم ہے تو سزا بھی قانونی طریقے سے ہونی چاہیے۔

جب کسی شخص کو حراست میں لے کر اس کی موجودگی تسلیم نہ کی جائے، اس کے اہل خانہ کو اس کے بارے میں معلومات نہ دی جائیں اور اسے قانونی تحفظ سے محروم کردیا جائے تو مسئلہ صرف گمشدگی کا نہیں رہتا بلکہ قانون کی عمل داری کا سوال بن جاتا ہے۔

عالمی قوانین کے مطابق جبری گمشدگی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ اس سے زندگی، آزادی، سلامتی، تشدد سے تحفظ، منصفانہ سماعت اور مؤثر قانونی چارہ جوئی سمیت کئی بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔

دنیا نے گزشتہ چند دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف ایک طویل جنگ دیکھی ہے۔ ریاستوں کو اپنے شہریوں کی حفاظت، دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی اور قومی سلامتی کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ قومی سلامتی کے نام پر قانون کی بنیادی ضمانتیں کہاں تک معطل کی جاسکتی ہیں؟
یہاں ایک اصول واضح ہونا چاہیے دہشت گردی کا مقابلہ بھی قانون کے ذریعے ہونا چاہیے اور انسانی حقوق کا تحفظ بھی قانون کے ذریعے۔
اقوامِ متحدہ نے بھی اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ بعض اوقات جبری گمشدگیوں کو جرائم یا دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے نام پر جائز قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق وکلا، گواہان، سیاسی مخالفین، انسانی حقوق کے کارکن اور متاثرہ خاندان خاص طور پر خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ریاست کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی سے روک دیا جائے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ریاستی طاقت بھی قانون کے تابع ہو۔ کیونکہ اگر قانون کی حفاظت کرنے والا ہی قانون سے بالاتر ہوجائے تو پھر عام شہری کس دروازے پر دستک دے؟
پاکستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ مختلف علاقوں میں مختلف صورتوں میں سامنے آیا ہے، لیکن بلوچستان میں اس کی حساسیت غیر معمولی ہے۔ یہاں یہ مسئلہ صرف انسانی حقوق کا سوال نہیں رہا بلکہ سیاست، ریاست، قومی سلامتی، مسلح شورش اور عوامی اعتماد کے پیچیدہ باہمی تعلق سے جڑ چکا ہے۔
بلوچستان کے حالات کو سمجھنے کے لیے یہ حقیقت بھی سامنے رکھنا ضروری ہے کہ صوبے نے طویل عرصے سے دہشت گردی، مسلح تشدد، ٹارگٹ کلنگ اور ریاستی و غیر ریاستی کشمکش کا سامنا کیا ہے۔ عام شہری بھی اس کشمکش میں شدید متاثر ہوئے ہیں۔ اس لیے بلوچستان کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے نہ دہشت گردی کے متاثرین کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے اور نہ لاپتہ افراد کے خاندانوں کے دکھ کو۔
یہاں بھی اصول وہی ہونا چاہیے جو دنیا کے ہر مہذب معاشرے کے لیے ہے اگر کوئی شخص کسی جرم میں ملوث ہے تو اسے گرفتار کیا جائے، اس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے اور عدالت فیصلہ کرے۔ اگر وہ بے گناہ ہے تو اسے آزاد کیا جائے۔ اگر اس کے بارے میں کوئی حتمی معلومات موجود نہیں تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اس کی تلاش اور معاملے کی شفاف تحقیقات کرے۔

بلوچستان کے مسئلے کو محض ایک سکیورٹی مسئلہ سمجھنا بھی درست نہیں اور ہر سکیورٹی کارروائی کو جبری گمشدگی قرار دینا بھی انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ حقیقت تک پہنچنے کا واحد راستہ آزاد، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات ہیں

لاپتہ افراد کے مسئلے کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس کا اثر صرف لاپتہ شخص تک محدود نہیں رہتا۔ ایک پورا خاندان غیر یقینی کی زندگی گزارنے لگتا ہے۔
گھر کا معاشی نظام متاثر ہوتا ہے، بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، خواتین ذہنی اور سماجی دباؤ کا شکار ہوتی ہیں منگیتر دہائیوں تک اپنے رشتہ کے لیے پریشان ہوتے ہیں اور خاندان برسوں تک اس امید میں زندہ رہتا ہے کہ شاید آج دروازہ کھلے اور وہ شخص واپس آجائے۔

اسی لیے عالمی انسانی حقوق کے نظام میں خاندان کے حقِ دانستگی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اگر کوئی شخص مر چکا ہے تو اس کے خاندان کو حقیقت جاننے کا حق ہے اگر وہ زندہ ہے تو اس کا مقام معلوم ہونا چاہیے اگر وہ حراست میں ہے تو اس کی قانونی حیثیت واضح ہونی چاہیے۔

آج جب دنیا مختلف جنگوں، سیاسی بحرانوں، داخلی تنازعات اور سلامتی کے مسائل سے گزر رہی ہے تو ایسے میں لاپتہ افراد کا عالمی دن ایک بنیادی اصول کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ انسان کو قانون سے غائب نہیں کیا جاسکتا۔

ریاستیں قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اقدامات کریں لیکن ہر کارروائی قانونی دائرے میں ہو۔ مسلح گروہوں اور دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے اغوا اور گمشدگی بھی اسی طرح قابلِ مذمت ہے جیسے ریاستی اختیار کے غلط استعمال سے کسی شخص کو قانون کی دسترس سے باہر کردینا۔ اقوامِ متحدہ نے واضح کیا ہے کہ جبری گمشدگی کسی بھی جانب سے انسانی حقوق اور انسانی وقار کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ باقی دنیا بھی اس عالمی قانونی عزم کو مضبوط کرے اور ریاستیں جبری گمشدگیوں کی روک تھام، تحقیقات، ذمہ داروں کے احتساب اور متاثرہ خاندانوں کی داد رسی کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

لاپتہ افراد کا عالمی دن ہمیں کسی حکومت، کسی ریاست، کسی سیاسی جماعت یا کسی مخصوص خطے کے خلاف کھڑا ہونے کا دن نہیں یہ انسان کے حق میں کھڑے ہونے کا دن ہے۔
جب کوئی ماں اپنے بیٹے کی تصویر سینے سے لگا کر پوچھتی ہے کہ وہ کہاں ہے، تو اس سوال کی زبان مختلف ہوسکتی ہے، درد ایک ہی ہوتا ہے۔

دنیا کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ کسی انسان کا غائب ہوجانا صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں یہ قانون، ریاست، معاشرے اور انسانیت سب کے لیے امتحان ہے۔

اگر کوئی شخص مجرم ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔
اگر بے گناہ ہے تو اسے رہا کیا جائے۔
اگر لاپتہ ہے تو اس کا سراغ لگایا جائے۔
اور اگر اس کے ساتھ کوئی جرم ہوا ہے تو مجرم کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

لاپتہ افراد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں