گزشتہ روز نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس منعقد ہوئی جس میں لبرل کمیونٹی سے تعلق رکھنے آفراد نے دفعہ تعزیرات پاکستان 295 سی کے خلاف دل کھول کر بھڑاس نکالی
یہ دفعہ 295 A.B.C ہے کیا اور کہاں سے شروع ہوئی اس کا مقصد کیا ہے
قیام پاکستان سے قبل آل انڈیا پینل کوڈ برطانوی حکومت نے ہندوستان میں مذہبی منافرت کو کم کرنے کے لیے ایک قانون متعارف کروایا جسے تعزیرات ہند A 295 کا نام دیا گیا اس کا مقصد ہندوستان میں مذہبی جذبات کو دانستہ اور بدنیتی سے مجروح کرنے والے بیانات یا اعمال سے متعلق تنازعات کو روکنا تھا 1927 میں گستاخ راج پال ناشر نے اپنی کتاب میں توہین رسالت کی تھی اس وقت ایسا کوئی قانون نہیں موجود تھا جس کے تحت راج پال کو سزا دی جاتی لہذا قائد اعظم محمد علی جناح اور آل انڈیا پینل نے 1927ء میں Indian Penal Code میں دفعہ 295-A شامل کی گئی۔ اس کا بنیادی مقصد کسی طبقے کے مذہب یا مذہبی عقائد کی دانستہ اور بدنیتی سے توہین کرکے مذہبی جذبات مجروح کرنے کو جرم قرار دینا تھا۔ قیام پاکستان کے 1982 تک یہ دفعہ موجود رہی اس کے بعد 295 A میں کچھ ترمیم کرکے تعریرات پاکستان 295 B کا اضافہ کیا گیا
اس دفعہ میں قرآن مجید اور مقدس اوراق کی توہین بے حرمتی کا قانون شامل کیا گیا
اس کے بعد پاکستان 1986ء میں Criminal Law (Amendment) Act III of 1986 کے ذریعے دفعہ 295-C شامل ہوئی۔ یہ خاص طور پر حضور نبی کریم ﷺ کے مقدس نام کی توہین سے متعلق تھی اس دفعہ 295-C میں سزائے موت یا عمر قید اور جرمانہ رکھا گیا تھا۔ بعد میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے نتیجے میں عمر قید کے متبادل کو ختم کر دیا گیا؛ موجودہ پاکستان کوڈ میں دفعہ 295-C کے تحت سزائے موت اور جرمانہ عائد کیا گیا
اب سوال یہ ہے کہ توہین رسالت کا قانون ہی متنازع کیون بنایا جا رہا ہے
اگر دیکھا جائے تو دنیا ایک رول اور لاء کے تحت چل رہی ہے
اگر ہم بات کریں تو سیدنا آدم نبینا علیہ السلام کی پیدائش سے قبل بھی جزا و سزا کا ذکر ملتا ہے
تاریخ میں ان کا ذکر ان الفاظ میں ملتا ہے روایات کے مطابق جنات نے زمین پر نافرمانی کی اور آپس میں خونریزیاں شروع کیں تو باری تعالیٰ نے ابلیس اور فرشتوں کو زمین پر ان کی سرکشی کی سزا دینے کا حکم دیا فرشتے نافرمان جنات کو شکست دے کر سمندروں کے جزائر اور پہاڑوں کے دروں میں دھکیل آئے جہاں وہ محکوم ہو کر رہ گئے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا قول ادم علیہ السلام کی پیدائش سے دو ہزار سال پہلے زمین پر ‘جن اور بن’ آباد تھے، انہوں نے جب فساد کیا تو اللہ نے فرشتوں کا لشکر بھیجا جنہوں نے انہیں جزیروں کی طرف جلاوطن کر دیا۔” (البدایہ والنہایہ)
جب قبل از آدم علیہ السلام اور بعد از آدم علیہ السلام میں سزاؤں کا ذکر ملتا ہے تو پاکستان میں ہی کیوں توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون سے مڑور اٹھتے ہیں
پاکستان میں زیر دفعہ 295 اے بی اور سی میں مسلم مقدسات کے علاؤہ تمام مذاہب کے مقدسات کا تحفظ کیا گیا ہے جس کو اسلام نے بیان کیا ہے ہمارے نزدیک تمام انبیاء علیہ السلام اور ان کے پیروکار سب کے سب محترم ہیں اسلام نے ان کی حرمت کو قرآن میں بیان کیا ہے جیسے واقع ملکہ بلقیس کے تحت کا جو اس وقت کے ایک آللہ والے کے ہاتھ پر رونما ہوا اور اس واقع کی گواہی اللہ نے قرآن میں خود بیان کی
دنیا میں توہین عدالت سے لے کر توہین صدر ۔ وزیر اعظم سیاسی شخصیات حتی کہ جانوروں کے حقوق اور تحفظ کا قانون موجود ہے
تو پھر آقائے دو جہاں ﷺ، سرورِ کائنات ﷺ، امامُ الانبیاء ﷺ، خاتمُ النبیین ﷺ، خاتمُ الرسل ﷺ، حبیبِ کبریا ﷺ۔
جیسی مقدس ترین ہستی کی تحفظ پر بننے والا قانون قابل قبول کیوں نہیں
0