اساتذہ کرام معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حال ہی میں سرحد یونیورسٹی میں ایک خاتون ٹیچر ( ڈاکٹرعینا) کے ساتھ طلبہ کے ہجوم نے بدتمیزی کی ۔ انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ خواتین اساتذہ تو ماں کا درجہ رکھتی ہیں ،ان کے طلبہ ہی اگر جسمانی ہراسمنٹ پر اتر آتے ہیں تو پھر ہمیں ایسی نوجوان نسل پر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ لینا چاہئیے۔ وہ خاتون ٹیچر جیسے اتنے مرد طلبہ میں گھری ہوئی اور خوف زدہ نظر آرہی ہے، ایک لمحہ کے لئے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ وہاں ہماری بہن، بیٹی یا ماں ہو تو ہمارا ردعمل کیا ہوگا؟ اگر طالب علم اپنی ٹیچر کو دھکے مار رہے اور زمین پر گرا رہے ہیں تو ایسی حالت میں وہ اپنے شوہر کو ہی پکارے گی اور کیا چارہ ہے اس کے پاس اپنی عزت کی حفاظت کا؟
سلام ہے اس شوہر پر جو نہ صرف تنہا اس ہجوم میں آیا بلکہ اپنی اہلیہ کو بچا لے گیا ۔اس نے وہی کیا جو اس کا فرض تھا اور انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ کسی کی جان اور آبرو خطرے میں ہو تو وہ گھر جاکے لباس تبدیل نہیں کرے گا بلکہ جس یونیفارم یا لباس میں ہوگا ،اپنی بیوی کو ہجوم سے بچانے کے لئے فوراً بھاگے گا۔ جو لوگ اعتراض کررہے ہیں کہ ٹیچر کا شوہر فوجی وردی میں کیوں آیا ،ان کی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے !
فوٹیج سے صاف ظاہر ہے کہ طلبہ کے ہجوم نے کرنل صاحب کو بھی گھیرے میں لے کر حملہ کیا اور ان کی وردی پھاڑنے کی کوشش کی۔( اس وقت بھی کرنل صاحب نے اپنے حواس سلامت رکھے اور صرف ہوائی فائر کیا). افواج پاکستان کی وردی ،ریاست پاکستان کی نمائندگی کرتی ہے !
وہ وردی جو وطن کا محافظ اپنی قوم کی حفاظت کے لئے پہنتا ہے !
نعرہء تکبیر لگا کے اسی وردی میں شہید ہوتا ہے!
،اس کے تقدس کی قسم ،اسے پھاڑنے والے کبھی خدائی قہر سے بچ نہیں سکتے!
جس طرح مشتعل طلبہ کے گروہ نے اپنی ٹیچر کو جسمانی طور پر ہراساں کیا ،وہ جین زی میں انتہائی خطرناک رجحان کا الارم ہے کہ اسے مشتعل کرکے کسی بھی اخلاقی یا نفسیاتی حد پار کرواسکتے ہیں۔ ( ان طلبہ کے پیچھے جرائم یافتہ تنظیموں کا ہاتھ محسوس ہوتا ہے).یونیورسٹی انتظامیہ کو چاہئیے کہ ایسے طالب علموں کو نہ صرف یونیورسٹی سے خارج کرے بلکہ قانونی کارروائی کرکے سزا سنائی جاۓ۔ واقعے کی فوٹیج سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک سکرپٹڈ واقعہ تھا جس کی باقاعدہ پلاننگ کی گئی تھی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے واقعے کی تحقیقات کی بات کی ہے ۔ تنازعہ جو بھی ہو ،عدل کا تقاضا یہ ہے کہ اس سانحہ سے قبل یونیورسٹی کے جو حالات تھے ،ان کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے ورنہ اگر تعلیمی اداروں کے ایسے ہی حالات رہے ،ماؤں ،بہنوں کی عزت و ناموس پر علی الاعلان حملے ہوتے رہے تو پھر نہ خواتین طالبات پڑھنے جائیں گی اور نہ اساتذہ پڑھانے جائیں گی۔ جب خواتین اپنی حرمت کی خاطر حالت_ خوف میں اپنے گھروں تک محدود ہو جائیں گی تو اگلی نسل اس سے زیادہ جاہل اور جارح پیدا ہوگی۔ سوچیں !
خدارا اپنی آنکھیں کھولیں ،دیوار پر لکھا نوشتہ پڑھیں اور اپنی سوچ کو حقیقت کی کسوٹی پر رکھ کے پرکھیں۔
اب وقت آگیا ہے کہ مجرم جو بھی ہو، چھوٹا ہویا بڑا ہو، عدالت عدل پر مبنی فیصلہ سناۓ۔ مائیں بہنیں ،بیٹییاں ہر گھر کی زینت ہیں ،ان کی عزت پر آنچ نہ آنے دی جاۓ کہ *مومن کی جان و آبرو خانہء کعبہ سے زیادہ حرمت رکھتی ہے*!
اساتذہ کرام
0