Sara Zafar 0

کچھ مسافتیں ادھوری سی/تحریر/سارہ ظفر

انسان کے مقدر میں چلنا لکھا ہے۔ گہوارے سے قبر تک ہر قدم ایک سفر ہے۔ بعض سفر منزل کی جانب لے جاتے ہیں، بعض سفر راستے ہی میں گم ہو جاتے ہیں۔ ایسی ہی کچھ راہیں ہیں جو نہ مکمل ہو پاتیں ہیں نہ بالکل ٹوٹتیں ہیں۔ وہ بیچ میں کہیں معلق رہ جاتیں ہیں۔ نہ آگے بڑھنے دیتیں ہیں نہ پیچھے پلٹنے۔ انہی کو ہم “کچھ مسافتیں ادھوری سی” کہتے ہیں۔

انسان نے ہمیشہ وعدوں کی بنیاد پر سفر کیے ہیں۔ ایک خط کے انتظار میں عمر گزر جاتی ہے۔ ایک ملاقات کی امید پر برسوں کی دھول چہرے پر جم جاتی ہے۔ ہم اسٹیشنوں پر، چوراہوں پر، خطوں کے پتوں پر اپنے پیاروں کو ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ اور جب وہ آتے ہیں تو وقت اپنا رنگ بدل چکا ہوتا ہے۔ چہرے بدل چکے ہوتے ہیں۔ آوازیں بوجھل ہو چکی ہوتی ہیں۔ ایسی ہی ایک مسافت محبت کی ہے۔ جو دو دلوں کے درمیان شروع ہوتی ہے اور حالات کی آندھی میں کہیں کھو جاتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا۔ وہ فون کرے گا، وہ خط لکھے گا، وہ لوٹ آئے گا۔ مگر دن مہینوں میں، مہینے برسوں میں بدل جاتے ہیں۔ اور جب وہ لوٹتا ہے تو یا تو ہم بدل چکے ہوتے ہیں یا وہ۔

کچھ مسافتیں خوابوں کی بھی ہوتی ہیں۔ نوجوان آنکھوں میں بڑے بڑے ارمان لے کر گھر سے نکلتا ہے۔ شہر کی چکا چوند اسے اپنی طرف کھینچتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ ایک دن نام کمائے گا، شہرت پائے گا، ماں باپ کا سر فخر سے بلند کرے گا۔ مگر شہر اپنے حصے کا سب کچھ لے کر اسے تھکا ہوا، ادھورا واپس بھیج دیتا ہے۔ وہ مسافت بھی ادھوری رہ جاتی ہے۔ سب سے کربناک مسافت وہ ہے جو ہم خود سے کرتے ہیں۔ ہم خود کو بہتر بنانے نکلتے ہیں۔ اپنی خامیوں کو سدھارنے کا عزم کرتے ہیں۔ مگر راستے میں سہولت، کاہلی اور بے حسی ہمیں تھکا دیتی ہے۔ ہم آدھے راستے سے پلٹ آتے ہیں۔ وہ سفر بھی ادھورا رہ جاتا ہے۔ ادھوری مسافت کا المیہ یہ نہیں کہ وہ منزل تک نہیں پہنچی۔ المیہ یہ ہے کہ وہ ہمیں سکھا جاتی ہے کہ زندگی میں ہر چیز مکمل نہیں ہوتی۔ کچھ تعلق ادھورے رہ کر ہی خوبصورت لگتے ہیں۔ کچھ یادیں ادھوری رہ کر ہی دل کو چبھتی ہیں۔ اگر سب کچھ مکمل ہو جائے تو شاید حسرت کا لطف ہی جاتا رہے۔

یہ سچ ہے کہ ہر ادھوری راہ ہمارے دامن میں ایک سبق چھوڑ جاتی ہے۔ وہ ہمیں صبر سکھاتی ہے، برداشت سکھاتی ہے اور سب سے بڑھ کر خود شناسی عطا کرتی ہے۔ جب ہم ان ادھوری مسافتوں کو شکوے کے بجائے شکر سے دیکھتے ہیں تو دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔ پھر وہی ادھورے سفر ہماری زندگی کی سب سے قیمتی پونجی بن جاتے ہیں۔ اور شاید یہی زندگی کا راز ہے۔ ہم سب کسی نہ کسی ادھوری مسافت کے مسافر ہیں۔ کوئی رشتے میں، کوئی خواب میں، کوئی خود سے جنگ میں۔ ضروری نہیں کہ ہر سفر مکمل ہو۔ ضروری یہ ہے کہ ہم چلتے رہیں۔ کیونکہ چلتے رہنے سے ہی راستے بنتے ہیں، اور راستوں سے ہی انسان بنتا ہے۔

“کچھ راہیں مقصد کے بغیر بھی کٹ جاتیں ہیں
کچھ آنکھیں انتظار میں ہی ترس جاتیں ہیں
جو منزل نصیب نہ ہو سکی کبھی
وہی یادیں عمر بھر ساتھ رہ جاتیں ہیں”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں