کچھ دن قبل سوشل میڈیا پر ایک تصویر نظر سے گزری، جس میں بعض افراد دامادِ سیدۂ بتول، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شانِ اقدس میں گستاخانہ کلمات کہہ رہے تھے۔
اصحابِ محمد ﷺ اور اہلِ بیتِ اطہار کا مقام سمجھنے کے لیے سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کے مقام و مرتبے کو سمجھنا ضروری ہے۔ جو شخص رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس اور آپ ﷺ کے مقام کو نہیں سمجھتا، وہ نہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مقام صحیح طور پر سمجھ سکتا ہے اور نہ اہلِ بیتِ اطہار کا۔
ایمان کی گواہی
نبی کریم ﷺ کی آل ہو، اصحاب ہوں یا خاندانِ نبوت سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد، اصل بنیاد ایمان اور رسول اللہ ﷺ کی تصدیق ہے۔ جو شخص رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر ایمان لائے، وہی ایمان کی بنیاد پر صحابیت یا اہلِ بیت سے متعلق فضیلت و نسبت کا مستحق قرار پاتا ہے۔
مقامِ اصحابِ محمد ﷺ
صحابۂ کرام اور اہلِ بیتِ اطہار کا مقام سمجھانے کے لیے قرآنِ مجید نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و اتباع کو بنیادی اصول قرار دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ سورۃ الحشر کی آیت 7 میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾
ترجمہ:
“اور رسول تمہیں جو کچھ عطا فرمائیں وہ لے لو، اور جس چیز سے منع فرمائیں اس سے باز رہو۔”
اسی حقیقت کی وضاحت رسول اللہ ﷺ نے حدیثِ مبارکہ میں فرمائی:
“جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔”
یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی دعوت پر ایمان لایا، آپ ﷺ کی اطاعت کی، آپ ﷺ کی نصرت کی اور آپ ﷺ کے ساتھ وفاداری کا عملی ثبوت دیا؛ یہی اصحابِ محمد ﷺ کہلائے۔
اصحابِ محمد ﷺ کی محبتِ رسول ﷺ
اللہ تعالیٰ نے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت، اخلاص اور قربانیوں کو قرآنِ مجید میں بیان فرمایا۔
سورۃ الحشر، آیت 8 میں مہاجرینِ کرام کے بارے میں ارشاد فرمایا:
“یہ ان مہاجرین محتاجوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکال دیے گئے، وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں۔ یہی لوگ سچے ہیں۔”
اور سورۃ الفتح، آیت 29 میں ارشاد فرمایا:
“محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں نہایت رحم دل ہیں۔ تم انہیں رکوع و سجود کرتے دیکھو گے، وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضا تلاش کرتے ہیں۔”
یہ قرآنِ مجید کی واضح گواہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب ایمان، اخلاص، عبادت، باہمی محبت اور اللہ کی رضا کے طلب گار تھے۔
بیعتِ رضوان اور صحابۂ کرام
اللہ تعالیٰ نے بیعتِ رضوان کے موقع پر صحابۂ کرام سے اپنی رضا کا اعلان فرمایا:
﴿لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ﴾
ترجمہ:
“بے شک اللہ مؤمنوں سے راضی ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے آپ ﷺ سے بیعت کر رہے تھے۔”
یہ آیت ان صحابۂ کرام کے ایمان و اخلاص کی عظیم گواہی ہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“میرے صحابہ کو برا نہ کہو۔”
اور ایک دوسری صحیح حدیث میں فرمایا:
“سب سے بہترین لوگ میرے زمانے کے لوگ ہیں۔”
صحیح بخاری و صحیح مسلم میں یہ بھی آتا ہے کہ اگر کوئی شخص اُحد پہاڑ کے برابر سونا بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو وہ صحابۂ کرام کے ایک مُد بلکہ نصف مُد کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا۔
یہ صحابۂ کرام کی وہ فضیلت ہے جس کا تقابل بعد کے کسی عمل سے نہیں کیا جا سکتا۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
میرے نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب کا مقام ہماری سوچ سے بھی بلند ہے۔ اسی نسبت سے بعض اہلِ محبت نے کہا:
اگر چاند ہیں محمد ﷺ تو ستارے ہیں صحابہ
اور امام احمد رضا خان محدثِ بریلوی رحمہ اللہ نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں عرض کیا:
چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
ان عظیم ستاروں میں ایک نہایت روشن ستارہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فاروقِ اعظم، امیرالمؤمنین، عدل و شجاعت کے پیکر اور رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی تھے۔ آپ کو اسلامی تاریخ میں عدل و انصاف کی عظیم مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تھی کہ اسلام کو عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام میں سے جس کے ذریعے تقویت ملے، اسے اسلام عطا فرما۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اسلام کی نعمت عطا فرمائی، اور ان کے اسلام لانے سے مسلمانوں کو عظیم قوت حاصل ہوئی۔
سسرِ رسول اللہ ﷺ ہونے کا شرف
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ عظیم اعزاز بھی حاصل ہوا کہ آپ کی صاحبزادی ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رسول اللہ ﷺ کے نکاح میں آئیں۔
سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پہلے شوہر حضرت خُنَیس بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے، جن کے وصال کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان سے نکاح فرمایا۔ یوں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سسرِ رسول اللہ ﷺ ہونے کا شرف حاصل ہوا۔
اہلِ بیتِ اطہار سے نسبت
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک اور نسبت اہلِ بیتِ اطہار سے بیان کی جاتی ہے، اور وہ سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح ہے۔
سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہا، سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی صاحبزادی تھیں۔
چنانچہ جن تاریخی و حدیثی مصادر میں یہ نکاح ثابت مانا گیا ہے، ان کے مطابق سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے داماد ہونے کا بھی شرف حاصل ہوا۔
یہاں یہ بات علمی دیانت کے ساتھ واضح رہنی چاہیے کہ اس نکاح کے بارے میں اہلِ سنت اور بعض دیگر مکاتبِ فکر کے مصادر میں تفصیلی روایات موجود ہیں، جبکہ بعض شیعی علماء اس واقعے کی بعض روایات اور تفصیلات کو قبول نہیں کرتے۔ لہٰذا اسے بیان کرتے وقت متعلقہ مصادر کا حوالہ دینا زیادہ مضبوط طریقہ ہے۔
ایک تاریخی اعتراض کا جواب
سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نکاح کی روایات اس مشہور تاریخی دعوے پر بھی سوال اٹھاتی ہیں جس میں سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ انتہائی سنگین بدسلوکی کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔
اگر کسی تاریخی روایت میں اس نوعیت کا دعویٰ کیا جائے تو پھر اس کے ساتھ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور خاندانِ علی رضی اللہ عنہم کے بعد کے معاملات کو ان روایات کے ساتھ کیسے ہم آہنگ کیا جائے؟
اسی لیے تاریخی واقعات کو محض جذباتی روایات کی بنیاد پر نہیں بلکہ تمام متعلقہ مصادر، سند اور تاریخی سیاق و سباق کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔
شیعہ حدیثی مجموعے الکافی میں بھی سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نکاح سے متعلق روایات منقول ہیں۔ تاہم ان روایات کی صحت اور مفہوم کے بارے میں علماء کے درمیان بحث موجود ہے؛ اس لیے علمی تحریر میں اسے قطعی اجماعی حقیقت کے طور پر پیش کرنے کے بجائے “روایت میں منقول ہے” کہنا زیادہ محتاط ہے۔
بعض روایات کے مطابق اس نکاح سے زید بن عمر پیدا ہوئے۔ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کی اولاد کے بارے میں تاریخی روایات میں مزید تفصیلات بھی ملتی ہیں۔
سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت
صحیح بخاری میں محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا:
“رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے افضل کون ہے؟”
انہوں نے فرمایا:
“ابوبکر۔”
پوچھا گیا: پھر کون؟
فرمایا:
“عمر۔”
یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے باہمی احترام اور سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی فضیلت پر نہایت اہم دلیل ہے۔
اسی مضمون کی روایات دیگر حدیثی مصادر میں بھی منقول ہیں۔ تاہم ہر کتاب میں روایت کے الفاظ اور سند ایک جیسے نہیں، اس لیے حوالہ دیتے وقت اصل روایت اور اس کی سند کو سامنے رکھنا چاہیے۔
سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے باہمی تعلقات
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اہم معاملات میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مشورہ لیتے تھے۔ تاریخی مصادر میں متعدد ایسے واقعات ملتے ہیں جن سے دونوں جلیل القدر شخصیات کے درمیان باہمی احترام، مشاورت اور اعتماد کا اظہار ہوتا ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی علمی و قضائی صلاحیت کے بارے میں مشہور قول ہے:
“أَقْضَانَا عَلِيٌّ”
یعنی:
“ہم میں سب سے بہتر فیصلہ کرنے والے علی ہیں۔”
یہ تمام واقعات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ صحابۂ کرام اور اہلِ بیتِ اطہار کے درمیان تعلق صرف نسبی نہیں بلکہ باہمی محبت، احترام اور دینی اخوت پر بھی قائم تھا۔
سیدہ شہربانو اور امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
بعض تاریخی روایات میں یہ ذکر ملتا ہے کہ فارس کی شہزادی شہربانو کا نکاح امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا اور ان کے بطن سے امام زین العابدین علی بن حسین رحمہ اللہ پیدا ہوئے۔ روایت میں آتا ہے سیدہ شہر بانو کا رشتہ امام حسین کے لیے سیدنا عمر نے پسند کیا
اختتامیہ
جب قرآنِ مجید صحابۂ کرام کی فضیلت، ان کے ایمان، اخلاص، قربانی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی گواہی دے رہا ہو، اور دوسری طرف اہلِ بیتِ اطہار کی محبت و عظمت بھی دین کا حصہ ہو، تو ہمیں صحابہ اور اہلِ بیت کو باہم متصادم کرنے کے بجائے دونوں سے محبت اور ادب کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اہلِ بیت کے عظیم فرد ہیں، اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی اور خلیفۂ راشد ہیں۔
صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم دونوں ہمارے لیے قابلِ احترام ہیں۔
تاریخ کا مطالعہ جذبات، تعصب اور یک طرفہ روایات کی بنیاد پر نہیں بلکہ قرآن، صحیح احادیث، معتبر تاریخی مصادر اور علمی تحقیق کی روشنی میں ہونا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحابۂ کرام اور اہلِ بیتِ اطہار دونوں کی سچی محبت، ادب اور احترام نصیب فرمائے۔ آمین۔