
جامعۃ الرشید کے ناقدین کیا سوچتے ہیں؟/تحریر/عابد محمود عزام
پاکستان کی مذہبی، فکری اور تعلیمی دنیا میں اگر کسی ادارے نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بہت نمایاں، مختلف اور اثرانگیز کردار ادا کیا ہے تو وہ جامعۃ الرشید کراچی ہے۔ یہ ادارہ اپنے مزاج، نظم و نسق اور دینی و عصری امتزاج کے باعث روایتی مدارس کے سلسلے میں ایک نیا باب ہے۔ اس کے مہتمم مفتی عبدالرحیم صاحب نے دینی تعلیم کو ایک نئے شعور، نئی حکمت اور جدید اندازِ پیشکش کے ساتھ متعارف کرایا۔ تاہم جیسا کہ ہر کامیاب تحریک کے ساتھ مخالفتوں کے دروازے کھلتے ہیں، جامعۃ الرشید اور اس کی قیادت کے گرد بھی اختلافات، بدگمانیاں اور الزامات کا ایک حلقہ موجود ہے۔
جامعۃ الرشید نے آغاز ہی سے اپنے نظامِ تعلیم اور طرزِ عمل میں وہ جدت اختیار کی جو روایتی مدارس کے لیے غیر معمولی تھی۔ درسِ نظامی کے ساتھ ساتھ یہاں میڈیا، فنانس، مینجمنٹ، تحقیق، زبان اور عصری فکری مباحث کو نصاب کا حصہ بنایا گیا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں روایت پسند طبقے نے اس پر شک کی نگاہ ڈالی، جن کے نزدیک دین کا نظامِ تعلیم ایک مکمل روایت ہے جس میں تبدیلی “بدعت” کے مترادف ہے، جب کہ جامعۃ الرشید کا مؤقف یہ تھا کہ “یہ تبدیلی نہیں، تجدیدِ وقت کی ضرورت ہے۔”
چند برس قبل جامعۃ الرشید نے مجمع العلوم الاسلامیہ پاکستان کے نام سے ایک نیا تعلیمی بورڈ قائم کیا، جس نے دینی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے بعض اکابرین اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں نے اسے مدارس کے اتحاد میں دراڑ ڈالنے کے مترادف قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دینی قوت پہلے ہی گروہی تقسیم کا شکار ہے، ایسے میں ایک نیا بورڈ مزید انتشار پیدا کرے گا۔ جامعہ نے نہایت متوازن موقف پیش کیا کہ یہ اقدام کسی کو توڑنے کے لیے نہیں، بلکہ نظامِ تعلیم کو مضبوط، معیاری اور مربوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی ادارہ شفاف نظم، تحقیقی معیار اور اصلاحِ نصاب کے ساتھ تجربہ کرتا ہے تو اسے مخالفت نہیں، بلکہ حوصلہ افزائی ملنی چاہیے۔
جامعۃ الرشید پر ایک اور عام الزام “اسٹیبلشمنٹ سے قربت” کا لگایا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جامعہ نے کبھی ریاست یا فوج سے تصادم کی پالیسی اختیار نہیں کی۔ اس کا مؤقف یہ ہے کہ ریاست کی مضبوطی ہی قوم کی مضبوطی ہے۔ جامعہ کی قیادت کا کہنا ہے کہ ریاست سے مکالمہ کرنا، اصلاح کی بات کرنا اور قومی پالیسیوں میں دینی نقطۂ نظر پیش کرنا “اسٹیبلشمنٹ نوازی” نہیں، بلکہ ایک تعمیری رویہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “ہم تصادم نہیں، تعمیر چاہتے ہیں۔ ریاستی قوتوں کے ساتھ مل کر دینی تعلیمات کے مطابق تعمیر کرنا بہترین خدمت ہے۔”
پاکستان کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے کئی رہنما اور کارکنان جامعۃ الرشید سے فکری اختلاف رکھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مفتی محمودؒ اور مفتی رشید احمد لدھیانویؒ کے درمیان ایک فتویٰ کی بنیاد پر اختلاف پیدا ہوا تھا، اگرچہ بعد میں دونوں بزرگوں کے مابین تعلقات بحال ہو گئے تھے، لیکن جمعیت علمائے اسلام کے کارکنان میں اختلاف باقی رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ جامعۃ الرشید جمعیت کے بعض کارکنوں کے نشانے پر آتا گیا۔ سانحہ لال مسجد میں طالبات کی شہا۔ دت کی نفی کے معاملے میں بھی جمعیت کے بہت سے کارکنوں نے جامعۃ الرشید کے خلاف پروپیگنڈا کیا، حالانکہ وفاق المدارس کے علمائے کرام اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں کا موقف بھی یہی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جامعۃ الرشید کا روزنامہ اسلام ہمیشہ دینی جماعتوں، مدارس اور شخصیات کا حامی رہا اور جمعیت علمائے اسلام کے بیانیے کو بھی مثبت انداز میں پیش کرتا رہا۔ تاہم بعض مواقع پر یہی اخبار بھی جمعیت کے کارکنان کی تنقید کا نشانہ بنا۔ عمران خان کے دورِ حکومت میں جامعہ کے نسبتاً ریاست حامی رویے کی وجہ سے یہ اختلاف مزید گہرا ہوا اور مجمع العلوم الاسلامیہ کے قیام کے بعد تو مخالفت ایک منظم مہم کی صورت اختیار کر گئی۔ اکثر پروپیگنڈوں کے پیچھے یہی مخصوص مذہبی سیاسی طبقہ سرگرم دکھائی دیتا ہے۔
جامعۃ الرشید پر ایک اور اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اس کا ماضی عسکریت پسند حلقوں سے وابستہ رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ ادارہ کبھی جہا۔ دی تحریکوں کے قریب تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دور کے حالات مختلف تھے۔ روس اور امریکا جیسی اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف مزاحمت کو اس وقت نہ صرف ریاست بلکہ پوری دینی قیادت نے ضروری سمجھا تھا۔ جب عالمی اور ملکی حالات بدلے تو جامعۃ الرشید نے بھی اپنی پالیسی میں تبدیلی کی۔ اصلاح، مکالمہ اور فکری تعمیر کا راستہ اپنایا۔ اس تبدیلی پر اعتراض بے معنی ہے، کیونکہ وقت کے تقاضوں کے مطابق مؤقف بدلنا کمزوری نہیں، بلکہ حکمت ہے۔ تمام بڑی دینی شخصیات اور جماعتیں مختلف ادوار میں اپنے مؤقف میں تبدیلی لاتی رہی ہیں۔
کچھ علماء کو جامعۃ الرشید کے وسیع نظم، کارپوریٹ طرزِ انتظام اور میڈیا سرگرمیوں پر بھی اعتراض ہے۔ ان کے خیال میں جامعہ نے دینی ماحول کو ادارہ جاتی یا “کاروباری” انداز میں بدل دیا ہے، مگر جامعہ کا مؤقف ہے کہ جب دوسروں نے میڈیا کو دین کے خلاف استعمال کیا تو ہم نے اسی میڈیا کو دین کی خدمت میں لگا دیا۔ ہم منبر سے اترے نہیں، منبر کو نئی دنیا تک پہنچایا ہے۔
درحقیقت جامعۃ الرشید اور اس کے ناقدین کے درمیان اختلاف کی جڑ “روایت اور تجدید” کا تصادم ہے۔ ایک طبقہ سمجھتا ہے کہ دین کی بقا روایت کے تسلسل میں ہے، جبکہ دوسرا یہ مانتا ہے کہ عصری فہم اور تجدیدِ فکر بھی ضروری ہے۔ جامعۃ الرشید کا مؤقف ہے کہ وہ روایت شکن نہیں، بلکہ روایت آگاہ تجدید پسند ادارہ ہے۔ اسی لیے روایت پرست طبقہ اسے “باغی” اور جدید پسند حلقے اسے “ادھورا اصلاحی ماڈل” قرار دیتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ جامعۃ الرشید نے ان دونوں کے درمیان توازن کی راہ نکالی ہے۔
تمام تر مخالفتوں، الزامات اور بدگمانیوں کے باوجود جامعۃ الرشید نے اپنی فکری قوت، تنظیمی نظم اور علمی معیار کے ذریعے ایک منفرد پہچان قائم کی ہے۔ اس کے فارغ التحصیل طلبہ آج میڈیا، معیشت، تحقیق، تعلیم اور بین الاقوامی اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ جامعہ کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ وہ مدرسہ ہوتے ہوئے بھی دنیا سے ہم قدم ہے۔ جامعہ کا پیغام واضح ہے:
“ہمیں مخالفت سے نہیں، جمود سے خطرہ ہے۔” یہی جملہ اس ادارے کے کردار کو سمجھنے کی کنجی ہے۔ جامعۃ الرشید نے جمود توڑا، سوچ کو وسعت دی اور روایت کو نئی زندگی بخشی۔ یہ محض ایک مدرسہ نہیں، بلکہ ایک فکری، تعلیمی اور اصلاحی تحریک ہے، جس نے دینی فکر کو سماج کے ہر طبقے تک پہنچا دیا ہے۔
آخر میں یہ سوال باقی رہتا ہے کہ کیا مذہب صرف ماضی کا ورثہ ہے، یا حال و مستقبل کی رہنمائی کا نظام بھی؟ اگر دین ہر دور کی رہنمائی کے لیے آیا ہے تو مدارس کو بھی ہر دور کے انسان کے لیے مفید بننا ہوگا۔ جامعۃ الرشید اسی پیغام کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ مخالفت کے باوجود اثر اس کے ساتھ ہے، کیونکہ تاریخ ہمیشہ ان اداروں کو زندہ رکھتی ہے جو فکر کو جمود سے آزاد کرتے ہیں۔