0

ایک روشن چراغ نہ رہا/تحریر/محمد اکبر خان

ایک روشن چراغ نہ رہا/تحریر/محمد اکبر خان

میری ڈاکٹر اعجاز فارق اکرم سے واقفیت سماجی روابط کی ویب گاہ کتاب چہرہ سے ہوئی. رفتہ رفتہ میں ان کے اعجاز و افتخار سے آگاہ ہوتا چلا گیا.
سال دو ہزار بیس کے جون یا جولائی کی قیامت خیز گرمی تھی پوری دنیا عالمی وبا کرونا کی لپیٹ میں آچکی تھی جس کا زور رفتہ رفتہ گھٹنے لگا تھا. انھی دنوں میں کرونائی بخار میں بری طرح مبتلا ہوکر اپنے گھر کے تہہ خانے میں الگ تھلگ اور کسی حد تک گوشہ نشین تھا کہ ایک گرم دوپہرڈاکیا ایک پارسل گھر پہنچا گیا جونہی والدہ محترمہ نے مجھے پارسل لاکر دیا میں نے بے صبری اسے کھول کر دیکھا تو اس میں ڈاکٹر اعجاز فارق اکرم کی دو ضخیم کتب تھیں جو ریڈیو پاکستان پر پیش کیے جانے والے قرآن فہمی کےاس پروگرام پر مبنی تھیں جو ڈاکٹر اعجاز فارق اکرم ایک مدت تک پیش کرتے رہے.
بعد ازاں ان سے کبھی کبھار فون پر بھی گفتگو ہونے لگی.غالباً دوہزار اکیس کے نومبر میں مجھے تعلیمی ادراے کی طرف سے حیات ِ مستعار میں پہلی بار فیصل آباد جانے کا موقع ملا رات گئے ہم فیصل آباد پہنچے اگلے دن میں ڈیویژنل پبلک اسکول و کالج جا پہنچا کچھ دیر بعد ڈاکٹر اعجاز فارق اکرم صاحب نے اپنی آمد سے بذریعہ فون مطلع کیا. وہ ان سے پہلی ملاقات تھی وہ بہت ہی گرمجوشی اور خندہ پیشانی سے ملے. اپنی گاڑی میں مجھے بٹھا کر پہلے جی سی یونیورسٹی فیصل آباد لے گئے وہاں غالباً شعبہ اردو میں میرا تعارف کروایا اس دن وہاں یوم اقبال کے حوالے سے کوئی تقریب تھی بصد اصرار مجھے اسٹیج پر بٹھایا اور طلباء و طالبات سے خطاب کرنے کا موقع فراہم کیا. بعد ازاں میں ان کی معیت میں شعبہ عربی پہنچا جہاں وہ کبھی سربراہ ہوا کرتے تھے وہاں کے اساتذہ کرام سے ملوایا پھر اپنی شاندار گاڑی میں مجھے ڈی پی ایس فیصل آباد چھوڑ گئے.
میں تقریباً ایک ہفتہ فیصل آباد مقیم رہا جہاں تقریباً روزانہ ہی وہ رابطہ کرکے تشریف لے آتے ان کی شخصیت میں وضع داری انتہائی سحر انگیزی تھی، اعلی اور نفیس لباس میں ملبوس گفتگو میں ٹھہراو اور سنجیدگی و شگفتگی چہرہ سنت رسول ﷺ سے مزین میں تو ان کی متاثر کن شخصیت اور بلند کرداری اور علمیت سے بہت متاثر ہوا. ایک دن وہ مجھے اشرف لیبارٹریز کے مالک ڈاکٹر زاہد اشرف سے ملاقات کروانے لے کر گئے جو ان کے ہم جماعت رہ چکے ہیں انھوں نے بھی ڈاکٹر اعجاز فاروق اکرم کی طرح عربی میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے کئی کتابوں کے مصنف اور صنعت کار بھی ہیں وہ لمحات نہایت ہی قیمتی تھے جو ان اہل علم و دانش کی صحبت میں گزرے. ایک روز مجھے اپنی کار میں فیصل آباد کے تقریباً تمام اہم مقامات دکھائے. رواں سال پانچ جنوری کو میں فیصل آباد پہنچا ان سے ملاقات کی خواہش تھی میرے ساتھ ایک دوست بھی ہمراہ تھے ڈاکٹر صاحب نے ہمیں الائیڈ ہسپتال فیصل آباد کے باہر انتظار کرنے کا کہا وہ تشریف لائے تو حسب عادت اعلی ظرفی اور گرمجوشی سے ملے اور ہمیں گاڑی میں لے کر اشرف لیبارٹریز پہنچے خوب ملاقات رہی وہیں ظہرانہ کیا اور عصر کے بعد ان کے ساتھ روانہ ہوئے مغرب سے قبل ہم ان کو الوداعی معانقہ کرکے پیپلز کالونی اتر گئے جہاں ہم نے سیرت اکیڈمی جانا تھا.
وہ ان سے آخری ملاقات تھی.اگست کے آخری ایام میں مجھے ان کی طبعیت ناساز ہونے کا علم ہوا تو میں نے انھیں فون کیا مگر بات نہ ہوسکے بعد میں ان کا پیغام ملا کہ

“برادر گرامی۔۔
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ ۔
تقریباً ایک ماہ آزمائش میں رہا۔اب بہتر ہوں۔کمزوری ہے۔وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جائے گی ان شاءاللہ ۔
مزاج پرسی کے لئے ممنون ہوں اور دعا کا خواستگار”

اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے بلاشبہ وہ نیک اور متقی شخص تھے وہ اپنی خودنوشت یادوں کا دریچہ کے عنوان سے شیر کیا کرتے ہے انہوں نے بے حد متحرک زندگی گزاری ان کے ساتھ گزرے لمحات کی خوشبو تاعمر ساتھ رہے گی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں