دنیا بھر میں رائج ادب کی طرح اردو ادب میں بھی کئی اصناف ہیں۔ اردو ادب میں مزاح نگاری کی صنف میں طبع آزمائی کرنے والے بہت ہوں گے مگر مقبول عوام ہونے کا اعزاز چند ایک ہی کو حاصل ہوا ہے۔ ان ہی مقبول عوام لوگوں میں ایک نام مزاح کے امام مشاق احمد یوسفی کا بھی ہے جو نصف صدی سے زائد عرصے تک اردو ادب کے درخشاں افق پہ چمکتا رہا اور اپنے لفظ و بیاں کی کرنوں سے خلق خدا کے چہروں پہ مسکراہٹ و خوشی کا باعث بنتے رہے۔
مزاح ایک ایسا فن ہے جو معاشرتی بگاڑ، انسانی رویوں، تاریخ، نفسیات اور دیگر نظام زندگی میں مروجہ بگاڑ کو درست ڈگر پہ لانے کے لیے مزاحیہ اسلوب اپنانے کی سعی کی جاتی ہے۔ یہ تو ایسا فن ہے جس کے ذریعے سے اصلاح کا کام لیا جا سکتا ہے۔ جیسا منٹو کے ہاں اخلاقیات سے عاری اور ہر قسم کی حدود و قیود سے ماورا اسلوب ملتا ہے یوسفی صاحب کے ہاں ایسا ہرگز نہیں وہ مزاح نگار تھے مگر بیک وقت وہ ادب اور تہذیب و اخلاقیات کو بھی مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے۔ان کے اسلوب میں کوئی لچر پن نہیں ملتا بلکہ ان کی تحاریر معاشرے کی آئنیہ دار ہوتی ہیں۔
مشتاق احمد یوسفی اپنے منفرد طرز اسلوب، شگفتہ انداز تحریر، فقرہ بازی، طنز و مزاح اور ظرافت کے وجہ سے لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے۔ آپ 4 ستمبر 1923 کو راجھستان میں پیدا ہوئے۔ آپ نے بی اے، ایم اے فلسفہ اور ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کیں۔قیام پاکستان سے قبل مسلم کمرشل بینک کے ساتھ منسلک ہوگئے۔ قیام پاکستان کے بعد 1956 میں آپ پاکستان ہجرت کر آئے اور آپ کو الائیڈ بینک آف پاکستان کا صدر بھی بنا دیا گیا۔بھارت کا ایک بڑا نقصان اور پاکستان کی خوش قسمتی میں سے ایک یوسفی صاحب کا ہجرت کر جانا بھی ٹھہرا۔
اکثر ہمارے ہاں طنز و مزاح اور ظرافت کا معنی و مفہوم غلط لیا جاتا ہے۔ اس صنف کو اختیار کرتے ہوئے لوگ غلط اسلوب برتتے ہیں مگر یوسفی صاحب نے اصل طنز و مزاح کی روح عوام کے سامنے پیش کی۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ ایک مزاح نگار سنجیدگی سے عاری ہو یا وہ فقط مزاحیہ تحاریر لکھنے اور سنانے والا کوئی ڈرامائی کردار ہو ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ مزاح نگار معاشرے پہ انتہائی باریک بینی سے نظر رکھتا ہے وہ ہر پیش آنے والے واقعے کو عام لوگوں کی نظروں سے ہٹ کر اس انداز سے دیکھ رہا ہوتا ہے جو لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوتا ہے۔ مزاح نگار دوسروں کو تو ہنساتا ہے ان کے ذوق مزاح کی تسکین کرتا ہے مگر وہ خود سنجیدگی کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہوتا ہے اور وہ معاشرے کی آنکھ بن کر بہت سی چیزوں سے نبردآزمائی کے بعد ایک شگفتہ تحریر صفحہ قرطاس کے حوالے کرتا ہے اور یہ فن آپ کو یوسفی صاحب کے ہاں بدرجہ اتم ملے گا۔
یوسفی صاحب اپنے منفرد طرز اسلوب، الفاظ کی کانٹ چھانٹ اور مطلوبہ معیار پہ پوری اترنے والی تحاریر کو ہی منظر عام پہ لاتے تھے۔ یوسفی صاحب کے اندر کا نقاد بہت سخت تھا، جب تک تحریر خود ان کے کڑے پیمانے پر سولہ آنے نہ اترتی، اسے دن کی ہوا نہیں لگنے دیتے۔ یعنی یہ کہ کبھی بھی اول فول نہیں لکھتے تھے گوکہ کم لکھا مگر جو لکھا جتنا لکھا بہترین معیاری لکھا
یوسفی صاحب کے کچھ اقوال اور جملے عوام میں کافی مقبول ہوئے آئیے ان میں سے کچھ پڑھ کر ذوق مزاح زندہ کرتے ہیں۔
ادھر کچھ ماہ قبل ایک شوخ چنچل لڑکی ہمیں ملی۔ آدھ پون گھنٹے کی گفتگُو کے بعد کہنے لگی کہ یُوسفی صاحب! بات چیت میں تو آپ بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں مگر تحریر میں بالکل لُچّے لگتے ہیں”۔
کسی لڑکی نے پوچھا کہ “اپنی کمپنی انجوائے کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟” بولے: “ایسے دوست بنائیے اور ایسی کتابیں پڑھیے کہ جو آپ کو سوچنے کی تحریک دیں۔” لڑکی بولی “اور اگر ایسے دوست نہ ہوں تو؟” “ایسی حالت میں عام طور سے لڑکیاں شادی کر لیتی ہیں۔”
بعض مردوں کو عشق میں محض اس لیے صدمے اور ذلتیں اُٹھانی پڑتی ہیں کہ ”محبت اندھی ہوتی ہے” کا مطلب وہ يہ سمجھ بيٹھتے ہیں کہ شائد عورت بھی اندھی ہوتی ہے۔
مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے۔
پاکستان کی افواہوں کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ سچ نکلتی ہیں۔
سردی زیادہ اور لحاف پتلا ہو تو غریب غربا منٹو کے افسانے پڑھ کر سو جاتے ہیں۔
میرا تعلق تو اس بھولی بھالی نسل سے رہا ہے جو خلوصِ دل سے سمجھتی ہے کہ بچے بزرگوں کی دعا سے پیدا ہوتے ہیں۔
الحمد للہ بھری جوانی میں بھی ہمارا حال اور حلیہ ایسا نہیں رہا کہ کسی خاتون کے ایمان میں خلل واقع ہو۔
اسلام آباد درحقیقت جنت کا نمونہ ہے، یہاں جو بھی آتا ہے حضرت آدم کی طرح نکالا جاتا ہے۔
پرانا مقدمے باز آدھا وکیل ہوتا ہے اور دائم المرض آدمی پورا عطائی۔
یوسفی صاحب نے ظرافت میں دوسروں کو تو موضوع بنایا ہی ہے انہوں نے اس شوخی تحریر میں اپنے آپ کو بھی نہیں بخشا جس کی ایک مثال چراغ تلے میں درج ان کے اپنے کروائے گئے تعارف سے واضح طور پہ ملتی ہے۔ کچھ حصہ ملاحضہ ہو
نام: سرورق پر ملاحظہ فرمائیے
خاندان: سو پشت سے پیشہ آبا سپہ گری کے سوا سب کچھ رہا ہے۔
پیشہ: گو کہ یونیورسٹی کے امتحانوں میں اول آیا، لیکن اسکول میں حساب سے کوئی طبعی مناسبت نہ تھی۔ اور حساب میں فیل ہونے کو ایک عرصے تک اپنے مسلمان ہونے کی آسمانی دلیل سمجھتا رہا۔ اب وہی ذریعہ معاش ہے۔ حساب کتاب میں اصولاً دو اور دو چار کا قائل ہوں۔ مگر تاجروں کی دل سے عزت کرتا ہوں کہ وہ بڑی خوش اسلوبی سے دو اور دو کو پانچ کر لیتے ہیں۔
پہچان: قد: پانچ فٹ ساڑھے چھ انچ (جوتے پہن کر)
وزن: اوور کوٹ پہن کر بھی دبلا دکھائی دیتا ہوں۔ عرصے سے مثالی صحت رکھتا ہوں۔ اس لحاظ سے کہ جب لوگوں کو کراچی کی آب و ہوا کو برا ثابت کرنا مقصود ہو تو اتمام حجت کے لیے میری مثال دیتے ہیں۔
جسامت: یوں سانس روک لوں تو 38 انچ کی بنیان بھی پہن سکتا ہوں۔ بڑے لڑکے کے جوتے کا نمبر 7 ہے جو مجھے بھی فٹ آتا ہے۔
حلیہ: اپنے آپ پر پڑا ہوں۔ پیشانی اور سر کی حد فاصل اڑ چکی ہے۔ لہذا منہ دھوتے وقت یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کروں۔ ناک میں بذات کوئی نقص نہیں مگر دوستوں کا خیال ہے کہ بہت چھوٹے چہرے پر لگی ہوئی ہے۔
چڑ: جذباتی مرد، غیر جذباتی عورتیں، مٹھاس، شطرنج۔
مشاغل: فوٹو گرافی، لکھنا پڑھنا
کیوں لکھتا ہوں: ڈزریلی نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ جب میرا جی عمدہ تحریر پڑھنے کو چاہتا ہے تو ایک کتاب لکھ ڈالتا ہوں۔ رہا سوال کہ یہ کھٹ مٹھے مضامین طنزیہ ہیں یا مزاحیہ یا اس سے بھی ایک قدم آگے یعنی صرف مضامین، تو یہاں صرف اتنا عرض کرنے پر اکتفا کروں گا کہ وار ذرا اوچھا پڑے یا بس ایک روایتی آنچ کی کسر رہ جائے تو لوگ اسے بالعموم طنز سے تعبیر کرتے ہیں، ورنہ مزاح ہاتھ آئے تو بت، نہ آئے تو خدا ہے۔
(مکمل مضمون کے لیے کتاب چراغ تلے پڑھیں)
یہ چند مثالیں ہیں جس سے ان کی تحریر میں ظرافت، معیار اور فقرہ بندی جھلکتی نظر آتی ہے۔ آپ کے ہاں پھکڑ پن یا سطحی مزاح نہیں ملتا بلکہ ایک شائستہ و گہرا طنز ملتا ہے۔ آپ کے ہاں زبان و بیان کی چاشنی، خوش دلی اور درد مندی، بر محل پیروڈی اور فکر انگیزی ملتی ہے۔
آپ کی مشہور تصانیف میں چراغ تلے، سرگزشت، آب گم، خاکم بدہن شامل ہیں جو اپنے منفرد اور معیاری طرز اسلوب کی وجہ سے بہت جلد مقبول عام ہوئیں۔ البتہ شام شعر یاراں 2014 میں لکھی گئی اس معیار پہ پوری نہ اتر سکی اس میں فقط تقریروں اور گزشتہ کتابوں کو اقتباس کو درج کیا گیا
آپ کی خدمات کے اعتراف میں مزاح کے اس امام کو ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز، قائد اعظم ایوارڈ، آدم جی انعام سے نوازا گیا۔
بعد ازاں مزاح کا یہ امام اور علم و ادب کا یہ آفتاب 94 سال اپنی شگفتہ لطافت دکھانے اور عالم کو چہروں پہ مسکراہٹیں بکھیرتے ہوئے 20 جون 2018 کو کراچی میں دفن ہو گئے۔