مولانا سید مناظر احسن گیلانی رحمہ اللہ کی ایک کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک جملہ نظر سے گزرا، اور اس نے دیر تک سوچنے پر مجبور کر دیا۔ مولانا لکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس معاشرے کے ان گھرانوں میں تشریف لائے جنہیں محکومیت کی مہر نے کبھی چھوا ہی نہیں تھا۔
یہ بات میرے لیے حیرت انگیز تھی۔ قوموں کے عروج و زوال کی تاریخ میں عموماً کہیں نہ کہیں محکومیت کا کوئی نہ کوئی باب ضرور ملتا ہے۔ سیرتِ طیبہ کی ایک ادنیٰ سی طالبہ ہونے کے ناطے، ذہن اسی نکتے میں الجھا رہا کہ آخر یہ استثنا کیسے اور کیوں تھا۔
ایک جزیرہ جو کبھی زیرِ نگیں نہ ہوا
چھٹی صدی عیسوی میں جزیرہ نما عرب کے گرد تین بڑی سلطنتیں موجود تھیں: شمال مغرب میں بازنطینی سلطنت، شمال مشرق میں ساسانی سلطنت، اور جنوب مغرب میں حبشہ کی سلطنتِ اکسم۔ عرب کے سرحدی علاقے انہی کے زیرِ اثر آ چکے تھے۔ شام کی سرحد پر غسانی رومیوں کے، اور عراق کی سرحد پر لخمی ایرانیوں کے باج گزار تھے۔ یمن پر پہلے حبشیوں اور پھر ایرانیوں کا قبضہ رہا۔ مگر ان سب سلطنتوں کے درمیان خطۂ حجاز — مکہ، مدینہ، طائف — ایک ایسا خطہ تھا جس پر کبھی کسی بیرونی طاقت کا جھنڈا نہیں لہرایا۔
مکہ کی اس آزادی کے خلاف سب سے بڑی اور آخری کوشش ۵۷۰ عیسوی، یعنی عام الفیل میں ہوئی، جب یمن کے حبشی گورنر ابرہہ نے روم کی درپردہ پشت پناہی سے ساٹھ ہزار کا لشکر اور ہاتھی لے کر مکہ پر یلغار کی۔ مقصد کعبہ کو منہدم کرنا اور قریش کی سیاسی و معاشی خودمختاری کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا تھا۔ سورۃ الفیل اور سیرتِ ابنِ ہشام گواہ ہیں کہ اللہ کی غیبی مدد نے اس لشکر کو نیست و نابود کر دیا، اور قریش کی آزادی برقرار رہی۔
تاریخِ طبری اور طبقاتِ ابنِ سعد بتاتے ہیں کہ آپ ﷺ کے جدِ امجد قصی بن کلاب نے مکہ میں “دارالندوہ” کی بنیاد رکھی — قبائلی سرداروں کی ایک مشترکہ مجلسِ شوریٰ، جہاں فیصلے خود قریش کے اپنے لوگ کرتے تھے، نہ کہ کوئی بیرونی گورنر یا کٹھ پتلی حکمران۔ سورۃ قریش میں مذکور تجارتی معاہدے، جو ہاشم بن عبد مناف نے روم، فارس اور حبشہ کے ساتھ برابری کی بنیاد پر کیے، اسی خودمختاری کی سب سے واضح دلیل ہیں۔
مغربی مؤرخین کی گواہی
اس نکتے کی تائید مستشرقین اور مغربی مؤرخین کی تحریروں میں بھی ملتی ہے۔ ولیم مونٹگمری واٹ نے اپنی کتاب Muhammad at Mecca میں لکھا کہ اسلام نے عربوں کو ایسی توحید دی جو روم اور فارس، دونوں سلطنتوں کے سیاسی حلقۂ اثر سے آزاد تھی — کیونکہ عیسائیت روم اور یہودیت فارس سے جڑی ہوئی تھی۔ سر ولیم میور نے The Life of Mahomet میں مکہ کو ایک آزاد تجارتی جمہوریہ قرار دیا، جہاں دارالندوہ کی مجلسِ شوریٰ حکومت کرتی تھی اور جو کسی بیرونی تسلط سے یکسر پاک تھا۔
ڈی لیسی اولیری نے Arabia Before Muhammad میں مکہ کو ایک غیر جانبدار تجارتی مرکز کہا، جس نے روم و فارس کی سرد جنگ سے خود کو محفوظ رکھا۔ پیٹریشیا کرون، جو مکہ کی تجارت کے روایتی تصور پر سوالات اٹھانے کے لیے جانی جاتی ہیں، خود بھی تسلیم کرتی ہیں کہ مکہ ایک ایسے بے ریاست ماحول میں قائم تھا جہاں قبائلی خودمختاری مطلق تھی، اور نہ روم نہ فارس حجاز میں مستقل انتظامی موجودگی رکھ سکے۔ عرفان شاہد نے حجاز کو رومی لشکروں کے لیے ایک ناقابلِ تسخیر سرزمین قرار دیا، جہاں پیکسِ رومانا کی حد ختم ہو جاتی تھی۔ اور تھیوڈور نولڈیکے نے لکھا کہ ایرانی بادشاہ نوشیرواں نے بحرین، عمان اور یمن تو فتح کر لیے، مگر حجاز کے قبائل کو زیر کرنا اسے سلطنت کے لیے خسارے کا سودا معلوم ہوا۔
فلپ کے ہٹی نے History of the Arabs میں لکھا کہ خانہ کعبہ کی تولیت نسلاً در نسل بنو اسماعیل ہی کی اولاد — پہلے بنو جرہم، پھر بنو خزاعہ، اور آخر میں قریش — کے پاس رہی، اور یہ تمام نظام خالصتاً عربوں کے اپنے قبائلی ڈھانچے کے تحت چلتا رہا۔ ابنِ خلدون کے نظریۂ عصبیت کی روشنی میں دیکھیں تو قریش کی سیادت کعبہ کی تولیت اور حجاج کی خدمت پر مبنی تھی — یہ روحانی و اخلاقی بالادستی تھی، جبری تسلط نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عرب کے دیگر قبائل قریش کو رضاکارانہ عزت دیتے تھے، خوف سے نہیں۔
وہ حکمت جو تاریخ کے پیچھے چھپی تھی
بچپن سے لے کر جوانی تک، جب بھی قبل از اسلام کے مکہ یا قریش کا ذکر آیا، ذہن میں صرف ایک ہی تصویر ابھری — ایک ایسا معاشرہ جہاں تلواریں سونتی رہتیں، قبائلی دشمنیاں ختم ہونے کا نام نہ لیتیں، اور جہالت کا اندھیرا ہر سو پھیلا ہو۔ ہمیں ہمیشہ صرف اس کا جنگجویانہ رخ دکھایا گیا، مگر تاریخ کا وہ سنہرا اور روح پرور پہلو، جو یہ بتاتا ہے کہ آخر مکہ ہی کیوں اور قریش کا خاندان ہی کیوں چنا گیا، شاید کبھی اس طرح روشنی میں نہیں لایا گیا جس کا وہ مستحق تھا۔
اس دائمی آزادی کے پیچھے تین گہری حکمتیں کارفرما نظر آتی ہیں۔ جب کوئی قوم صدیوں تک غلام رہتی ہے — جیسے بنو اسرائیل فرعون کے زیرِ سایہ رہے — تو ان کی سوچ ہی بیمار ہو جاتی ہے، جرات ختم ہو جاتی ہے، اور احساسِ کمتری ان کے وجود میں سرایت کر جاتا ہے۔ مگر آپ ﷺ کا خاندان، بنو ہاشم اور قریش، نے کبھی کسی کی غلامی کا منہ نہیں دیکھا۔ وہ نفسیاتی طور پر مکمل آزاد اور خوددار تھے؛ روم کے سیزر یا فارس کے کسریٰ کا کوئی رعب ان کے دلوں پر طاری نہ تھا۔
اگر مکہ رومیوں کے تسلط میں ہوتا، تو ممکن تھا کہ وہاں زبردستی عیسائیت مسلط کر دی جاتی۔ اگر ایرانی قابض ہوتے، تو آتش پرستی تھوپی جاتی۔ مگر قریش کی آزادی کے باعث کعبہ ہر بیرونی سیاسی دباؤ سے محفوظ رہا، اور جب دعوتِ اسلام آئی تو اسے کچلنے کی کوئی بیرونی طاقت میدان میں نہ آ سکی۔ جب باقی دنیا سلطنتوں کی رعایا بننے پر مجبور تھی، یہی وہ لوگ تھے جن کے قافلے شام اور یمن تک آزادانہ سفر کرتے، اور جن کی سیادت عزت سے تھی، جبر سے نہیں۔
یہ اتفاق نہیں تھا۔ یہ اُس رب کی تدبیر تھی جو جانتا تھا کہ جو ہستی ساری انسانیت کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرنے آ رہی ہے، وہ خود کسی زنجیر میں جکڑی ہوئی نسل سے نہیں اٹھے گی۔ آزادی ان کے خون میں تھی، ان کے گھر میں تھی، ان کی مٹی میں تھی۔
پھر یہی ہستی ﷺ آئی اور اعلان کیا: “کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں، مگر تقویٰ کی بنا پر۔” جو خود آزاد پیدا ہوا، اس نے پوری دنیا کو آزادی کا سبق دیا۔