Ismat Usama 0

پاکستان، آزاد کشمیر، مسائل اور حل/تحریر/عصمت اسامہ

آزاد کشمیر ایک حساس سرحدی علاقہ ہے جو قومی سلامتی، نظریاتی شناخت اور کشمیری عوام بشمول دفاعی اداروں کی عظیم جدوجہدِ آزادی کی علامت بھی ہے۔ تاہم اس خطے کو آج جن مسائل کا سامنا ہے، ان میں معاشی مشکلات، بے روزگاری، بنیادی سہولیات کی کمی، تعلیمی اور طبی نظام کی کمزوریاں، قدرتی آفات کے اثرات اور بعض اوقات سیاسی عدم استحکام نمایاں ہیں۔ ان مسائل کا حل صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ عوام، سیاسی قیادت، سول سوسائٹی اور میڈیا کی مشترکہ کاوشوں سے ہی ممکن ہے۔
پاکستان اور آزاد کشمیر کا رشتہ قربانی، اعتماد اور مشترکہ تاریخ پر قائم ہے۔ اس رشتے کو کمزور کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائی جا سکتی ہے، بشرطیکہ ہم باہمی احترام، برداشت اور اتحاد کو اپنی اجتماعی طاقت بنائیں۔ اختلافِ رائے ہر جمہوری معاشرے کا حسن ہے، مگر اختلاف کو دشمنی اور نفرت میں بدلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
حال ہی میں آزاد کشمیر میں جو حالات خراب کئے گئے ہیں ان کے پیچھے ملک دشمن طاقتیں ہیں ،جن کے بارے میں عوام کو بھی جاننا ضروری ہے۔ بیرونی ہاتھ ہیں جو کشمیری عوام کو حقوق کے نام پر کھلونے کی طرح استعمال کر رہے ہیں۔عوام کو سمجھنا چاہئیے کہ ان جیسے مسائل ملک کے دیگر علاقوں میں بھی موجود ہیں مگر وہ کون لوگ ہیں جو” پُرامن احتجاج” کے نام پر اسلحہ لے کر اور گھات لگا کر پاکستان رینجرز اور پولیس پر حملے کر رہے ہیں؟۔ وطن کے محافظوں کو بے رحمی سے شہید کرنے والے ان کے دوست کیسے ہوسکتے ہیں؟سوال یہ ہے کہ جب حکومت نے “کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی” کے بیشتر مطالبات تسلیم کرلیے تھے تو پھر انھوں نے لانگ مارچ کی کال کیوں دی ؟
حقیقت تو یہ ہے کہ اس کالعدم کمیٹی میں تربیت یافتہ دہشت گرد شامل ہیں جو مسلح جتھوں کی صورت میں پھیلے ہوئے ہیں اور زور زبردستی سے مارکیٹیں ،بازار اور شاہراہوں کو بند کروارہے ہیں۔انھیں یہ فساد کرنے کا اشارہ کس نے دیا ہے؟ یہ کون لوگ ہیں جو ” بھاڑ میں جائے پاکستان” کے نعرے لگاتے ہیں؟ تاریخ کا یہ سچ کون جھٹلا سکتا ہے کہ یہ ایٹمی پاکستان ہی تو ہے جس نے کشمیر کا یہ خطہ آزاد کروایا تھا! یہ پاکستان ہی تو ہے جو مقبوضہ بھارتی کشمیر کے مسلمانوں کی امید کا جگمگاتا سورج ہے!
یہ پاکستان ہی تو ہے جس نے بھارت کے “آپریشن سندور ” کو تندور میں بدل دیا تھا ! معرکہء حق میں دیرینہ دشمن کو خاک چاٹنا پڑی اور اب وہ دشمن پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے کے لئے ،عوام اور اداروں میں نفرت کے بیج بونے کی کوشش کر رہا ہے! بھارتی ایجنسیاں پہلے بلوچستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھیں ،اب آزاد کشمیر میں ملوث ہیں۔سیکیورٹی فورسز نے ایسے کئی مجرموں کو اسلحہ سمیت گرفتار کیا ہے۔سینئر وفاقی وزیر امیر مقام نے ایک پروگرام میں بتایا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے ساتھ 10 مئی کو ہونے والی آخری ملاقات میں کمیٹی نے 38 مطالبات کے علاوہ مزید 8 مطالبات پیش کیے۔ ان میں ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ “انتخابی حلف نامے سے پاکستان سے وفاداری کی شق نکالی جائے” ، جس پر میں حیران رہ گیا۔ان مطالبات کی جو تحریری کاپی ہمیں دی گئی، اس پر کمیٹی کے تمام اراکین کے دستخط موجود ہیں۔ ( WE News).
آج کا دور صرف روایتی جنگ کا نہیں بلکہ اطلاعات اور سوشل میڈیا کی جنگ کا بھی ہے۔ دشمن عناصر مختلف ذرائع سے جھوٹی خبریں، گمراہ کن اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز اور منفی پروپیگنڈا پھیلا کر عوام میں بے اعتمادی اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ کسی بھی خبر کو تحقیق کے بغیر آگے نہ بڑھائے، مستند ذرائع پر اعتماد کرے اور افواہوں سے خود بھی بچے اور دوسروں کو بھی بچائے۔میڈیا کا کردار بھی اس حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ ذمہ دار صحافت صرف مسائل کی نشان دہی نہیں کرتی بلکہ ان کے حل کی راہیں بھی دکھاتی ہے۔ صحافیوں کو چاہیے کہ وہ مصدقہ معلومات عوام تک پہنچائیں، قومی مفاد کو مقدم رکھیں اور ایسی خبروں سے اجتناب کریں جو غیر ضروری خوف یا انتشار پیدا کرنے کا سبب ہوں۔ کئی میڈیا پرسنز کو نامعلوم افراد کی جانب سے ایسی فون کالز موصول ہوئیں جن میں انھیں فیک معلومات اور ملک دشمن پراپیگنڈہ کرنے کے عوض بھاری معاوضے کی پیشکش کی گئی،یہاں تک کہ انھیں اس مکروہ غدارانہ کام کے بدلے بیرون ملک بھجوانے کی آفرز بھی کی گئیں !-ہر باشعور شہری کا فرض ہے کہ اس الارمنگ وقت میں وہ اپنی آنکھیں کھولے ،دشمن کے ہاتھ کا کھلونا بننے سے انکار کرے ،ذاتی مفاد پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دے۔ریاست کو نقصان پہنچانے والوں کا راستہ روکے اس لئے کہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں!
سوشل میڈیا یوزرز سے عاجزانہ درخواست ہے کہ کسی نفرت انگیز اور ملک دشمن مواد کو آگے پھیلانے سے پرہیز کریں اور خدارا بھارت کی کاکروچ پارٹی کا موازنہ یہاں کی “جین زی” سے مت کریں۔ کاکروچ پارٹی نے اپنی ریاست سے غداری والا کوئی کام نہیں کیا تھا، وہ اسلحہ لے کر نہیں آۓ تھے ۔ انھوں نے دنگا فساد نہیں کیا تھا۔ انھوں نے عوام کو گمراہ نہیں کیا تھا مگر یہاں بیرونی طاقتوں کے ایماء پر ہمارے محافظوں کو شہید کیا جارہا ہے۔وہاں کی صورت حال اور یہاں کی صورت حال یکسر مختلف ہیں ۔ دونوں کی یکساں تطبیق نہیں کی جاسکتی۔
~ مجھ کو ڈر ہے کہ ہے طفلانہ طبیعت تیری
اور عیار ہیں یورپ کے شکر پارہ فروش!
#

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں