گزشتہ قسط میں دین پور شریف کی روح پرور ساعتوں، اکابرینِ امت کے مزارات پر حاضری، حضرت میاں مسعود احمد دین پوری دامت برکاتہم العالیہ کی مجلسِ بابرکت اور تحریکِ ریشمی رومال کے تاریخی نقوش سے وابستہ یادگار لمحات کا تذکرہ نذرِ قارئین کیا گیا تھا۔ انہی مبارک ساعتوں کی خوشبو اپنے دامن میں سمیٹے، اہلِ اللہ کی دعاؤں کو زادِ راہ بنائے اور اکابرین کی نسبتوں سے دل و دماغ کو منور کیے ہوئے راقم الحروف اور سفیرِ نعت حافظ فیصل بلال حسان صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے اپنا سفر جاری رکھا اور دین پور شریف سے روانہ ہو کر جنوبی پنجاب کے ایک اور عظیم علمی مرکز، جامعہ احیاء العلوم ظاہر پیر کی جانب رختِ سفر باندھ لیا۔
یہ سفر محض ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنے کا نام نہ تھا بلکہ علم سے علم، نسبت سے نسبت اور اکابرین کی ایک یادگار سے دوسری یادگار تک رسائی کا ایک حسین سلسلہ تھا۔ راستے بھر دل میں ایک ہی شوق موجزن رہا کہ اُس مردِ درویش، اُس استاذِ وقت اور اُس مفسرِ قرآن کی زیارت نصیب ہو جنہوں نے اپنی پوری زندگی علومِ نبوت کی خدمت، تدریسِ قرآن و حدیث اور اشاعتِ دین کے لیے وقف کیے رکھی۔
یہ تو پہلے سے ہی معلوم تھا کی جامع المعقول والمنقول، استاذُ المفسرین، بے شمار علمی و تحقیقی کتب کے مصنف، حضرت مولانا منظور احمد نعمانی دامت برکاتہم العالیہ ان دنوں شدید علالت کے باعث ضعف کا شکار ہیں۔ اسی لیے ہمارے سفر کا ایک اہم مقصد حضرت کی عیادت، زیارت اور دعاؤں سے فیض یاب ہونا بھی تھا۔
حضرت مولانا منظور احمد نعمانی دامت برکاتہم العالیہ کا شمار عصرِ حاضر کی اُن نابغۂ روزگار علمی شخصیات میں ہوتا ہے جن کے تلامذہ آج ملک و بیرونِ ملک کے بڑے بڑے مدارس، جامعات اور دینی مراکز میں دینِ متین کی خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔ اس وقت موجود بے شمار جید علماء، اکابرینِ دین اور ممتاز اہلِ علم کو حضرت سے شرفِ تلمذ حاصل ہے۔ گزشتہ قسط میں جن حضرت میاں مسعود احمد دین پوری دامت برکاتہم العالیہ کا تذکرہ کیا گیا، وہ بھی اپنی باضابطہ فراغت کے بعد اعزازی طور پر حضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر شرفِ تلمذ حاصل کرتے رہے اور حضرت کے علمی فیوض و برکات سے مستفید ہوتے رہے۔
حضرت کی علمی خدمات کا دائرہ نہایت وسیع اور ہمہ گیر ہے۔ آپ نے حضرت شیخ درخواستی رحمۃ اللہ علیہ کے قائم کردہ عظیم علمی مرکز جامعہ مخزن العلوم خانپور میں حضرت شیخ درخواستی رحمۃ اللہ علیہ کی حیاتِ مبارکہ ہی میں طویل عرصہ تدریسی خدمات سرانجام دیں اور ہزاروں تشنگانِ علم کو سیراب کیا۔ بعد ازاں کراچی کے متعدد معروف دینی اداروں میں بھی تدریس اور بالخصوص دورۂ تفسیر القرآن کی عظیم خدمت انجام دیتے رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھوں ظاہر پیر میں جامعہ احیاء العلوم جیسا عظیم علمی مرکز قائم کروایا جو آج علم، تحقیق، تربیت اور اشاعتِ دین کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ادارہ شمار ہوتا ہے
تقریباً پچانوے برس کے لگ بھگ عمر پانے والی یہ عظیم علمی شخصیت اس وقت خصوصی دعاؤں کی محتاج ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے حضرت کو صحتِ کاملہ عاجلہ عطا فرمائے اور ان کا سایۂ عاطفت امت کے سروں پر دیر تک قائم رکھے۔ آمین۔
جامعہ میں حاضری کے دوران حضرت کے فرزندِ ارجمند حضرت مولانا زاہد مسعود نعمانی صاحب اور پوتوں میں حضرت مولانا عاصم نعمانی صاحب، حضرت مولانا عبد الباسط نعمانی صاحب اور دیگر اہلِ خانہ سے ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی۔ دورانِ گفتگو انہوں نے حضرت والا کی زندگی کے مختلف گوشوں سے آگاہ کیا۔ ان باتوں سے نہ صرف حضرت کی علمی عظمت بلکہ ان کے زہد، استغناء اور اخلاص کی جھلک بھی نمایاں ہوئی۔
گفتگو کے دوران حضرت کے پوتوں نے فرمایا کہ ہمارے دادا جان کی طبیعت ہمیشہ سے دنیاوی آسائشوں سے بے نیاز رہی ہے۔ بے شمار احباب نے مختلف اوقات میں حضرت کو گاڑیاں پیش کرنے کی کوشش کی مگر حضرت نے کبھی قبول کرنے پر آمادگی ظاہر نہ فرمائی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت بھی ایک گاڑی موجود ہے جو کراچی کے ایک مخلص محب نے بطور ہدیہ پیش کی، لیکن حضرت اسے قبول کرنے پر آمادہ نہ تھے۔ اہلِ خانہ کے مسلسل اصرار اور ضرورت کے پیشِ نظر بڑی مشکل سے حضرت اس پر راضی ہوئے۔
اسی طرح ایک اور واقعہ سناتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کسی صاحب نے حضرت سے عرض کیا کہ ہم آپ کے حجرے میں اے سی (AC) نصب کروا دیتے ہیں۔ حضرت نے صاف انکار فرما دیا۔ جب اس شخص نے بہت زیادہ اصرار کیا تو حضرت فرمانے لگے: ’’اگر آپ اتنا ہی اصرار کرتے ہیں تو میرے کمرے کے بجائے مہمان خانے میں ایک کولر لگا دیں تاکہ آنے والے مہمان اس سے فائدہ اٹھا سکیں، یہی آپ کے لیے بہتر صدقۂ جاریہ ہوگا۔‘‘
یہ واقعات سن کر دل بے اختیار اس حقیقت کی گواہی دینے لگا کہ اخلاص، استغناء اور للہیت کی وہ دولت جس نے اکابرین کو اکابرین بنایا تھا، آج بھی ان مردانِ حق کی زندگیوں میں پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے مردِ قلندر اپنی زبان سے کم اور اپنے کردار سے زیادہ تعلیم دیتے ہیں۔
حضرت کے متعلقین کے اندازِ گفتگو، ادارے کے معاملات پر گہری نظر، علمی مزاج اور بزرگوں کے مشن سے وابستگی دیکھ کر دل کو بے حد خوشی ہوئی۔ محسوس ہوتا تھا کہ اس خانوادۂ علم و فضل میں آج بھی وہی اخلاص، وہی وقار اور وہی دینی غیرت موجود ہے جو اس ادارے کی بنیادوں میں شامل ہے۔
کچھ دیر بعد وہ لمحہ بھی آ پہنچا جس کا شدت سے انتظار تھا۔ ہمیں حضرت والا دامت برکاتہم العالیہ کے حجرۂ مبارک میں حاضری کی سعادت نصیب ہوئی۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی سادگی، للہیت اور اکابرین کی یادوں نے دل کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ نہ وہاں دنیاوی تکلفات تھے، نہ ظاہری شان و شوکت؛ بس ایک سادہ سا حجرہ، ایک معمولی سی چارپائی اور اس پر استراحت فرما ایک ایسا مردِ قلندر جس نے اپنی پوری زندگی دین کی خدمت میں گزار دی۔
اس منظر نے بے اختیار اکابرین کی سادہ زندگیوں کی یاد تازہ کر دی۔ وہ لوگ جنہوں نے محلات نہیں بسائے، مگر دلوں پر حکومت کی؛ جنہوں نے دنیا جمع نہیں کی، مگر علم و عمل کے ایسے خزانے چھوڑے جو آج بھی امت کی رہنمائی کر رہے ہیں۔
حضرت شدید ضعف اور علالت کے باعث نہ گفتگو فرما سکتے تھے اور نہ ہی لوگوں کو مکمل طور پر پہچان سکتے تھے، تاہم جب حضرت کے فرزندِ ارجمند مولانا زاہد مسعود نعمانی صاحب نے ہمارا تعارف کروایا تو حضرت کے چہرۂ مبارک پر خوشی اور مسرت کے آثار نمایاں ہوگئے۔ اگرچہ زبان خاموش تھی لیکن چہرہ محبت کی زبان بول رہا تھا۔ ہمیں قریب بیٹھنے، مصافحہ کرنے اور چند قیمتی لمحات حضرت کی صحبت میں گزارنے کی سعادت نصیب ہوئی۔
یہ وہ لمحات تھے جنہیں الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں۔ بعض اوقات اہلِ اللہ کی خاموشی بھی ایک درس ہوتی ہے، اور بعض نگاہیں ایسی ہوتی ہیں جو طویل خطابات سے زیادہ اثر رکھتی ہیں۔
دورانِ گفتگو یہ بھی معلوم ہوا کہ چند روز قبل قائدِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم العالیہ بھی حضرت کی عیادت اور مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت مولانا منظور احمد نعمانی دامت برکاتہم العالیہ کی علمی خدمات اور دینی مقام کو ملک بھر کے اہلِ علم کس قدر ـ قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
ہم تمام احباب، علماء کرام، طلبہ اور متعلقین سے اپیل کرتے ہیں کہ اس عظیم علمی سرمایہ کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت کی صحت، عافیت اور راحت کے فیصلے فرمائے اور ان کے علمی فیوض سے امت کو مزید مستفید فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
جامعہ احیاء العلوم کی فضا، اہلِ خانہ کی محبتیں، اکابرین کی یادیں اور حضرت کی زیارت کی سعادت ہمارے اس جماعتی سفر کا ایک نہایت قیمتی اور یادگار باب بن گئی۔ اگرچہ اہلِ جامعہ اور حضرت کے متعلقین کی جانب سے پُرخلوص اصرار تھا کہ کچھ مزید وقت ان کے ساتھ گزارا جائے، مگر ہمارے سفر کا اگلا مرحلہ ہمیں ملتان کی جانب بلا رہا تھا۔
چنانچہ دعاؤں، محبتوں اور ان مٹ یادوں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہم نے ظاہر پیر سے رخصت لی اور ملتان کی جانب روانہ ہوگئے۔
ملتان کی علمی فضاؤں، وہاں کی ملاقاتوں، یادگار ساعتوں اور سفر کے اگلے مرحلے کی تفصیلی روداد ان شاء اللہ سفرنامے کی آئندہ قسط میں نذرِ قارئین کی جائے گی۔