0

حق شناس قیامت تک رہیں گے / شرفو کی لفاظی/ خالد وحید امراچی

*حق شناس قیامت تک رہیں گے*
شرفو کی لفاظی/ خالد وحید امراچی

دجال شیطان سے زیادہ طاقتور نہیں ہے بلکہ اس کے بڑے پیروں میں سب سے نمایاں ہوگا، اس کی سب سے بڑی صلاحیت جھوٹ ہے۔ جس کو مزید طاقتور بنانے کے لئے موجودہ منفی سائنس مستقل الیکٹرانک گیجٹس، سوشل میڈیا اور اے آئی جیسی مصنوعی دنیا میں انسانوں کو ڈبونے اور دھنسانے میں مصروف ہے۔
رسول اللہﷺ کے فرمان کا مفہوم ہے کہ وہ دن کو رات کہے گا اور تم یہ جانتے ہوئے کہ دن ہے اس کی بات کا یقین کروگے۔
جھوٹ کو آج کل کے میڈیائی دور میں بیانیے کا نام دیا جاتا ہے۔ ب یہ ایک باقائدہ فن بن گیا ہے جس کے نام پر ماہرین رکھے جاتے ہیں۔ سیانوں نے اس بیماری کو عشروں پہلے بھانپ لیا تھا۔ افسوس کہ آج اس دوڑ میں سب ہی بلا تفریق شریک ہیں۔ بیانیے، پروپیگنڈے کی دوڑ میں حقائق بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ لیکن فکر نہ کریں سب کا سچ اور جھوٹ اللہ کے پاس محفوظ ہے، ظالم اور مظلوم کے درمیان فیصلہ ہوگا اور ضرور ہوگا۔
خیر ! حال ہی میں سعودی عرب کی مستقل فتویٰ کمیٹی نے “مذاہب کے اتحاد” اور “ابراہیمی ہاؤس” ( ابراهام اکارڈ ) کے متعلق پائے جانے والے اختلافات کو ختم کرتے ہوئے واضح فتویٰ جاری کر دیا ہے۔
جس کا ترجمہ میڈیا پر زیر گردش ہے۔ فتویٰ کمیٹی نے اپنے ابتدائیہ میں لکھا ہے
“تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور درود و سلام ہو اُن پر جن کے بعد کوئی نبی نہیں، اور ان کے اہلِ بیت و صحابہ اور جو ان کے طریقے پر چلتے رہے قیامت تک “۔
مستقل کمیٹی برائے علمی تحقیق و افتاء نے ان سوالات اور میڈیا میں شائع مضامین کا جائزہ لیا جو مذاہب کے اتحاد (اسلام یہودیت اور عیسائیت) کے بارے میں پیش کیے گئے، جن میں یہ تجویز دی گئی کہ ایک ہی جگہ مسجد ، چرچ، اور مندر بنائے جائیں یا قرآن ، تورات ، اور انجیل کو ایک ہی جلد میں شائع کیا جائے۔ اس مسئلے پر غور کے بعد کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے۔۔۔
مستقل فتویٰ کمیٹی برائے علمی تحقیق و افتاء نے اپنے فتویٰ نمبر 19402 میں دس نکات تحریر کئے ہیں۔
ابراهام اکارڈ یا ابراہیمی ہاؤس کی تمام تر جدو جہد مبینہ طور پر ” یہودیوں/اسرائیل ” کو تحفظ دینے کے لئے خوبصورت ٹائٹل کے ساتھ عالمی سازش کے طور پر رچائی جا رہی ہے۔ جو کہ قرآن و سنت کی روشنی میں نا قابل قبول ہے۔ پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک کے حکمرانوں کو اس سازش سے اپنے آپ کو دور رکھنا چاہیئے۔
بے شک اللہ کے دین میں ہی دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔ اور اللہ تعالٰی کے نزدیک صرف دین اسلام ہی قابل قبول ہے اور کوئی دین سرے سے ہے ہی نہیں، اور اللہ کے فرمان کے مطابق گیارہواں نقطہ یہ بھی ہے کہ یہود ونصاریٰ کو دوست بنانے سے قرآن مجید میں منع کیا گیا ہے۔
امام إبن القيم رحمه الله لکھتے ہیں
“ہر فتنے کی بنیاد اصل میں یہ ہے، کہ رائے کو شریعت پر ، اور خواہش کوعقل پرمقدم ٹھہرایا جائے!”
(إغاثة اللهفان : 165/2)
بدقسمتی سے آج کل کی دنیا سازشوں کی دنیا ہے، اس مکر و فریب کی دنیا میں میدانوں کی جنگ ایوانوں میں جیت کر خوشی منانے والوں کو خبر ہو کہ ایک بڑا میدان بھی سکے گا جس میں کوئی مکر و فریب نہ چل سکے گا اس میدان کو میدان حشر کہتے ہیں۔ بظاہر اب قبلہ اول کا حصول تو کیا اس کی حفاظت اور سلامتی کی دعائیں کیجئے، “اللہ ہی جانے کون بشر ہے”
ویسے بھی ہمارے صرف نوجوان ہی نہیں بلکہ ساری قوم سوشل میڈیا پر لگی ہوئی ہے، مولوی، مفتی، ٹیچر، صحافی، پولیس، آرمی، ڈاکٹرز ، وزرا، اسٹیبلشمنٹ، لیڈر، انجینئیرز، گھریلو خواتین، بچے، مرد ، سیاسی و مذھبی جماعتیں، اور جس کو کچھ نہیں آتا وہ اپنے اپنے منجن اور چورن بیچنے کی دکان سجائے بیٹھے ہیں،،،،، غرض تمام عوام کسی نا کسی طور سوشل میڈیا پر پائے جاتے ہیں۔ سوچئے اگر سوشل میڈیا بند ہوجائے تو اس ملک کا کیا بنے گا؟
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا: “موت قبول ہے، لیکن پستی اور رسوائی ہرگز قبول نہیں”، “کم مقدار پر قناعت کی جا سکتی ہے لیکن دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا ہرگز گوارا نہیں”۔ (نهج البلاغه، حکمت ۳۹۶)
ملک کے اندرونی حالات پر بیرونی دباؤ ہے اور بہت ہے، ڈکٹیشن قبول کرو یا کسی بھی قسم کی مخالفانہ کاروائی اور فیصلوں کے لئے تیار رہو،،،،،،، یہ درست ہے کہ ہر جانب سے غلطیاں ہوئی ہیں، لیکن اس موقع پر ان غلطیوں کو استعمال کر کے وطن کے خلاف بات کرنا، ملکی پالیسیوں کی مخالفت کرنا، شاید غلطی نہیں غداری سمجھی جاتی ہے۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔۔۔ بہرحال
ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیں
وہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں
اپنی دکان چمکانے کے لئے اسلام میں تبدیلی کرنے والوں کا انجام نہ جانے کیا ہوگا؟
باطل کی یہی نشانی ہے کہ ہر وقت پھسلتا لڑھکتا اور بھٹکتا ہی رہتا ہے۔ ہم دجل میڈیا پر مسلسل نئی سے نئی بات سنتے چلے آرہے ہیں، مگر یہ سب باتیں کسی مستند کتاب یا ذرائع سے آج تک کوئی کبھی ثابت نہیں کر سکا مطلب کوئی بھی نہیں،
اکثر میڈیائی اسکالرز کو اپنی ویڈیو بنا کر شہرت حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے، اور کچھ جدیدیت کے پیروکار باقائدہ سازش کے تحت ایسا کرتے ہیں،
ان کی واہ واہ کرنے والوں کی بھی سمجھ نہیں آتی،،،، کہ ایسی پوسٹ مزید اگے شیئر کرنے والے شاید علم اور اسلام سے نابلد ہوتے ہیں، واللہ عالم
اکثر گمان ہوتا ہے کہ شاید ہمارے نوجوان ژندہ نہیں ہیں ہیں (غزہ، شام، یمن، سوڈان ، امت مسلمہ کی حالت زار پہ مکمل خاموشی،)،
پھر کوئی کھیل (کرکٹ میچ) یا تماشہ (سیاسی) آتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ زندہ تو ہیں، مگر صرف کھیل تماشوں کے لئے، پھر ڈر لگتا ہے کہ کہیں اپنے اپنے ضمیروں کا گلا گھونٹ نہ چکے ہوں۔
ایک یہ ہی نہیں بلکہ دنیا کے اکثر ممالک میں عمومی طور پر اور ان کے محکموں، اداروں، شعبوں وغیرہ میں خاص طور پر ایک ایسا نظام بنایا جاچکا ہے جہاں رنگ ماسٹر نے کرتب/تماشہ دکھانے والوں سے زیادہ تماشبین/عوام کو ٹرین کرنے پر محنت کی ہے،
جو اب ہر نئے تماشہ گر کے تماشے پر تالیاں اور سامنے والے کرتب باز کو گالیاں دینے میں مکمل ماہر ہوچکے ہیں۔
اور جب آخری تماشہ گر آئے گا تو تمام مخالف کرتب باز سخت مشکل کا شکار ہوں گے
جب تک اس نظام کو بدلنے والوں کا ظہور اور نزول نہیں ہو جاتا۔
فی الحال تماش بینوں کو نہ ماضی یاد ہے، نہ حال کی فکر اور یہ اپنے مستقبل سے مکمل بے خبر نظر آتے ہیں۔
اللہ ہم سب کا حامی ناصر ہو۔۔۔
دعا کریں کہ حق کے لئے لڑنے والوں کو کامیابیاں ملیں، مظلوموں کو راحت نصیب ہو، ظالم دنیا کے نقشے سے مٹ جائیں۔۔۔۔ سب کہیں “آمین”
اللہ کریم نے ہر دور میں ایک غیبی چھلنی لگائی ہوئی ہوتی ہے، اور ہمیشہ یہ چھلنی اہل حق اور منافقین کو الگ الگ کر دیتی ہے، موجودہ دور کی چھلنی نو گیارہ کے بعد (شاید آخری) واضع طور پر اپنا کام کر رہی ہے،
حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (حضور ابا جی) نے اپنی کتاب میں تحریر کیا تھا کہ “اکیسویں صدی خواتین کی صدی ہے’، جو صحیح ہوتا نظر آرہا ہے، اور ممکن ہے آدھی صدی گزرتے گزرتے یہ بات مکمل ہوجائے،،،،
جب کہ مولانا شاہ احمد نورانی رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ “اکیسویں صدی غلبہ اسلام کی صدی ہے”, اور اس کا آغاز بھی فلسطین سے ہوچکا پے،
اہل حق قطار اندر قطار اپنا فرض پورا کرتے جارہے ہیں، اور اللہ کریم نئے سپاہی پیدا کرتا جارہا ہے،
جب کہ منافقین کے گروہ اپنی چالیں ناکام ہوتے دیکھ رہے ہیں۔
یہ عمل ممکن ہے پون صدی گزرنے پر مکمل ہو، یعنی اسلام غالب آجائے،
مگر اس دوران وہ سخت ترین دور بھی آئے گا کہ جس کا ذکر ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم اکثر اپنی تقاریر اور لیکچرز میں کیا کرتے تھے (الامان و الحفیظ)
پھر سن لیجئے اب زمانے کے ڈھنگ بدل چکے ہیں اور سازشوں کے طریقہ کار بھی ،،،، ہوشیار رہیں، چوکنے رہیں ، آنکھ کان کے ساتھ ناک بھی کھلی رکھیں،،،
نظام سے اختلاف رکھیں، سیاستدانوں سے اختلاف رکھیں، حکومتوں سے اختلاف رکھیں ،،،،، مگر اپنی ریاست اپنے وطن سے کبھی اختلاف نہ رکھیں۔
یاد رکھیں کچھ ہی لوگ ایمان لے کرکے جائیں گے، جب کہ بہت سے مال و اسباب چھوڑ کر جائیں گے۔
جانا سب نے لازمی ہے، آگے پیچھے، باری باری،
حرف آخر : علامہ محمد اقبال رح نے خوب کہا تھا کہ
رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی
غزہ، فلسطین ہو، کشمیر یا دنیا کا کوئی بھی مظلوم جب تک دنیا کے حکمرانوں کو پکارتے رہیں گے نجات ملنا مشکل ہے، سوشل میڈیا پر شور مچانے کو کافی سمجھیں گے مصیبتوں میں گھرتے رہیں گے،،،، مگر جس روز سچے دل سے توبہ کرکے اللہ قادر مطلق کو پکاریں گے، اللہ نجات کے راستے ظاہر کردے گا اور ان کی مدد کے اسباب نازل فرما دے گا۔
مایوس نہ ہوں کہ ڈاکٹر محمد اقبال کی ایک صدی قبل مانگی گئی دعا،،، ان کی خواہش پوری ہونے کا وقت قریب ہے۔
يا رب! دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے ، جو روح کو تڑپا دے
پھر وادي فاراں کے ہر ذرے کو چمکا دے
پھر شوق تماشا دے، پھر ذوق تقاضا دے
محروم تماشا کو پھر ديدئہ بينا دے
ديکھا ہے جو کچھ ميں نے اوروں کو بھي دکھلا دے
بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل
اس شہر کے خوگر کو پھر وسعت صحرا دے
پيدا دل ويراں ميں پھر شورش محشر کر
اس محمل خالي کو پھر شاہد ليلا دے
اس دور کي ظلمت ميں ہر قلب پريشاں کو
وہ داغ محبت دے جو چاند کو شرما دے
رفعت ميں مقاصد کو ہمدوش ثريا کر
خودداري ساحل دے، آزادي دريا دے
بے لوث محبت ہو ، بے باک صداقت ہو
سينوں ميں اجالا کر، دل صورت مينا دے
احساس عنايت کر آثار مصيبت کا
امروز کي شورش ميں انديشہء فردا دے
ميں بلبل نالاں ہوں اک اجڑے گلستاں کا
تاثير کا سائل ہوں ، محتاج کو ، داتا دے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں