Tense Pakistani Living Room Confrontation 0

آخر شوہر بیوی کو مارتا کیوں ہے؟ تحریر/نادیہ زید

گوجرانوالہ کی عروج امجد کی وہ ویڈیو دیکھی جس میں وہ تشدد کے بعد اپنی حالت دکھا رہی تھیں، تو سب سے پہلے یہی بات ذہن میں آئی کہ آخر کسی مرد کو اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھانے کی جرأت آتی کہاں سے ہے؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے میں نے کچھ نفسیاتی اور سماجی مطالعات پڑھے، چند نظریات دیکھے اور اس موضوع پر ماہرین کی گفتگو بھی سنی۔ ان سب میں ایک بات بار بار سامنے آئی کہ ہم عموماً ہاتھ اٹھنے کو تشدد کی ابتدا سمجھتے ہیں.
حالانکہ اکثر ہاتھ تو بہت بعد میں اٹھتا ہے۔ اس سے پہلے مرد کےذہن میں یہ بات پختہ ہو چکی ہوتی ہے کہ بیوی اس کے برابر نہیں، تابع ہے۔ اس کے نزدیک عورت کی الگ مرضی، اپنی رائے اور انکار کا حق ہی نہیں، کیونکہ وہ اسے شریک نہیں بلکہ اپنی اطاعت کی پابند ہستی سمجھتا ہے۔ پھر اس کا انکار رائے نہیں رہتا، سرکشی معلوم ہونے لگتا ہے۔
ہماری عورتوں کو شروع ہی سے یہ سبق دیا جاتا ہے کہ مرد کے غصے سے بچ کر رہو۔ “مرد ہے، غصہ آ جاتا ہے”، “تم جواب نہ دیا کرو”، “گھر عورت ہی بساتی ہے”۔ پھر ظلم مرد کرتا ہے اور قصور عورت میں تلاش کیا جاتا ہے۔ اسی سے پوچھا جاتا ہے کہ تم نے ایسا کیا کیا تھا کہ وہ تمہیں مارنے پر آ گیا۔ لنڈی بینکرافٹ، جنہوں نے گھریلو تشددد، بالخصوص اپنی شریکِ حیات پر جبر کرنے والے مردوں کے رویّوں پر تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک کام کیا، کیمبرج، میساچوسٹس کے Emerge پروگرام سے وابستہ رہے اور بعد میں اسی ادارے کے شریک ڈائریکٹر بھی بنے۔ ایک ہزار سے زیادہ متشدد مردوں کے ساتھ براہِ راست کام اور طویل عملی مشاہدے کے بعد انہوں نے اپنی معروف کتاب Why Does He Do That? Inside the Minds of Angry and Controlling Men لکھی۔ بینکرافٹ کے مطابق اصل معاملہ اس کے برعکس ہے۔ اگر غصہ ہی تشدد کی وجہ ہوتا تو یہی مرد دفتر میں افسر سے الجھنے، کسی بااثر شخص سے اختلاف ہونے یا کسی اجنبی پر غصہ آنے پر بھی ہاتھ اٹھاتا، مگر عموماً وہ جانتا ہے کہ کہاں خود کو روکنا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ بیوی کو شریک نہیں، تابع سمجھتا ہے۔ اسے اپنی رائے، اپنی ناراضی اور اپنے انکار کا حق بدیہی لگتا ہے، مگر عورت کو یہی حق دینا اسے گوارا نہیں۔ اسی لیے عورت کی الگ مرضی اسے رائے نہیں، حکم عدولی دکھائی دیتی ہے۔
ممکن ہے ایک مرد اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہو، اس کی بہت فکر رکھتا ہو، اس کے لیے بہت کچھ کرتا ہو، اور پھر بھی دل سے اسے اپنے برابر نہ سمجھتا ہو۔ اس لیے بات یہ نہیں ہے کہ وہ آپ سے کتنا پیار کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ آپ کے اختلاف، انکار اور ناراضی کے وقت آپ کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔
پاکستان میں یہ چند گھروں کا مسئلہ نہیں۔ 2017–18 کے قومی سروے میں 15 سے 49 برس کی کبھی شادی شدہ خواتین میں 34 فیصد نے جسمانی، جنسی یا جذباتی ازدواجی تشدد کی اطلاع دی، جبکہ جسمانی یا جنسی تشدد سہنے والی 56 فیصد خواتین نے نہ مدد مانگی نہ کسی کو بتایا۔ اور اعداد صرف وہی گنتے ہیں جو کہا جا سکے، جبکہ ہماری بہت سی عورتیں تو ساری زندگی کچھ کہہ ہی نہیں پاتیں۔ سو آنے والی نسلوں کو ہمیں یہی سکھانا ہے کہ محبت اختیار نہیں دیتی، نکاح کسی کی مرضی منسوخ نہیں کرتا، عورت کا ناراض ہونا بدتمیزی نہیں، اختلاف نافرمانی نہیں اور انکار گستاخی نہیں ہوتا۔
اور آخر میں عورتوں سے، اور ان ماں باپ، بھائیوں اور گھر والوں سے بھی جو اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے رشتے طے کرتے ہیں، صرف اتنا کہنا چاہوں گی کہ مرد میں صرف محبت، روزگار یا ذمہ داری نہ دیکھیں۔ یہ بھی دیکھیے کہ وہ عورت کو اپنے برابر سمجھتا ہے یا نہیں، اپنے لیے ایک اصول اور عورت کے لیے دوسرا تو نہیں رکھتا، اور اپنے سے کمزور یا کم بااختیار لوگوں کے ساتھ اس کا برتاؤ کیسا ہے۔ انسان کی اصل تربیت اکثر وہیں سامنے آتی ہے جہاں اسے جواب دہی کا خوف نہ ہو۔ اور شادی شدہ عورتوں سے یہ کہ اگر ہاتھ اٹھانا، دھمکی دینا، ڈرانا یا آپ کی آمدورفت، پیسے، جسم، تعلقات اور فیصلوں پر قبضہ شروع ہو جائے تو کسی بڑے حادثے کا انتظار نہ کیجیے۔ اپنی ماں، بہن، بھائی، والد یا کسی قابلِ اعتماد دوست کو ضرور بتائیے، اور جو کچھ ہو اسے لکھتی رہیے کہ کب کیا ہوا، کیا کہا گیا اور آپ نے کیا محسوس کیا، کیونکہ جبر کرنے والا شخص اکثر بعد میں واقعے سے انکار کرتا ہے، بات پلٹ دیتا ہے اور قصور آپ ہی پر ڈال دیتا ہے، یہاں تک کہ آپ خود اپنی یادداشت اور سمجھ پر شک کرنے لگتی ہیں۔ ضروری کاغذات، کچھ رقم اور محفوظ جگہ کا بندوبست پہلے سے رکھیے، اور جہاں ممکن ہو مالی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑی رہیے۔ گھر والے کچھ بھی کہیں اور معاشرہ جتنا بھی “گھر بسانے” کا سبق دے، اپنی جان اس کے نام پر داؤ پر مت لگائیے۔ کسی سانحے کے بعد چند پوسٹیں، کچھ تبصرے اور چند دن کا افسوس ہوگا، پھر سب اپنی زندگیوں میں آگے بڑھ جائیں گے۔ اپنی زندگی ان لوگوں کی رائے پر مت چھوڑیے جنہیں اس کی قیمت ادا نہیں کرنی۔ خود کو بچائیے۔
ایک ضروری وضاحت: اپنی ذات، مرضی اور حدود پر حق کا مطلب ازدواجی وفاداری سے آزادی نہیں۔ اگر کوئی رشتہ جبر، تشدد یا بے حرمتی تک پہنچ جائے تو کسی دوسرے تعلق میں پناہ لینے کے بجائے پہلے اسی رشتے سے باقاعدہ نکلیں، خود کو محفوظ کریں، قانونی اور شرعی تقاضے پورے کریں، پھر نئی زندگی کا فیصلہ کریں۔ ظلم سہتے رہنا درست نہیں، مگر ظلم سے بچنے کے لیے بے وفائی کو راستہ بنا لینا بھی درست نہیں۔ یہی اصول مرد کے لیے بھی ہے۔ اگر اس کے لیے رشتہ نبھانا ممکن نہ رہے تو پہلے وہ رشتہ ختم کرے، پھر کسی نئے تعلق کی طرف بڑھے۔ وفاداری کا اصول دونوں کے لیے ایک ہی ہے۔
ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے کہ محبت رشتہ باندھ سکتی ہے، مگر اسے نبھاتے برابری اور احترام ہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں