ہر سال 15 اکتوبر کو سفید چھڑی کا عالمی دن یعنی وائٹ کین سیفٹی ڈے (White Cane Safety Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد نابینا اور کم بصارت رکھنے والے افراد کے مسائل، ان کے حقوق اور آزادانہ زندگی گزارنے کی ضرورت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔سفید چھڑی اس دن کی پہچان ہے۔ نابینا افراد اسے راستہ تلاش کرنے اور سامنے آنے والی رکاوٹوں کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ چلتے ہوئے چھڑی زمین کی سطح، سیڑھیوں، فٹ پاتھ کے کناروں اور راستے میں موجود بعض رکاوٹوں کا احساس دلانے میں مدد دیتی ہے۔ مناسب تربیت کے ساتھ اس کا استعمال انسان کو اکیلے سفر کرنے میں اعتماد دیتا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بصارت انسان کے لیے بہت بڑی نعمت ہے، لیکن کسی شخص کی بینائی کمزور ہو جائے یا ختم ہو جائے تو اس کی صلاحیتیں ختم نہیں ہو جاتیں۔ دنیا میں ایسے بے شمار لوگ موجود ہیں جو بینائی سے محرومی کے باوجود تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ملازمتیں کر رہے ہیں، کاروبار چلا رہے ہیں اور اپنے خاندانوں کی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں۔آج ٹیکنالوجی نے بھی نابینا افراد کے لیے زندگی کے کئی راستے آسان کیے ہیں۔ موبائل فون میں اسکرین ریڈر، آواز کے ذریعے کام کرنے والے پروگرام اور دوسری معاون ٹیکنالوجیز انہیں معلومات حاصل کرنے اور دوسروں سے رابطہ رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔تاہم روزمرہ زندگی میں انہیں اب بھی کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ہمارے اکثر شہروں میں فٹ پاتھ اکثر پیدل چلنے والوں کے لیے بھی آسان نہیں ہوتے۔ کہیں موٹر سائیکلیں کھڑی ہوتی ہیں، کہیں دکانوں کا سامان راستہ روک رہا ہوتا ہے اور کہیں تعمیراتی ملبہ پڑا ہوتا ہے۔ کھلے مین ہول، غیر مناسب پارکنگ اور سڑک عبور کرنے کے مسائل نابینا افراد کے لیے خطرہ مزید بڑھا دیتے ہیں۔ایسے حالات میں سفید چھڑی بہت مددگار ثابت ہوتی ہے، مگر محفوظ سفر کے لیے صرف چھڑی کافی نہیں۔ راستے بھی محفوظ ہونے چاہئیں اور لوگوں کا رویہ بھی ذمہ دارانہ ہونا چاہیے۔
نابینا شخص کو سڑک پر دیکھ کر اگر ہمیں لگے کہ اسے مدد کی ضرورت ہے تو سب سے پہلے اس سے پوچھنا چاہیے۔ اچانک ہاتھ پکڑ کر کھینچنا یا اپنی مرضی سے اسے کسی طرف لے جانا مناسب نہیں۔ بہتر طریقہ یہی ہے کہ پوچھا جائے، “کیا میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں؟” اگر وہ مدد چاہے تو اس کی ہدایت کے مطابق ساتھ دیا جائے۔اس چھوٹی سی احتیاط سے کسی کی عزتِ نفس بھی قائم رہتی ہے اور اسے اپنی ضرورت کے مطابق مدد بھی مل جاتی ہے۔واضح رہے کہ نابینا افراد کے مسائل صرف سڑکوں تک محدود نہیں ہیں تعلیم اور روزگار میں مواقع، سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں تک رسائی، عوامی ٹرانسپورٹ کا استعمال اور معلومات حاصل کرنے کی سہولت بھی ان کی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ایک طالب علم جو دیکھ نہیں سکتا، اسے بھی تعلیم حاصل کرنے کا وہی حق ہے جو کسی دوسرے طالب علم کو حاصل ہے۔ اسی طرح ایک قابل شخص کو صرف بصارت کی کمی کی وجہ سے ملازمت کے موقع سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔معاشرے کا رویہ بھی بہت اہم ہے۔ نابینا افراد کو اکثر ضرورت سے زیادہ ہمدردی یا ترس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے لیے زیادہ اہم چیز عزت، اعتماد اور اپنی صلاحیت استعمال کرنے کا موقع ہے۔کسی شخص کی بینائی کم ہونا اس بات کا فیصلہ نہیں کرتا کہ وہ زندگی میں کیا کر سکتا ہے۔ اصل فرق اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اسے تعلیم، تربیت اور آگے بڑھنے کے مواقع ملتے ہیں۔سفید چھڑی اسی خودمختاری کی علامت ہے۔ اسے ہاتھ میں تھام کر ایک نابینا شخص اپنے روزمرہ کے کام انجام دیتا ہے، گھر سے نکلتا ہے، سڑک پر چلتا ہے، بازار جاتا ہے، کام پر پہنچتا ہے اور اپنی منزل تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔اس لیے 15 اکتوبر کا دن ہمیں اپنے اردگرد کے ماحول اور رویوں پر غور کرنے کا موقع دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے فٹ پاتھ ایسے ہیں کہ نابینا شخص ان پر آسانی سے چل سکے؟کیا ہماری سرکاری عمارتیں اور تعلیمی ادارے اس کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہیں؟کیا عوامی ٹرانسپورٹ میں اس کے لیے مناسب سہولت موجود ہے؟اور سب سے بڑھ کر، کیا ہم کسی نابینا شخص کو دیکھ کر اسے کمزور سمجھنے کے بجائے ایک برابر کے انسان کے طور پر دیکھتے ہیں؟
ایک اچھے معاشرے کی پہچان یہی ہے کہ وہاں ہر شخص کو اپنی صلاحیت کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع ملے۔ شہری منصوبہ بندی میں بھی ان لوگوں کا خیال رکھا جائے جنہیں عام راستوں پر اضافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
محفوظ فٹ پاتھ، مناسب پیدل گزرگاہیں، قابلِ رسائی عمارتیں، بہتر ٹرانسپورٹ اور عوام میں شعور نابینا افراد کی زندگی کو بہت آسان بنا سکتے ہیں۔سفید چھڑی کا عالمی دن ہمیں ایک سادہ سا پیغام دیتا ہے کہ بینائی کی کمی کسی انسان کے خواب چھین نہیں سکتی۔ضرورت صرف اتنی ہے کہ اس کے راستے میں ہماری غفلت رکاوٹ نہ بنے۔ایک سفید چھڑی ہاتھ میں لیے چلنے والا شخص بھی اپنی منزل، اپنی پسند اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کر سکتا ہے۔ اسے صرف محفوظ راستے، مناسب مواقع اور معاشرے کے احترام کی ضرورت ہے۔ اس دن کا سبق یہ ہے کہ کسی کی آنکھیں روشنی سے محروم ہوں تو معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ اس کے راستے اندھیرے نہ ہونے دے۔ یہ دن ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ ایک بہتر معاشرہ وہی ہے جہاں راستے صرف دیکھنے والوں کے لیے آسان نہ ہوں، بلکہ ہر شخص کے لیے محفوظ اور قابلِ رسائی ہوں۔ سفید چھڑی ہاتھ میں لیے چلنے والا ہر شخص بھی اپنی منزل رکھتا ہے، اپنے خواب رکھتا ہے اور آگے بڑھنے کا حق رکھتا ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس سفر میں غیر ضروری رکاوٹیں پیدا نہ ہوں اور اسے اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے ایک محفوظ، باعزت اور برابر کا راستہ ملے۔اصل ضرورت رویے میں تبدیلی کی ہے۔ نابینا شخص کو کمزور سمجھنے کے بجائے ایک باصلاحیت اور خودمختار فرد کے طور پر دیکھا جائے۔ اسے فیصلے کرنے کا موقع دیا جائے، اس کی بات سنی جائے اور اس کے لیے ایسے حالات پیدا کیے جائیں جہاں وہ اپنی محنت اور قابلیت سے آگے بڑھ سکے۔
0