Raheela Khan, Advocate 0

غزہ کا مزدور اور ملبہ/تحریر/راحیلہ خان ایڈووکیٹ

دنیا بھر میں مزدوروں کے حقوق کی آواز ہر فورم پر اٹھائی جاتی ہے۔ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کئی قوانین موجود ہیں، مگر یہی دنیا غزہ کے مزدوروں کے معاملے میں مکمل خاموش ہے۔ خاص طور پر مغرب اور امریکہ، جو انسانی حقوق کے عالمی علمبردار ہیں، آنکھیں بند کر کے بیٹھے ہیں۔

کسی کو غزہ کے مزدوروں کی حالت پر رحم نہیں آتا۔ وہ مزدور جو آئے روز اپنی ہی تعمیر کردہ بستی کو تباہ ہوتے دیکھتا ہے۔ ہر مکان میں جڑی اینٹیں، جو اس نے رات دن ایک کر کے دیوار کی شکل میں تعمیر کی تھیں، ان کو روز گرتے دیکھتا ہے۔ وہ چھت، جس کو اس نے بڑی محنت سے کھڑا کیا تھا، پھٹتے دیکھتا ہے۔ وہ مکان، جو بڑی محبت سے تیار ہوا تھا، تباہ ہوتے دیکھتا ہے۔ وہ عمارت جو کاروبار کے لئے کھڑی کی گئی تھی اب اپنی بربادی پر نوحہ پڑھ رہی ہے۔

یہی نہیں، ان گھروں کے مکین، جنہوں نے ان مزدوروں کو بلایا، انہیں تعمیر کا کام دیا، جو روز کام ختم ہونے تک ان مزدوروں کے آس پاس ہی گھومتے رہتے، جو مکان کی ایک ایک اینٹ کو جڑتا دیکھتے، کبھی ہدایات دیتے، کبھی بے چین ہو کر مزدوروں کی مدد میں لگ جاتے، جنہوں نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی اینٹ نہیں اٹھائی، وہ بھی مزدوروں کے ساتھ اینٹیں اٹھانے میں لگ جاتے اور صبر سے انتظار کرتے کہ کب گھر تیار ہو اور وہ اس کے مکین بنیں۔

غرض یہ کہ جنہوں نے بڑی محبت سے اس گھر کو بنوایا، اب وہی گھر نہ صرف تباہ ہو گیا ہے بلکہ اپنے ساتھ اپنے مکینوں کو بھی لے گیا۔

غزہ کے مزدور جب بھی ان ملبوں سے چھوٹے چھوٹے بچوں کی لاشیں نکلتی دیکھتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ کاش انہوں نے یہ گھر بنایا ہی نہ ہوتا۔ کاش وہ مزدوری کے لیے آئے ہی نہ ہوتے، یا مکان کچا ہوتا، گھاس پھوس کا ہوتا تو مکین زندہ درگور تو نہ ہوتے، بس کچھ چھوٹی موٹی چوٹیں لگ جاتیں مگر وہ زندہ ہوتے، ہنستے مسکراتے، کھیلتے کودتے، کبھی لڑتے کبھی جھگڑتے، کبھی مناتے مگر زندہ ہوتے۔

پھر مزدور اس وقت کو سوچتا اور مسکرانے لگتا جب مکین کو کسی معمولی شے پر خود سے الجھتے دیکھتا، جب مکین کی بیوی کہتی یہ کچن کا سلیب یہاں نہیں لگانا تھا اور شوہر بولتا یہ پائپ غلط سمت میں نکال دیا، اور مزدور وضاحتیں دیتے دیتے تھک جاتا۔

ان مزدوروں کی ذہنی حالت کا اندازہ کچھ مشکل نہیں جو روز اپنے شہر کو برباد ہوتے دیکھتے ہیں۔ ملبے پر بھی بمباری، ایسا پہلے کب ہوا تھا؟ مزدور سوچتا رہتا، بار بار تاریخ کے اوراق پلٹتا، مگر ایسا ظلم تو دنیا کے ظالم ترین بادشاہوں نے بھی نہ کیا۔

مگر ہمیں کیا؟ ہم تو کسی تباہ شدہ بستی میں نہیں رہتے، نہ ہمیں بمباری کا خطرہ ہے، نہ مکان ڈھے جانے کا، نہ سڑکیں تباہ ہونے کا، نہ مرنے کا، نہ اپنے بچوں کی لاشیں اٹھانے کا۔ ہم کتنے خوش نصیب ہیں۔ بس ایک ہی مسئلہ ہے، اللہ کے سامنے غزہ کے بارے میں جواب دہی کا۔

کیا کوئی عالمِ دین اس بارے میں ہماری مدد کر سکتا ہے؟ کوئی فتویٰ جاری کر سکتا ہے کہ اس صورتحال میں ہم پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی؟ ہماری جواب دہی نہیں بنتی؟
خدارا علمائے کرام و مشائخِ عظام ہماری مدد کریں، ہم غزہ سے بری الذمہ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں