خود سے نہیں، بتوں سے لڑنا ہے
وہ ایک ہے، اس کا کوئی ثانی نہیں
اس جیسا جہاں میں کوئی بھی نہیں
نہ سجدہ کسی کو، نہ مانگوں کسی سے
میرا رب ہے کافی، ہر گھڑی کے لیے
وہ وحدہٗ لا شریک، وہی میرا خدا
اسی کے لیے دل، اسی کی رضا
نہ بتوں کے آگے جھکے گا یہ سر
خدا ایک ہے… بس خدا ایک ہے۔
مگر کبھی ہم نے سوچا ہے کہ بت صرف پتھر کے نہیں ہوتے؟
کچھ بت ہماری آنکھوں کے سامنے نہیں ہوتے، مگر ہماری سوچ پر قابض ہوتے ہیں۔ کچھ ہمارے ہاتھوں سے نہیں تراشے جاتے، مگر ہماری زندگی کے فیصلے انہی کے سامنے جھک کر ہوتے ہیں۔
کبھی خوف کا بت…
کبھی لوگوں کی رائے کا بت…
کبھی خاندان کی ناراضی کا بت…
کبھی رسم و رواج کا بت…
کبھی محبت کا بت…
کبھی انا کا بت…
اور کبھی اپنی ہی کمزوریوں کا بت۔
آج کے معاشرے میں جوائنٹ فیملی سسٹم سب سے بڑا پوشیدہ بتوں کی ایک شکل بن گیا ہے۔ جوائنٹ فیملی بذاتِ خود کوئی برائی نہیں؛ خاندان کا ساتھ، بزرگوں کی موجودگی اور ایک دوسرے کا سہارا یقیناً نعمت ہے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں محبت کی جگہ مداخلت، تعاون کی جگہ دباؤ اور رشتے کی جگہ اختیار آ جاتا ہے اور رب العالمین کے دیے ہوئے تمام حقوق ضبط کر لیے جاتے ہیں ۔
کبھی ایک بہو سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر فرد کی پسند کے مطابق خود کو بدل لے۔
کبھی بیٹے سے کہا جاتا ہے کہ شادی کے بعد بھی ہر فیصلہ خاندان کی مرضی سے کرے۔
کبھی کسی کی ذاتی زندگی میں اتنی مداخلت ہوتی ہے کہ میاں بیوی اپنے فیصلے بھی خود کرنے سے گھبرانے لگتے ہیں اور شادی کی فضولیات رسموں کی وجہ سے ساری زندگی قرضہ ہی نہیں اترتا ہے اور چھوٹے بہن بھائیوں کی شادی کی عمریں گزر جاتیں ہیں اور وہ کبیرہ گناہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔اگر نہ رسومات نہ کریں سادگی کے ساتھ سب کریں تو پھر ایک جملہ سب سے بڑا بت بن جاتا ہے:
“لوگ کیا کہیں گے؟”
اسی خوف میں کبھی کسی کی خوشی قربان ہو جاتی ہے، کبھی کسی کی آزادی، کبھی کسی کا حق اور کبھی کسی کا پورا مستقبل۔
رشتوں کے معاملے میں بھی ہم نے بہت سے ایسے پیمانے بنا رکھے ہیں جو انسان کی اصل قدر سے زیادہ معاشرے کی نظر کو اہمیت دیتے ہیں۔
لڑکی کی عمر بڑھ جائے تو سوال شروع:
“ابھی تک شادی کیوں نہیں ہوئی؟”
لڑکا ملازمت میں مستحکم نہ ہو تو سوال:
“کماتا کتنا ہے؟”
جاب اچھی ہو تو رشتہ آسان، جاب معمولی ہو تو انسان کی قابلیت بھی معمولی سمجھ لی جاتی ہے۔
کبھی تعلیم مکمل کرنے میں وقت لگتا ہے، کبھی اچھی ملازمت کی تلاش میں سال گزر جاتے ہیں، کبھی معاشی حالات شادی کو مؤخر کر دیتے ہیں، اور کبھی نوجوان اپنے والدین کی ذمہ داریاں پوری کرتے کرتے اپنی زندگی کے اہم فیصلوں کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔
پھر معاشرہ اسی نوجوان سے پوچھتا ہے:
“اب تک شادی کیوں نہیں کی؟”
مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا:
“کیا تمہارے حالات ایسے تھے کہ تم شادی کر سکتے؟”
دیر سے شادی ہمیشہ کسی کی غفلت، ضد یا بے راہ روی کی علامت نہیں ہوتی۔ کبھی اس کے پیچھے تعلیم ہوتی ہے، کبھی روزگار، کبھی مالی مشکلات، کبھی خاندان کی ذمہ داریاں اور کبھی مناسب رشتے کا نہ ملنا۔
لیکن ہم نے عمر کو بھی ایک بت بنا دیا ہے۔
ایک مخصوص عمر کے بعد انسان کو یوں دیکھا جاتا ہے جیسے اس کی زندگی کی قدر کم ہو گئی ہو۔
خصوصاً لڑکیوں کے لیے تو معاشرتی دباؤ کہیں زیادہ شدید ہے۔ عمر، شکل، تعلیم، جاب، خاندان، جہیز، رہن سہن—ہر چیز کو رشتے کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔
اور پھر ایک انسان، جو اپنی پوری شخصیت، خوابوں اور صلاحیتوں کے ساتھ اس دنیا میں آیا تھا، صرف ایک سوال میں محدود ہو جاتا ہے:
“رشتہ کب ہوگا؟”
یہ بھی ایک ایسا بت ہے جسے توڑنے کی ضرورت ہے۔
شادی زندگی کا اہم حصہ ہے، مگر پوری زندگی نہیں۔
جاب ضروری ہے، مگر انسان کی پوری پہچان نہیں۔
خاندان ضروری ہے، مگر انسان کی ہر سانس پر اختیار کا نام خاندان نہیں۔
اور معاشرہ اہم ہے، مگر انسان کی زندگی کا آخری فیصلہ معاشرے کی زبان نہیں کر سکتی۔
ہمیں یہ فرق سمجھنا ہوگا کہ رشتے نبھانا اور اپنی ذات مٹا دینا ایک چیز نہیں۔
والدین کا احترام ضروری ہے، مگر ہر غلط دباؤ کو قبول کرنا احترام نہیں۔
خاندان کا خیال رکھنا ضروری ہے، مگر ہر شخص کی ذاتی زندگی میں غیر ضروری مداخلت محبت نہیں۔
شادی کرنا خوبصورت ذمہ داری ہے، مگر صرف لوگوں کے سوالات سے بچنے کے لیے شادی کرنا دانش مندی نہیں۔
جاب کرنا ضروری ہو سکتا ہے، مگر کسی کی عزت صرف اس کی تنخواہ سے متعین نہیں ہوتی۔
اور دیر سے شادی ہونا کسی انسان کی ناکامی نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے فیصلے دباؤ میں کر رہے ہیں یا شعور، ذمہ داری اور اللہ کی رضا کو سامنے رکھ کر؟
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ حق کی تلاش صرف دوسروں سے بغاوت کا نام نہیں، بلکہ دلیل، حکمت، صبر، یقین اور اپنے خالق کی پہچان کا سفر ہے۔
آپ نے اپنے والد سے اختلاف کیا، مگر بدتمیزی نہیں کی۔
آپ نے معاشرے کے باطل عقائد کو چیلنج کیا، مگر مقصد ذاتی دشمنی نہیں تھا۔
آپ نے بتوں کو توڑا، مگر اصل مقصد پتھروں کو توڑنا نہیں تھا؛ انسان کے اندر موجود باطل عقیدے کو توڑنا تھا۔
آج ہمیں بھی یہی سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ہمیں ہر رشتے سے لڑنا نہیں ہے۔
ہمیں خاندان توڑنے نہیں ہیں۔
ہمیں والدین کو چھوڑنا نہیں ہے۔
ہمیں شادی سے بھاگنا نہیں ہے۔
ہمیں جاب یا معاشی ذمہ داریوں سے انکار نہیں کرنا۔
بلکہ ہمیں ان سب کے درمیان عدل، توازن اور حق تلاش کرنا ہے۔
جوائنٹ فیملی ہو تو محبت کے ساتھ حدود بھی ہوں۔
رشتے ہوں تو احترام کے ساتھ ذاتی اختیار بھی ہو۔
شادی ہو تو صرف خاندانوں کا نہیں، دو انسانوں کا سکون بھی دیکھا جائے۔
جاب ہو تو صرف آمدنی نہیں، انسان کی عزت اور صلاحیت بھی دیکھی جائے۔
اور اگر شادی دیر سے ہو رہی ہو تو طنز کے بجائے دعا دی جائے۔
کیونکہ ہر انسان اپنی زندگی کے ایک الگ سفر پر ہے۔
کسی کی منزل جلد آتی ہے، کسی کی دیر سے۔
کسی کو روزگار پہلے ملتا ہے، کسی کو بعد میں۔
کسی کی شادی جلد ہوتی ہے، کسی کی دیر سے۔
لیکن انسان کی قدر ان چیزوں سے نہیں، بلکہ اس کے کردار، نیت، عمل اور رب کے ساتھ تعلق سے ہونی چاہیے۔
اس لیے خود سے نہیں…
بتوں سے لڑنا ہے۔
لوگوں کے خوف کے بت سے۔
رسم و رواج کے بت سے۔
غیر ضروری خاندانی دباؤ کے بت سے۔
جوائنٹ فیملی کی بے جا مداخلت کے بت سے۔
دیر سے شادی کے طعنوں کے بت سے۔
جاب اور دولت کو انسان کی قدر کا پیمانہ بنانے کے بت سے۔
اور سب سے بڑھ کر اپنی انا کے بت سے۔
اپنی ذات کو مٹانا نہیں، اسے اپنے خالق کی پہچان دینا ہے۔
اپنے حقوق چھوڑنا نہیں، انہیں عدل، حکمت اور ذمہ داری کے ساتھ سمجھنا ہے۔
اپنی آواز دبانا نہیں، بلکہ اسے حق، تہذیب اور خیرخواہی کے ساتھ بلند کرنا ہے۔
کیونکہ آخرکار سوال یہ نہیں ہوگا کہ:
“لوگوں نے ہمارے بارے میں کیا کہا؟”
سوال یہ ہوگا:
“ہم نے اپنے رب کی رضا کے لیے کیا کیا؟”
شاید یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو اپنے دل کے اندر سے ایک آواز سنائی دیتی ہے:
لوگ کیا کہیں گے؟ کے بجائے
میرا رب کیا چاہتا ہے؟
اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جب انسان دنیا کے بنائے ہوئے بتوں سے آزاد ہو کر اپنے حقیقی رب کے سامنے جھکنا سیکھتا ہے۔
خدا ایک ہے… بس خدا ایک ہے۔
اور جب رب ایک ہے، تو زندگی کا رخ بھی اسی ایک رب کی طرف ہونا چاہیے