آج ہمیں یہ فکر ہے کہ ہماری تحریر یا تصویر پر اے آئی کی مدد کے آثار نظر نہ آئیں۔ کسی کو پتا نہ چلے کہ ہم نے لکھتے ہوئے اے آئی سے مدد لی ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے یہ ضرورت بھی زیادہ عرصہ نہیں رہنے والی۔ کچھ عرصے بعد سوال یہ نہیں ہوگا کہ یہ کس نے بنایا؟ انسان نے یا اے آئی نے؟ سوال یہ ہوگا کہ بنایا کیا ہے، کتنا اچھا بنایا ہے اور اس میں انسان کی اپنی اہلیت کیا ہے؟
ذرا کیلکولیٹر کو یاد کریں۔ ایک وقت تھا جب امتحان میں کیلکولیٹر کا استعمال طالب علم کی اپنی قابلیت کے خلاف سمجھا جاتا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ کیلکولیٹر ایک عام آلہ بن گیا۔ آج انجینئر، سائنس دان، ماہرِ معاشیات اور اکاؤنٹنٹ یہ ثابت کرنے کے لیے بیٹھ کر حساب نہیں کرتے کہ انہیں 27 ضرب 43 آتا ہے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ وہ حساب کہاں اور کیوں استعمال کر رہے ہیں اور نتیجے کو سمجھ بھی رہے ہیں یا نہیں۔
ٹائپ رائٹر آیا تو ہاتھ سے خوبصورت لکھنے کی مہارت کی اہمیت بدل گئی۔ کمپیوٹر آیا تو ٹائپنگ اور دستاویز سازی کا طریقہ بدل گیا۔ گوگل آیا تو ہر چیز یاد رکھنے کی ضرورت کم ہوئی۔ فوٹو ایڈیٹنگ سافٹ ویئر آیا تو تصویر بنانے اور درست کرنے کا پورا تصور بدل گیا۔ اب اے آئی لکھنے، ترجمہ کرنے، تصویر بنانے، ڈیٹا سمجھنے اور آئیڈیاز پیدا کرنے کے عمل کو اسی سلسلے میں اگلے مرحلے پر لے جا رہا ہے۔
اور یہاں اصل مقابلہ شروع ہوگا۔
وہ شخص جو اے آئی کا بٹن تو دبا سکتا ہے مگر اسے معلوم نہیں کہ کیا پوچھنا ہے، کیا درست ہے، کیا غلط ہے، اور حاصل ہونے والے نتیجے میں اپنی سوچ کیسے شامل کرنی ہے، وہ صرف ایک ٹول کا صارف ہوگا۔ دوسری طرف وہ انسان جو علم رکھتا ہے، سوال اچھا پوچھتا ہے، نتیجے کو پرکھتا ہے، اپنی تخلیقی سوچ شامل کرتا ہے اور بہتر فیصلہ کر سکتا ہے—وہ اسی ٹیکنالوجی سے کئی گنا زیادہ کام لے گا۔
جیسے کیلکولیٹر نے ریاضی ختم نہیں کی، اے آئی بھی انسانی اہلیت ختم نہیں کرے گی۔ بلکہ شاید پہلی بار یہ بہت واضح کرے گی کہ صرف معلومات رکھنے اور معلومات کو استعمال کرنے میں کتنا فرق ہے۔
اس لیے آنے والے وقت میں شاید اے آئی استعمال کرنے کو چھپانا اتنا ہی عجیب لگے جتنا آج یہ بتانا کہ “دیکھیے، میں نے یہ حساب کیلکولیٹر کے بغیر کیا ہے۔” 😄
اصل سوال یہ نہیں ہوگا کہ آپ نے اے آئی استعمال کی یا نہیں۔
اصل سوال یہ ہوگا:
اے آئی استعمال کرنے کے بعد بھی آپ کے اندر اپنا دماغ کتنا باقی ہے؟
اس لئے میں اپنی تحاریر کے اوپر اے ائی مٹانے کی ذرا بھی کوشش نہیں کرتی۔ بھئی میں نے اس ٹول سے مدد لی ہے۔ آپ بھی لے لیں اور اتریں میدان میں!
میری تحریر میں خیالات میرے ہی ہیں، اے ائی نے سرچ کرنے، ترتیب دینے میں مدد دی جو لینا میرا حق ہے۔ سب لے سکتے ہیں۔ مسئلہ کیا ہے؟
ضروری نوٹ: تصویر اے ائی جنریٹڈ ہے اور میری نہیں ہے۔
نبیلہ ہارون کوثر
ڈپٹی ڈائریکٹر کرئیر کونسلنگ
جی سی وویمن یونیورسٹی فیصل آباد
0