image 0

جمعیت علماء اسلام پنجاب کی قیادت/تحریر/حافظ ذیشان صدیقی

بعض شخصیات کا تذکرہ جب زبانِ خلق پر آتا ہے تو ان کے اوصاف کی خوشبو پہلے ہی دل و دماغ کو معطر کر دیتی ہے۔ ان کے بارے میں سنے ہوئے الفاظ، ان کی شہرت کے چرچے اور ان کے تذکروں میں بیان ہونے والی خوبیاں انسان کے دل میں ایک تصور قائم کر دیتی ہیں؛ مگر جب کبھی انہی شخصیات کو قریب سے دیکھنے، ان کی محفل میں بیٹھنے، ان کے معمولات کا مشاہدہ کرنے اور ان کے برتاؤ کو محسوس کرنے کا موقع ملتا ہے تو کبھی یوں لگتا ہے کہ جو سنا تھا، وہ حقیقت سے کہیں بڑھ کر تھا، اور کبھی تجربہ یہ کہتا ہے کہ:

جیسا دیکھا، اس سے بہتر پایا!

گزشتہ کئی ماہ سے ایک سوال سیاسی و جماعتی حلقوں میں زیرِ بحث تھا کہ پنجاب جیسے وسیع، متحرک اور حساس خطے میں جمعیت علماء اسلام صوبہ پنجاب کی قیادت کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں آئے گی؟ یہ انتظار صرف راقم الحروف کا نہیں تھا، بلکہ جماعت سے وابستہ احباب، علماء، کارکنان اور اہلِ فکر کی ایک بڑی تعداد اس فیصلے کی منتظر تھی۔

پھر جب قائدِ جمعیت علماء اسلام حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی طرف سے ایک مدبرانہ، حکمت انگیز اور دوراندیش فیصلہ سامنے آیا اور حضرت مولانا امجد خان صاحب دامت برکاتہم العالیہ کو جمعیت علماء اسلام صوبہ پنجاب کا امیر منتخب فرمایا گیا تو یقین جانیے، دل باغ باغ ہو گیا۔

یہ فیصلہ محض ایک تنظیمی تقرری نہ تھی، بلکہ پنجاب کی جماعتی قیادت کے لیے ایک ایسی شخصیت کا انتخاب تھا جس کے اندر علم بھی ہے، خطابت بھی، تجربہ بھی، تدبر بھی، رفاقت کا شعور بھی اور لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کا سلیقہ بھی۔

حضرت قائدِ جمعیت دامت برکاتہم العالیہ خود اپنی جماعت کے لیے ایک مدبر، صاحبِ بصیرت اور دوراندیش قائد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سیاست کے نشیب و فراز، جماعتی معاملات کی نزاکتوں اور وقت کے تقاضوں کو جس حکمت کے ساتھ سمجھتے اور فیصلے فرماتے ہیں، وہ ایک طویل سیاسی و دینی تجربے کی علامت ہے۔ چنانچہ جب ایسے قائد کی طرف سے حضرت مولانا امجد خان صاحب دامت برکاتہم العالیہ کو پنجاب کی قیادت سونپی گئی تو خوشی اس لیے بھی ہوئی کہ پنجاب کی ذمہ داری ایک ایسی شخصیت کے سپرد ہوئی جس میں تدبر اور حکمت کے وہ اوصاف نمایاں ہیں جو قیادت کے لیے بنیادی ضرورت ہیں۔

یوں سمجھئے کے ایک قائد نے قائد کو منتخب کیا۔

اور یہی اس فیصلے کی سب سے خوبصورت بات محسوس ہوئی کہ جس طرح حضرت قائدِ جمعیت پوری جماعت کے لیے ایک مدبر اور صاحبِ بصیرت قائد ہیں، اسی طرح پنجاب کے لیے بھی ایک ایسی شخصیت کا انتخاب ہوا جو اپنے مزاج، گفتگو، فکر اور طرزِ عمل میں تدبر و حکمت کا رنگ رکھتی ہے۔

اسی خوشی کے ساتھ گزشتہ جمعۃ المبارک کی سعادت حضرت مولانا امجد خان صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی اقتدا میں حاصل ہوئی۔ یہ محض نمازِ جمعہ کی ادائیگی نہ تھی، بلکہ ایک ایسی بابرکت مجلس میں حاضری تھی جہاں علم، خطابت، محبت، شفقت، مہمان نوازی اور قائدانہ اوصاف ایک ہی شخصیت کے اندر جلوہ گر نظر آئے۔

حضرت مولانا امجد خان صاحب دامت برکاتہم العالیہ، خطیبِ اسلام حضرت مولانا اجمل خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے فرزندِ گرامی ہیں۔ یہ نسبت اپنے اندر ایک پورا علمی و خطیبانہ ورثہ سمیٹے ہوئے ہے۔ حضرت مولانا اجمل خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت، ان کی بے باکی، جلالِ خطابت، علمی وقار اور دینی حمیت اہلِ علم کے لیے کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ان شاء اللہ حضرت مولانا اجمل خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی حیات و خدمات پر ایک تفصیلی کالم جلد قارئین کی خدمت میں پیش کیا جائے گا؛ فی الحال گفتگو اس فرزندِ رشید کی ہے جس کے انداز و اطوار میں اپنے والدِ محترم کی کئی جھلکیاں نمایاں دکھائی دیتی ہیں۔

حضرت مولانا امجد خان صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا ذکر ہو اور یہاں ایک بات نہ کی جائے تو شاید یہ کالم اپنے ایک خوبصورت پہلو سے محروم رہ جائے۔

سفیرِ نعت، جانشین سید سلمان گیلانی رحمہ اللہ بانی و چیئرمین پاکستان نعت کونسل، حضرت حافظ فیصل بلال حسان صاحب دامت برکاتہم العالیہ سے سفر و حضر میں متعدد مواقع پر رفاقت رہی۔ خصوصاً جب کبھی سفر طویل ہوتا تو راستے صرف منزل تک پہنچنے کے لیے نہیں ہوتے تھے، بلکہ اکابرین کے تذکروں سے علم و محبت کی منزلیں بھی طے ہوتی تھیں۔

حضرت سفیر نعت صاحب دامت برکاتہم العالیہ اکابرین کا تذکرہ نہایت محبت، عقیدت اور خوبصورت انداز میں فرمایا کرتے ہیں۔ ان تذکروں میں حضرت مولانا قائد پنجاب صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی صلاحیتوں اور اوصاف کا بھی تذکرہ ہوتا، اور اکابرین کے واقعات بھی بڑے محبت بھرے انداز میں بیان فرماتے۔

یوں حضرت مولانا قائد پنجاب صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی شخصیت کا ایک خوبصورت تصور پہلے ہی دل میں موجود تھا۔

حضرت سے خیر متعدد مرتبہ ملاقات کا شرف حاصل ہو چکا تھا۔ رابطہ بھی تھا اور محبت بھی؛ مگر کسی شخصیت سے ملاقات ہونا اور اسے قریب سے دیکھنا، یہ دونوں الگ تجربے ہیں۔

بسا اوقات ملاقات چند لمحوں کی ہوتی ہے، سلام دعا ہوتی ہے، گفتگو ہوتی ہے اور انسان واپس آ جاتا ہے؛ لیکن کبھی اللہ تعالیٰ کسی شخصیت کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا ایسا موقع عطا فرما دیتا ہے کہ شخصیت کے وہ پہلو بھی سامنے آتے ہیں جو محض رسمی ملاقاتوں میں دکھائی نہیں دیتے۔

چنانچہ جب سے حضرت کو جمعیت علماء اسلام صوبہ پنجاب کی امارت کی ذمہ داری ملی، دل میں یہ خواہش تھی کہ اس نسبت سے حضرت کو مبارک باد بھی پیش کی جائے اور حضرت کی اقتدا میں نمازِ جمعہ کی سعادت بھی حاصل ہو۔

میں خود بھی حضرت کو دلی مبارک باد پیش کرنا چاہتا تھا اور اپنی جماعت پاکستان نعت کونسل کی طرف سے بھی حضرت مولانا امجد خان صاحب دامت برکاتہم العالیہ کو اس عظیم ذمہ داری پر مبارک باد پیش کرنا اپنے لیے سعادت سمجھتا تھا۔

چنانچہ حضرت کے رفیقِ سفر و معاون، مولانا عبدالواجد صاحب سے رابطہ کیا گیا۔ جمعہ سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل جامع مسجد رحمانیہ حاضری ہوئی۔

یہ حاضری بظاہر ایک ملاقات کے لیے تھی، مگر اللہ تعالیٰ نے اسے کئی یادگار لمحات کا وسیلہ بنا دیا۔

حضرت سے ملاقات ہوئی، مبارک باد پیش کی، محبتیں ملیں، شفقتیں نصیب ہوئیں اور پھر وہ سعادت بھی حاصل ہوئی جس کی تمنا لے کر حاضر ہوا تھا: حضرت کی اقتدا میں نمازِ جمعہ ادا کرنا۔

حضرت مولانا امجد خان صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے جمعہ کی ایک ایسی خوبصورت، باوقار اور منظم ترتیب دیکھی جو عام جمعہ کی مجلس سے قدرے مختلف اور کسی بڑے دینی اجتماع یا جلسے کی ترتیب کی یاد دلاتی تھی۔

حضرت کے تشریف لانے سے قبل ہی تلاوتِ قرآنِ کریم کا سلسلہ جاری تھا۔ مختلف حضرات باری باری تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حاصل کر رہے تھے، پھر مختلف ثنا خواں حضرات نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نعتیہ کلام پیش کیا۔

یوں محسوس ہوتا تھا کہ نمازِ جمعہ سے قبل کی پوری مجلس کو ایک باقاعدہ روحانی، علمی اور دینی ترتیب کے ساتھ سجایا گیا ہے۔

اسی دوران راقم الحروف کے لیے بھی ایک ایسا لمحہ آیا جو میرے لیے ہمیشہ یادگار رہے گا۔

حضرت قائدِ پنجاب دامت برکاتہم العالیہ جب مجلس میں تشریف لائے تو میں نے اختصار کے پیشِ نظر سٹیج چھوڑنے کی کوشش کی، مگر حضرت نے فوراً اس بات سے منع فرمایا اور اپنی موجودگی میں کلام پڑھنے کا حکم دیا۔

حضرت کا اپنی موجودگی میں کلام پڑھوانا میرے لیے یقیناً ایک بڑی سعادت، حوصلہ افزائی اور محبت کا مظہر تھا۔

بعض اوقات بڑے لوگوں کی عظمت ان کے بڑے خطابات میں نہیں، بلکہ ان کے چھوٹے چھوٹے رویوں میں نظر آتی ہے۔

حضرت کا مجھ فقیر کو اپنے سامنے کلام پڑھنے کے لیے کہنا بھی اسی بڑے پن کی ایک خوبصورت مثال تھی۔

یہی تو اکابر کی محفلوں کا حسن ہوتا ہے کہ وہاں صلاحیت کو صرف پرکھا نہیں جاتا، اسے سنوارا بھی جاتا ہے؛ نوجوانوں کو صرف سنا نہیں جاتا، ان کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے؛ اور آنے والوں کو صرف مہمان نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اپنے پن کی دولت سے مالا مال کیا جاتا ہے۔

پھر حضرت قائدِ پنجاب صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا جمعہ کا خطاب سنا تو دل بے اختیار اپنے والدِ گرامی حضرت مولانا اجمل خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی طرف متوجہ ہو گیا۔

خطابت میں وہی رعب، گفتگو میں وہی روانی، لہجے میں وہی بے باکی، موضوع پر وہی گرفت اور بیان میں وہی تاثیر محسوس ہوئی۔

یوں لگا جیسے ایک ہی علمی و خطیبانہ شجر کی دو شاخیں ہوں؛ ایک شاخ اپنے عہد میں سایہ فگن رہی اور دوسری اسی علمی ورثے کی خوشبو لیے آگے بڑھ رہی ہے۔

یہ بات کسی مبالغے کے طور پر نہیں، بلکہ ایک سامع کی حیثیت سے عرض کر رہا ہوں کہ حضرت کی خطابت میں وہ جلال بھی ہے جو حق بات کہنے والوں کا امتیاز ہے اور وہ جمال بھی جو دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔

حضرت کا جمعہ کا خطاب موجودہ حالات میں حرمین شریفین کے تحفظ کے موضوع پر تھا۔ حضرت نے تحفظِ حرمین شریفین کے حوالے سے گفتگو فرمائی اور اس مقدس نسبت کے تقاضوں کی طرف توجہ دلائی۔

حرمین شریفین کا تذکرہ ہو اور دل میں محبتِ رسول ﷺ کی لہریں نہ اٹھیں، یہ کیسے ممکن ہے؟

حضرت کے خطاب میں بھی اسی مقدس نسبت کی عظمت، دینی حمیت اور حرمین شریفین کے ساتھ عقیدت کا رنگ نمایاں تھا۔

بیان کے دوران حضرت کی گفتگو، اندازِ استدلال اور موضوع کے ساتھ وابستگی نے سامعین کو متوجہ کیے رکھا۔ اللہ تعالیٰ حضرت کے علم، قلم، زبان اور بیان میں مزید برکت عطا فرمائے۔

جمعہ کے بعد ایک اور منظر نے خاص طور پر متاثر کیا۔

مختلف اضلاع سے جمعیت کی ضلعی جماعتیں اور ذمہ داران حضرت مولانا امجد خان صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مبارک باد کا سلسلہ بھی تھا، ملاقاتیں بھی تھیں اور جماعتی امور کے حوالے سے گفتگو بھی۔

مگر حضرت کی شانِ مہمان نوازی یہ تھی کہ آنے والے مہمانوں کا صرف رسمی استقبال نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے اکرام و ضیافت کا باقاعدہ اہتمام فرمایا گیا۔

کھانے کا انتظام کیا گیا اور حضرت نے خود اپنی نگرانی میں مہمانوں کے لیے انتظامات دیکھے۔

یہاں تک کہ حضرت خود مہمانوں کی خدمت اور چیزیں پیش کرنے میں شریک رہے۔

ایک قائد کا اپنے ساتھیوں اور کارکنوں کے درمیان اس انداز سے گھل مل جانا، ان کی خدمت کرنا اور ان کے آرام و آسائش کا خیال رکھنا، محبت اور قیادت دونوں کی خوبصورت علامت ہے۔

حضرت ہر آنے والی جماعت سے محبت سے ملے، ان کے حالات دریافت کیے، ان کی بات سنی، جماعتی معاملات پر گفتگو فرمائی اور اکابرین کے واقعات بھی سنائے۔

یہ سب کچھ محض رسمی انداز میں نہیں تھا؛ بلکہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ حضرت ہر آنے والے کو اپنی محبت کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔

مہمان نوازی صرف دسترخوان بچھانے کا نام نہیں؛ کسی کے لیے وقت نکالنا، اس کی بات توجہ سے سننا، اسے عزت دینا، اس کے کھانے کا اہتمام کرنا اور اس کے دل کو خوش کر دینا بھی مہمان نوازی ہی کی اعلیٰ صورتیں ہیں۔

اس پورے ماحول میں راقم الحروف کے لیے حضرت کی خصوصی شفقت بھی ایک الگ باب ہے۔

حضرت نے نہ صرف مجھ فقیر کو اپنی موجودگی میں کلام پڑھنے کی سعادت عطا فرمائی، بلکہ ملاقات کے اختتام تک خصوصی توجہ اور محبت کا سلسلہ برقرار رکھا۔

حضرت نے راقم کے کھانے کا بھی خصوصی اہتمام کروایا، حالانکہ میں عرض کر چکا تھا کہ کھانے کی ضرورت نہیں۔

اور پھر رخصت کے وقت حضرت نے راقم الحروف کو ہدیہ بھی عطا فرمایا۔

یہ ہدیہ محض ایک چیز نہ تھی؛ میرے لیے یہ حضرت کی محبت، شفقت اور حسنِ سلوک کی ایک خوبصورت یاد بن کر دل میں محفوظ ہو گیا۔

یہ ایک مختصر سا مکالمہ تھا، مگر اس میں محبت کی ایک پوری دنیا آباد تھی۔ حضرت کی توجہ، شفقت اور مہمان نوازی نے دل کو چھو لیا۔

بعض اوقات کسی بڑے آدمی کی عظمت اس کے بڑے خطابات میں نہیں، بلکہ اس کے چھوٹے چھوٹے سوالات میں ظاہر ہوتی ہے۔

حضرت مولانا امجد خان صاحب دامت برکاتہم العالیہ کو جمعیت علماء اسلام صوبہ پنجاب کی امارت ملنے پر دلی مبارک باد پیش کی؛ مگر حضرت کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد یہ احساس اور بھی پختہ ہوا کہ قائدانہ صلاحیت محض کسی منصب کا نام نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری، ایک مزاج اور ایک کردار کا نام ہے۔

یہی وہ اوصاف ہیں جو کسی شخصیت کو محض عہدے دار نہیں رہنے دیتے، بلکہ اسے لوگوں کے دلوں میں جگہ عطا کرتے ہیں۔

قائد وہ نہیں جو صرف اپنے لیے راستہ بنائے؛ قائد وہ ہے جو دوسروں کے لیے راستے آسان کرے۔

قائد وہ نہیں جو صرف اپنی بات سنائے؛ قائد وہ ہے جو دوسروں کو بھی وقت دے۔

قائد وہ نہیں جو صرف منصب کی بلندی پر بیٹھے؛ قائد وہ ہے جو اپنے لوگوں کے درمیان محبت کے ساتھ کھڑا ہو۔

اور شاید یہی وجہ ہے کہ حضرت مولانا امجد خان صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے بارے میں جو کچھ پہلے سنا تھا، وہ سب حضرت کے قریب جا کر مزید خوبصورت محسوس ہوا۔

سفر کی ان محفلوں میں حضرت حافظ فیصل بلال حسان صاحب دامت برکاتہم العالیہ سے جو تذکرے سنے تھے، وہ ایک تصور تھا؛ مگر حضرت کے پاس حاضری، ان کے ساتھ نشست، جمعہ کی مجلس، خطاب، مہمانوں کے ساتھ برتاؤ، کارکنان سے محبت، اپنی موجودگی میں کلام پڑھوانا، کھانے کا اہتمام کرنا اور رخصت کے وقت شفقت کا اظہار—یہ سب اس تصور کی عملی تصویر بن کر سامنے آیا۔

حضرت سے پہلے بھی ملاقات تھی، مگر اس بار قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔

اور قریب سے دیکھنے کا حاصل یہی نکلا کہ شخصیت صرف سنی نہیں، محسوس بھی کی جا سکتی ہے۔

تب دل نے بے اختیار کہا:

جیسا دیکھا تھا، اس سے بہتر پایا!
یہی اس ملاقات کا حاصل ہے۔
یہی اس سفر کی یاد ہے۔

یہی حضرت کی شخصیت کا وہ پہلو ہے جو کاغذ پر مکمل طور پر منتقل نہیں ہو سکتا، کیونکہ بعض محبتیں لکھی نہیں جاتیں، صرف محسوس کی جاتی ہیں۔

اور یہی اوصاف کسی ذمہ داری کو بوجھ نہیں رہنے دیتے، بلکہ اسے خدمت بنا دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ حضرت قائدِ پنجاب، مولانا امجد خان صاحب دامت برکاتہم العالیہ کو صحت و عافیت عطا فرمائے، ان کا سایۂ شفقت دیر تک قائم رکھے، ان کی علمی، دینی، جماعتی اور ملی خدمات کو قبول فرمائے، انہیں اخلاص، استقامت اور مزید توفیقات سے نوازے۔

اللہ تعالیٰ جمعیت علماء اسلام صوبہ پنجاب کو حضرت کی قیادت میں خیر، اتحاد، اخلاص اور خدمتِ دین کی مزید توفیقات عطا فرمائے۔

یا اللہ! حضرت کو سلامت رکھ، ان کی عزت و وقار میں اضافہ فرما، ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرما، ان کی زبان کو حق کی ترجمان بنا، ان کے قدموں کو دین کی خدمت میں ثابت رکھ، اور انہیں اپنے اکابر کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے امت کے لیے نفع بخش بنا۔
آمین یا رب العالمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں