WhatsApp Image 2026-09-24 at 7.01.56 AM 0

مذھبی طبقہ کا گالیوں کی طرف بڑھتا رجحان/تحریر/بن داؤد

آج ہمارے ہاں یہ رویہ بھی بڑھتا جا رہا ہے کہ ’’اینٹ کا جواب پتھر سے دینا چاہیے۔‘‘ بعض اوقات ہم یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اگر کوئی ہمیں برا بھلا کہے تو ہمیں بھی اسی انداز میں جواب دینا چاہیے۔

حالانکہ ایک وقت تھا جب ہم اس بات پر فخر کرتے تھے کہ اختلاف کے باوجود ہم دلیل، شائستگی، تحمل اور بردباری کے ساتھ اپنی بات پیش کرتے ہیں۔ اگر کوئی ہمارے بارے میں سخت الفاظ استعمال کرتا تو ہم کوشش کرتے تھے کہ اس کا جواب بہتر اخلاق اور مضبوط دلیل سے دیں۔ لیکن افسوس کہ بعض مواقع پر اب ہمارے اپنے حلقوں میں بھی سخت زبان اور تند و تیز رویے کو بہادری سمجھا جانے لگا ہے۔

اگر کوئی ایک شخص ہمیں گالی دیتا ہے تو کیا ضروری ہے کہ ہم جواب میں تین گالیاں دیں؟ اگر کوئی ہمارے خلاف نامناسب زبان استعمال کرتا ہے تو کیا ہمارے لیے بھی وہی زبان اختیار کرنا درست ہو جاتا ہے؟

ہمیں یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ ہم اپنی گفتگو اور اپنے رویے سے آنے والی نسل کو کیا سکھا رہے ہیں۔

اگر ہم نوجوانوں سے شائستگی، تحمل، بردباری اور حسنِ اخلاق کی توقع رکھتے ہیں تو یہ صفات ہمارے اپنے کردار میں بھی نظر آنی چاہئیں۔ اختلاف ہونا فطری بات ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنا اور ہر مخالف کو برا القاب دینا کسی بھی صحت مند معاشرے کے لیے مناسب نہیں۔

ہمارے اکابر کی زندگیوں میں ہمیں اختلاف کے مواقع پر حکمت، صبر، دلیل اور حسنِ اخلاق کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ ہمیں اسی روایت کو سامنے رکھنا چاہیے۔

یہ بات بھی درست ہے کہ مذہبی طبقہ ایک یکساں گروہ نہیں ہے۔ بہت سے علماء، طلبہ اور دینی وابستگان آج بھی انتہائی شائستگی، حکمت اور اخلاق کے ساتھ دین کی خدمت کر رہے ہیں۔ اسی طرح معاشرے کے دوسرے طبقات میں بھی اچھے اور برے دونوں طرح کے رویے پائے جاتے ہیں۔ اس لیے کسی ایک طبقے کے چند افراد کے رویے کی بنیاد پر پورے طبقے کے بارے میں فیصلہ کرنا انصاف نہیں ہوگا۔

اصل سوال یہ ہے کہ ہم اختلاف کے آداب کو کتنا زندہ رکھ رہے ہیں؟

ہمیں اپنے رویوں کا جائزہ لینا چاہیے، کیونکہ ہمارے نوجوان صرف ہماری باتیں نہیں سنتے، وہ ہمارے کردار کو بھی دیکھتے ہیں۔ اگر وہ ہمارے درمیان مسلسل گالم گلوچ، تحقیر، الزام تراشی اور نفرت دیکھیں گے تو ممکن ہے کہ وہ دین اور مذہبی طبقے سے بھی بدظن ہوں۔

اس لیے اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نئی نسل دین سے جڑی رہے تو ہمیں صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ نوجوان ہم سے دور کیوں ہو رہے ہیں؛ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کہیں ہمارے اپنے رویے انہیں ہم سے دور تو نہیں کر رہے؟

دین کی دعوت صرف الفاظ سے نہیں، کردار سے بھی دی جاتی ہے۔ اختلاف میں بھی اخلاق قائم رکھنا، مخالف کی بات سننا، دلیل سے جواب دینا اور جہاں غلطی ہو وہاں اپنی اصلاح قبول کرنا ہی وہ رویہ ہے جو ہمارے معاشرے کو زیادہ صحت مند بنا سکتا ہے۔

ہمیں ’’اینٹ کا جواب پتھر سے‘‘ دینے کے بجائے یہ سوچنا چاہیے کہ اگر ہم واقعی اپنے اخلاق اور اپنے دین پر فخر کرتے ہیں تو ہمارے جواب میں بھی اس کا عکس نظر آنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں