مصنف : دانیال حسن چغتائی
دانیال حسن چغتائی کو اردو ادب کے فروغ کے لیے کام کرتے کئی برس گزر گئے ہیں۔ میری ان سے واقفیت آج سے چار سال قبل ہوئی جب انہوں نے میری پہلی کتاب پر بھرپور تبصرہ لکھا اور نہ صرف اسے لکھا بلکہ ناول کے ہر پہلو پر تفصیلی انداز سے اپنی رائے کا اظہار کیا یہ یقیناً میری کتاب پر باقاعدہ طور پر پہلا تبصرہ تھا بعد ازاں بھی یہ میری دیگر تحاریر کو پڑھتے رہے سراہتے رہے۔
دانیال صاحب کا یہ وصف ہے کہ وہ دوسروں کی حوصلہ افزائی کرنے میں کجی کرتے نہ تنقیدی انداز میں کوئی پہلو بیان کرتے گو کہ تنقید بھی اس ادب کا حصہ ہے مگر تنقید کے نام پر اپنی کینہ پروری دکھانا آج کل لوگوں کے لیے عام سی بات ہے ایسے میں اگر کوئی مصنف جو اپنے کام میں مہارت رکھتا ہو وہ اصلاحی انداز سے آپکی غلطیوں کی نشاندھی کریں تو لکھنے والے کا حوصلہ بلند ہوتا ہے۔
دانیال بھائی نے اپنی چند کتابیں مجھے چند ماہ قبل بھیجیں تو میں نے ارادہ کیا کہ انہیں جلد از جلد مکمل کرلوں گی اور اپنا اظہار خیال پیش کروں گی لیکن مصروفیات کے باعث بہت سا وقت یو ہی گزر گیا۔ ان کی تین کتب مجھے موصول ہوئیں جن میں ” انمول ہیرے، رب کا مہمان اور عہدِ وفا شامل ہیں اس کے ساتھ ہی ایک ناول ” قفسِ دل ” مجھے تحفتاً بھیجا جس کے مصنف ” عامر جٹ ” صاحب ہیں۔ مجھے سب سے خوبصورت بات جو لگی وہ یہ تھی کہ دانیال بھائی نے ہر کتاب پر اپنا آٹو گراف لکھ کر بھیجا اور ہر آٹو گراف میں ایک سے بڑھ کر ایک سطر لکھی اس کے لیے دل سے شکر گزار ہوں۔ انمول ہیرے وہ کتاب ہے جو بچے بچیوں میں دین کا شعور بیدار کرنے اور خاص طور سے امہات المومنین کی زندگی اور ان کے اوصاف بیان کرتی نظر آتی ہے۔ میں سچ کہوں گی کہ اس کتاب کو ابھی مکمل نہیں پڑھا لیکن شروع کا کچھ حصہ پڑھنے ہی سے اندازہ ہوا کہ اس کتاب کو کہانیوں کی شکل میں پیش کیا گیا ہے اور بچوں کو سکھانے کے لیے یہی طرز سب سے بہترین ہے کہ وہ نانی اماں کی سنائی کہانیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں تو کیوں نہ انہیں اس انداز سے دین کی تعلیم دی جائے کہ وہ دلچسپی بھی رکھیں اور سیکھنے کا عمل بھی جاری و ساری رہے۔
اس کے بعد بات کروں گی “رب کا مہمان ” کی جہاں بہت خوبصورت انداز سے رمضان المبارک کی فضیلت اور اس کی برکتوں کا ذکر کیا گیا ہے یہاں بھی یہی دیکھتی ہوں کہ چھوٹی چھوٹی کہانیوں کی شکل میں تحریر لکھی گئی ہیں اور ایک بہت مثبت چیز جو کسی بھی پڑھنے والے اور خاص طور سے ان بچوں کے لیے جو اپنے نصاب کے ساتھ ساتھ دوسری کتب کا بھی مطالعہ کرتے ہیں وہ یہ کہ انہوں نے ایک یا ڈیڑھ صفحے سے زائد کوئی کہانی نہیں لکھی، اسے قسط وار لکھا ہے اور ہر کہانی دوسری کہانی سے جڑی ہوئی نظر آتی ہے اس امر سے یہ فائدہ رہتا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر کتاب کا تھوڑا تھوڑا حصہ پڑھ لیا جاتا ہے اور بچوں میں اگلی کہانی کے لیے تجسس برقرار رہتا ہے۔ تیسری کتاب ” عہدِ وفا ” اس کتاب کی اگر بات کروں تو یہ ایک مکمل پیکج ہے ان تمام موضوعات کا ان تمام عنوانات کا جو ہم کسی طور چاہتے ہیں کہ باآسانی اپنے بچوں کی روزمرہ زندگی میں شامل کیے جا سکیں یا ان پر بات کی جا سکے، یہ وہ عنوانات ہیں جن میں زندگی گزارنے کے بہترین اصول ایک ایک کرکے بیان کیے گئے ہیں جو بچوں کی تربیت کرنے میں بہت معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ ہر کہانی اپنے آپ میں ایک سبق ہے نصیحت ہے۔
اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ بچوں کو نصیحت آموز کہانیاں نہیں پڑھوانی چاہیے یا پھر یہ کہ زیادہ نصیحت کسی بھی تحریر میں بوجھل پن پیدا کرتی ہے سو اس سے اجتناب کیا جائے میں بھی اس بات سے اتفاق کرتی ہوں مگر جہاں تحریر اس انداز سے ہو کہ کسی بھی اچھے یا برے عمل کا نتیجہ پیش کیا جائے اور اس انداز سے کہ بچے کے دل میں اچھے کام کرنے کی چاہ اور اس برے نتیجے کے باعث ایک سوال جنم لے تو یہ طریقہ کار بہت بہتر ہے جہاں صرف ڈرایا نہیں جا رہا یا پابندیاں عائد نہیں کی جا رہی ہیں بلکہ بچے کے سامنے دونوں پہلو کھول کر رکھ دیے گئے کہ اب تم پر منحصر ہے جو چاہے راستہ چن لو۔
یہ تمام کتب دانیال بھائی کی بہترین تصانیف کا حصہ ہیں اور مجھے بہت خوشی ہے کہ اس ڈیجیٹل طور میں جب بچوں میں کتب بینی کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے تب دانیال بھائی اور ان جیسے بہت سے ادیب جو خاص طور سے بچوں کے لیے لکھنے کا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں ان کو سلام پیش کرتی ہوں کہ یہ لوگ اس دور کی ترجیحات کو ایک طرف رکھتے ہوئے پوری ایمانداری سے اپنا کام کر رہے ہیں میری دل سے دعا ہے کہ بچوں کے ادب کے فروغ کے لیے یونہی اپنی خدمات پیش کرتے رہیں اور اس کے نتیجے میں ایک بہترین معاشرہ تشکیل پائے آمین ثم آمین۔