واقعی اگر ہم اس بات کو قبول کر لیں کہ پاکستان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمارا مذہبی طبقہ ہے، تو پھر ہمیں یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ آخر یہ مذہبی طبقہ پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ کیسے بن رہا ہے؟
کیا مدارس کے علما پاکستان کو ترقی کرنے سے روک رہے ہیں؟ کیا طلبۂ مدارس ترقی کے مخالف ہیں؟ کیا دینی جماعتوں سے وابستہ لوگ پاکستان کی خوشحالی نہیں چاہتے؟ یا اصل مسئلہ کچھ اور ہے؟
ذرا غور کیجیے!
آج ہمارے معاشرے کے ایک مخصوص طبقے کے نزدیک پاکستان کی ترقی اور جدت کا مطلب یہ بنتا جا رہا ہے کہ معاشرے میں فحاشی عام ہو، عریانی کو آزادی کا نام دیا جائے، بے حیائی کو تفریح سمجھا جائے، ناچ گانے کو ثقافت قرار دیا جائے اور ہر قسم کی اخلاقی پابندی کو دقیانوسی سوچ کہہ کر مسترد کر دیا جائے۔
لیکن یہاں ایک طبقہ ایسا ہے جو اس سوچ کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔
وہ مدارس ہیں، وہ علما ہیں، وہ طلبہ ہیں، وہ مذہبی طبقہ ہے جو کہتا ہے کہ ترقی ضرور کرو، لیکن اخلاقیات کی قیمت پر نہیں؛ خوشحالی ضرور حاصل کرو، لیکن اپنی تہذیب اور اقدار کو قربان کرکے نہیں؛ آزادی ضرور ہو، لیکن ایسی آزادی نہیں جو معاشرے کے اخلاقی نظام کو تباہ کر دے۔
آج ہر طرف دیکھ لیجیے۔ سڑکوں پر مختلف قسم کی تفریحات اور ناچ گانے، فلموں میں، ڈراموں میں، سوشل میڈیا پر، شادی بیاہ کی تقریبات میں—بے شمار چیزیں ہمارے معاشرے کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ لیکن جب کوئی مدرسے کا طالب علم یا کوئی عالم دین یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا یہی ہماری ترقی ہے؟ کیا یہی ہماری تہذیب ہے؟ کیا ہر وہ چیز جو دنیا میں مقبول ہو جائے، ہمارے لیے بھی قابلِ قبول ہو جانی چاہیے؟
تو یہی مذہبی طبقہ بعض لوگوں کو چبھنے لگتا ہے۔
آخر مدارس والے چبھتے کیوں ہیں؟
اس لیے کہ وہ سوال کرتے ہیں۔
اس لیے کہ وہ روک ٹوک کرتے ہیں۔
اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہر چیز جو معاشرے میں عام ہو جائے، ضروری نہیں کہ وہ درست بھی ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ معاشی ترقی اپنی جگہ، لیکن اخلاقی تباہی کو ترقی کا نام نہیں دیا جا سکتا۔
اور بات صرف فحاشی اور بے حیائی تک محدود نہیں۔
یہی مذہبی طبقہ سود کے خلاف آواز اٹھاتا ہے۔ یہی علما کہتے ہیں کہ کاروبار کرو، تجارت کرو، معیشت مضبوط کرو، لیکن سودی نظام کو ترقی کا واحد راستہ نہ سمجھو۔
یہی لوگ فراڈ کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں۔ دھوکہ دہی سے روکتے ہیں۔ جھوٹ، خیانت، ملاوٹ، حرام کمائی اور ناجائز طریقوں سے دولت حاصل کرنے سے منع کرتے ہیں۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ اگر کوئی طبقہ ہمیں بے حیائی سے روکے، سود سے روکے، دھوکے سے روکے، حرام کمائی سے روکے، اخلاقی تباہی سے روکے—تو کیا وہ پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ ہے؟
یا پھر ہمیں ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے؟
پاکستان کو ترقی ضرور کرنی چاہیے۔ ہماری معیشت مضبوط ہونی چاہیے، تعلیم عام ہونی چاہیے، جدید ٹیکنالوجی میں ہم آگے بڑھیں، روزگار کے مواقع پیدا ہوں، صنعت و تجارت ترقی کرے، دنیا میں پاکستان کا مقام بلند ہو۔
لیکن ترقی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی اخلاقی بنیادیں کھو دیں۔
اگر کسی ملک کی سڑکیں خوبصورت ہوں، عمارتیں بلند ہوں، معیشت مضبوط ہو، لیکن وہاں اخلاقیات دم توڑ چکی ہوں، خاندان کا نظام کمزور ہو چکا ہو اور حیا و پاکیزگی کو دقیانوسی تصور کیا جانے لگے، تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ یہ ترقی آخر کس قیمت پر حاصل ہوئی؟
لہٰذا مدارس اور مذہبی طبقے کو پاکستان کی ترقی کا دشمن قرار دینے سے پہلے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ وہ کس چیز کی مخالفت کر رہے ہیں؟
کیا وہ تعلیم کے مخالف ہیں؟
کیا وہ سائنس کے مخالف ہیں؟
کیا وہ ٹیکنالوجی کے مخالف ہیں؟
کیا وہ صنعت و تجارت کے مخالف ہیں؟
یا وہ صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ ترقی کے ساتھ اخلاق بھی چاہیے، دولت کے ساتھ دیانت بھی چاہیے، آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی چاہیے، اور جدیدیت کے ساتھ اپنی تہذیبی و دینی شناخت بھی محفوظ رہنی چاہیے؟
اگر یہی بات ہے تو پھر شاید مسئلہ مدارس کا نہیں، بلکہ ہمارے نزدیک “ترقی” کی تعریف کا ہے۔
پاکستان کو ترقی چاہیے، لیکن ایسی ترقی جو ہمیں دنیا میں آگے لے جائے اور انسانیت، اخلاق، حیا اور ہماری دینی و تہذیبی اقدار کو پیچھے نہ چھوڑ دے۔