شہر کی ایک نئی مگر جلد ویرانے میں بدلنے والی اس آبادی کاتذکرہ یاد آیا جہاں وزرائے امور نے اپنی کرم نوازیوں کی داستانیں چھوڑ دیں تھیں۔ سیٹھ صاحب کے قدم اپنی حویلی کے قیمتی اور ہیرا نما اینٹوں سے مزین زمین پر پڑنے والے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہر کے ٹھیکیداروں کے وزیراعظم چٹھہ صاحب مزدوروں کو تعمیری نقشے کی سائنس پڑھانے کے بعد بےغم ہو کر اپنے دولت خانے تشریف لے گئے۔ وہ مزدور میاں جن کو چٹھہ صاحب نے مزدوروں کا چیف آف آرمی سٹاف مقرر فرمایا تھا، وہ جناب حویلی کے حوالے سے فکر و غم سے آزاد ہو کر بستر پر محو استراحت ہو گئے۔
ایک بھائی مزدور جن کو حویلی کے خارجہ امور صحن، باغیچے وغیرہ کی وزارت سونپ کر چٹھہ صاحب گئے تھے، ان جناب نے صحن اور باغیچے کی جگہ ایک جھاڑی نما جنگل بنا ڈالا۔
شاید انہوں نے یہ اس لیے کیا تاکہ جب جانور تشریف لائیں تو فارن افیئرز پر معاہدے کیے جائیں کہ کتنا وہ ہماری زمین سے لیں گے اور کتنا ہمیں باہر سے لا کر دیں گے۔
وہ چچا مزدور جو حویلی کے وزیر طہارت مقرر ہوئے، موصوف نے اپنی وزارت کے دفاتر آگے پیچھے کر ڈالے، جہاں بیت الخلاء کا دفتر ہونا تھا اس کو دفتر غسل مقرر کر دیا، جہاں غسل کا دفتر ہونا تھا وہاں پر بیسن کے دفتر کا قیام عمل میں لے آئے۔ وہ مزدور صاحب جو وزیر پیٹ پوجا خانے بنائے گئے، انہوں نے ماشاءاللہ سے ٹائلوں کی جگہ ان کے بزرگ ماربل کو بٹھا دیا۔
سیٹھ صاحب کی حویلی کے نقشے کا ستیاناس ہونے کے بعد جب چٹھہ صاحب تشریف لائے تو سب سے پہلے پیٹ پوجا خانوں کا دورہ فرمایا اور چہرے کی گھڑی پر بارہ بج گئے۔ پھر طہارت خانوں کا سفر کیا اور چہرہ مرچ کی طرح سرخ ہو گیا۔
اس کے بعد خارجہ امور کے لیے روانہ ہوئے وہاں کی حالت دیکھ کر دماغ ایسے گھوما جیسے گول جھولے پر بیٹھ کر بچے گھومتے ہیں۔
جب چیف آف آرمی سٹاف کے پاس تشریف لے گئے، ان کو گھوڑے بیچ کر سوتے دیکھ دیکھا تو چاروں حضرات کو عزت افزائی کی میٹنگ میں شرکت کے لیے بلاکر چاروں کی ڈانٹ کے سمندر سے خوب دھلائی فرمائی۔ اتنے میں سیٹھ جی کی گاڑی کی آواز میں سب کو “شیر آیا شیر آیا” کی آواز سنائی دینے لگی اور ہاتھ پاؤں ایسے کانپنے لگے جیسے زلزلے کے دوران زمین کانپتی ہے۔ پھر سیٹھ جی نے اپنی حویلی کی بربادی کا منظر دیکھ کر سب کو دنیا میں ہی قیامت نما عذاب میں گرفتار کر لیا۔
0