اسلام آباد ہاکی گراؤنڈ آبپارہ میں منعقد ہونے والی سالانہ شہداء اسلام و دفاع حرمین شریفین کانفرنس صرف ایک اجتماع نہیں بلکہ فکری تسلسل، جبلِ استقامت کی روح سے تجدیدِ عہد اور عشقِ صحابہؓ کا ایک روح پرور اجتماع ہوتا ہے، جس کی گونج دور دور تک محسوس کی جاتی ہے۔ اس تاریخی کانفرنس میں شرکت کے لیے ملک سہیل ملتانی صاحب ، سہیل معاویہ صاحب و دیگر احباب کی کثیر تعداد کے ساتھ سلانوالی سے روانہ ہوئے۔ یاد رہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ مقدس ہستیاں ہیں جنہیں اللہ رب العزت نے اپنے پیارے نبی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی صحبت، نصرت اور دین کی ترویج کے لیے چنا تھا۔ ان کی زندگیوں کا تحفظ اور ان کا دفاع دراصل دینِ اسلام کا دفاع ہے۔اسی مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے بھیرہ انٹرچینج پر فاروقہ تحصیل سرگودھا کے جماعتی ساتھی بھائی زاہد فاروقی صاحب اور ان کے رفقاء نے پُرتپاک استقبال کیا۔ اس کے بعد یہ قافلہ منزل کی جانب روانہ ہوا۔ ہم چکری ریسٹ ایریا پہنچے جہاں دلوں کی دھڑکن قائدِ محترم و امیرِ محترم رانا ثناء اللہ صاحب اور ضلع بھر کے غیور کارکنان و ذمہ داران پہلے سے موجود تھے۔ یہاں تمام ساتھیوں نے باجماعت نمازِ ظہر ادا کی اور رفقاء کی خدمت کی سعادت حاصل کی۔ اس دوران شاہ پور سے تشریف لائے ہوئے سنی علماء کونسل کے صدر مفتی عدیل لک صاحب اور ان کے رفقاء سے بھی محبت بھری ملاقات ہوئی۔ یوں ضلع بھر کا یہ قافلہ “جھنگوی تیرا قافلہ رواں دواں” کے فلک شگاف نعروں کے ساتھ آبپارہ ہاکی گراؤنڈ اسلام آباد کی جانب بڑھتا چلا گیا۔ پنڈال سے قبل ہی چاروں جانب اصحابِ محمد کے پرچم لہراتے ہوئے نظر آئے، کارکنان کی بڑی تعداد جوق در جوق پنڈال میں داخل ہو رہی تھی۔ ہم جلسہ گاہ پہنچے تو مرکزی استقبالیہ پر حق نواز، عبداللہ بھائی اور جنید بھائی نے ساتھیوں سمیت پُرتپاک استقبال کیا۔ اس کے بعد جب ہم مہمان گیلری کے قریب پہنچے تو جانشینِ جبل استقامت مولانا معاویہ اعظم صاحب نے حسب روایت مسکراتے ہوئے گلے لگایا، جس نے فوری طور پر جبلِ استقامت کی یاد تازہ کر دی۔ کارکنان کے ساتھ آپ کا یہ والہانہ استقبال ہمیشہ سے آپ کا خاصہ رہا ہے، اور یہی ایک وجہ ہے کہ آپ نوجوانوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔ نمازِ عصر کے وقت مہمان گیلری میں مرکزی قیادت سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ اس دوران مرکزی ترجمان مفتی عبدالوحید جلالی صاحب، جانشینِ حضرت عثمانی مولانا عبد الرحمان معاویہ صاحب، تصویر عثمانی مولانا عثمان عثمانی صاحب، مولانا عبد الرحمان مدنی، مفتی تنویر عالم فاروقی صاحب، مولانا نعمان ضیاء فاروقی صاحب، مولانا طیب حیدری صاحب اور دیگر احباب سے ملاقاتیں ہوئیں۔
پنڈال کا منظر قابلِ دید تھا پروگرام کے آغاز ہی سے عوام کے جوش و خروش سے پنڈال کا بھر جانا اس بات کا غماز تھا کہ عشقِ صحابہؓ کے پروانوں کا جوش ٹھنڈا نہیں پڑا چاہے گرم شعلے اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑی ہم آج بھی سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہے فضا میں گونجتا یہ شعر ہر دل کی آواز بن رہا تھا
اسلام تیری نبض نہ ڈوبے گی حشر تک
کیونکہ تیری رگوں میں رواں ہے خونِ صحابہؓ کا
اگرچہ گاڑیوں کی پارکنگ شہداء مسجد کے قریب کی گئی تھی اور شدید رش کے باعث ٹریفک بھی جام تھی، آبپارہ مارکیٹ مکمل طور پر پیک ہو چکی تھی، لیکن عاشقانِ صحابہؓ کے جوش میں کوئی کمی نہیں آئی۔ گاڑیوں کے سائرن نے جب مردِ قلندر کی آمد کا پیغام دیا تو فضا نعروں سے گونج اٹھی۔ پنڈال کے اندر فکری اور علمی محاذ پر قائدِ پنجاب مولانا اشرف طاہر صاحب نے اپنے مخصوص اور جاندار انداز میں فتنہ پرور کتاب کا ایسا بہترین اور جامع تجزیہ کیا کہ وہ مجمع کی سوچ اور امنگوں کے عین مطابق تھا، جس پر شرکاء نے زبردست داد دی۔ دورانِ پروگرام پنڈال کی جانب جانے کا اتفاق ہوا تو مولانا اعجاز جھنگوی صاحب اور پورے پاکستان سے آئے ہوئے غیور کارکنان و جملہ احباب سے ملنے اور ان کے جذبے کو سلام کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ کانفرنس کا یہ علمی و فکری مرحلہ انتہائی پُرجوش تھا جہاں حق و صداقت کی صدائیں گونجتی رہیں۔ مولانا مسرور نواز جھنگوی نے سیرتِ طیبہ پر نہایت پرمغز اور دلنشین گفتگو فرمائی، جس نے مجمعے کے قلوب کو منور کر دیا۔ اس کے بعد شہزادۂ اہلسنت مولانا معاویہ اعظم صاحب کا جاندار بیان ہوا جنہوں نے تاریخ کے جھوٹے اور مسخ شدہ اوراق کو یکسر رد کرتے ہوئے حقائق کو بے نقاب کیا۔ بعد ازاں مرکزی صدر فاروقی صاحب نے پرجوش خطاب کرتے ہوئے ایمان افروز کلمات کہے “ہم صحابہ کے نغمے سنانے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، میرے وجود کے ٹکڑے ٹکڑے بھی ہو جائیں تو مجھے امید ہے کہ ان سے بھی صحابہ صحابہ کی آواز آئے گی، ان شاء اللہ
مولانا فضل الرحمان خلیل صاحب، مولانا نعمان ضیاء فاروقی، مولانا رب نواز طاہر، مولانا عطاء محمد دیشانی صاحب و دیگر مرکزی قیادت کے بیانات کے بعد کانفرنس کا اختتامی خطاب نوابِ زمانہ، قائدِ ملت اسلامیہ علامہ مولانا احمد لدھیانوی صاحب نے فرمایا۔ آپ نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ مکہ و مدینہ جیسے مقدس مقامات پر حملہ کرنے والا طبقہ ہرگز مسلمان نہیں ہو سکتا۔ اس کے ساتھ ہی آپ نے حکومت اور ذمہ داران کو متنبہ کرتے ہوئے ایک اہم اور دوٹوک مطالبہ کیا “قومی اسمبلی و سینیٹ سے منظور شدہ تحفظ ناموسِ صحابہ و اہل بیت بل کا نوٹیفیکیشن جاری نہ ہونا پارلیمنٹ اور اراکین کی بھی توہین ہے، اس بل کا جلد از جلد نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔”
آپ کے اس اعلان اور مطالبے پر پورا پنڈال نعرۂ تکبیر کی گونج سے گونج اٹھا۔ رات گئے دعا کے ساتھ اس تاریخی کانفرنس کا اختتام ہوا۔
کانفرنس کے بعد امیرِ محترم اور دیگر رفقاء کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ اسلام آباد میں برادرِ کبیر چوہدری محمد سعد صاحب کی رہائش گاہ پر حاضری ہوئی، جہاں میزبانوں کی طرف سے ایک انتہائی پُرتکلف ضیافت کا شاندار اہتمام کیا گیا تھا۔ یہاں امیرِ محترم کی خیر و برکت کی دعا کے بعد رات گئے واپسی کا سفر شروع ہوا، اور قافلہ صبح کے قریب بخیر و عافیت سلانوالی پہنچ گیا۔ دعا ہے رب تعالیٰ ہمیں بھی صحابہ کرامؓ کا دفاع کرنے کی سعادت نصیب فرمائے کیونکہ صحابہ کا دفاع دین کا دفاع ہے جو ان کے واسطے سے ہم تک پہنچا۔ اگر ان مقدس ہستیوں کو مجروح کیا جائے، تو دراصل اس واسطے کو کمزور کرنے کی سازش کی جاتی ہے جس پر دین کی عمارت کھڑی ہے۔
0