Namra Ahmed Naml 0

ذرا ٹھہر جا، ابھی زندگی باقی ہے/تحریر/نمرہ احمد نمل

کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ انسان آخر کن حالات سے گزرتا ہے کہ اسے اپنی ہی زندگی بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے؟ وہ کون سا لمحہ ہوتا ہے جب مستقبل کی تمام امیدیں دھندلا جاتی ہیں، اپنے اجنبی محسوس ہونے لگتے ہیں اور زندگی، جسے بچانے کے لیے انسان ہر ممکن کوشش کرتا ہے، اسی زندگی سے نجات کی خواہش پیدا ہونے لگتی ہے؟
کیا انسان واقعی زندگی سے محبت کرنا چھوڑ دیتا ہے، یا وہ ان حالات سے تھک جاتا ہے جن میں اسے مسلسل جینا پڑ رہا ہوتا ہے؟
میں انسان سے بہت محبت کرتی ہوں، اس لیے نہیں کہ ہر انسان اچھا ہے، بلکہ اس لیے کہ ہر انسان اپنے اندر ایک پوری کائنات لیے پھرتا ہے۔ ایک ایسی کائنات جس میں خواب بھی ہیں، درد بھی، مجبوریاں بھی اور ان کہی کہانیاں بھی۔ کبھی سوچتی ہوں کہ انسان آخر ہے کیا؟ ایک ایسی مخلوق جسے اللہ تعالیٰ نے عقل، شعور، احساس اور محبت جیسی نعمتوں سے نوازا۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو فرشتوں نے سجدہ کیا، یوں انسان کی تخلیق کو ایک غیر معمولی مقام عطا ہوا۔ یہ انسان ہی تو ہے جو زندگی میں نہ جانے کتنی آزمائشوں سے گزرتا ہے، اپنوں کی جدائی سہتا ہے، بےوفائی کے زخم کھاتا ہے، غربت سے لڑتا ہے، تنہائی میں روتا ہے، کبھی اپنی خواہشات قربان کرتا ہے اور کبھی اپنے خوابوں کو اپنی ہی آنکھوں کے سامنے ٹوٹتے دیکھتا ہے، مگر پھر بھی جینے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنے دل میں کتنے طوفان چھپائے دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتا ہے۔ ایسے میں میرا دل پوچھتا ہے کہ جو انسان پہلے ہی زندگی کی اتنی آزمائشیں برداشت کر رہا ہے، وہ اپنے ہی وجود کو تکلیف کیسے دے سکتا ہے؟ وہ خود سے نفرت کیسے کر سکتا ہے؟ وہ اپنے آپ کو حقیر کیسے سمجھ سکتا ہے؟ کیا وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کا وجود بھی اللہ کی عطا کردہ ایک امانت ہے؟ اللہ تعالیٰ کی رحمت تو اس کے غضب پر غالب ہے، اور احادیث میں اللہ کی رحمت کو ماں کی محبت سے بھی بڑھ کر بیان کیا گیا ہے۔ جب ایک ماں اپنے بچے کے درد پر تڑپ اٹھتی ہے تو ذرا سوچیے، اس رب کی رحمت کتنی وسیع ہوگی جس نے ماں کے دل میں محبت رکھی! پھر ہم کیوں ایک دوسرے کے لیے درد کا سبب بنتے ہیں؟ کیوں کسی کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان پر نمک چھڑکتے ہیں؟ کیوں کسی کی خاموشی کے پیچھے چھپی چیخ نہیں سنتے؟ کیوں کسی انسان کی قدر اس وقت کرتے ہیں جب وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکا ہوتا ہے؟
خودکشی کا ذکر آتے ہی ہمارے معاشرے میں سوالات کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ لوگ وجوہات تلاش کرنے لگتے ہیں، کردار پر تبصرے ہوتے ہیں، خاندانوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے اور کبھی اسے بزدلی، کبھی کمزوری اور کبھی ایمان کی کمی قرار دے دیا جاتا ہے۔
مگر شاید ہم ایک بنیادی سوال پوچھنا بھول جاتے ہیں: وہ انسان کس ذہنی کیفیت سے گزر رہا تھا جسے ہم سمجھنے میں ناکام رہے؟
خودکشی کسی ایک وجہ کا سادہ نتیجہ نہیں ہوتی۔ شدید ذہنی دباؤ، ڈپریشن، تنہائی، صدمے، معاشی پریشانیاں، گھریلو مسائل، تعلقات میں تلخی، تشدد اور ناامیدی سمیت کئی عوامل کسی انسان کو شدید ذہنی بحران میں مبتلا کر سکتے ہیں۔ ہر انسان کی کہانی مختلف ہوتی ہے اور کسی کی اندرونی کیفیت کو صرف اس کے ظاہری رویے سے نہیں سمجھا جا سکتا۔
ہم اکثر لوگوں کو ان کی مسکراہٹ سے پہچانتے ہیں، ان کی کامیابیوں سے ان کی زندگی کا اندازہ لگاتے ہیں اور ان کے خاموش رہنے کو سکون سمجھ لیتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان کے اندر چلنے والی جنگ ہمیشہ اس کے چہرے پر دکھائی نہیں دیتی۔
کچھ لوگ اپنے دکھ بیان کر دیتے ہیں، کچھ اپنے آنسوؤں میں چھپا لیتے ہیں اور کچھ اس خوف سے خاموش رہتے ہیں کہ کہیں ان کی تکلیف کو مذاق نہ بنا دیا جائے۔
ہر خاموش انسان مطمئن نہیں ہوتا، ہر مضبوط دکھائی دینے والا شخص بے خوف نہیں ہوتا اور ہر کامیاب انسان ضروری نہیں کہ اندر سے بھی خوش ہو۔
ہمارے معاشرے میں ہر شخص کے پاس دوسروں کو سمجھانے کے لیے الفاظ تو بہت ہیں، مگر سننے کے لیے وقت کم ہے۔
کوئی اپنی پریشانی بیان کرے تو اسے صبر کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ کوئی ذہنی تھکن کا ذکر کرے تو اسے ناشکرا کہا جاتا ہے۔ کوئی اپنے مسائل سے نکلنے میں مشکل محسوس کرے تو اسے کمزور ارادوں کا مالک سمجھ لیا جاتا ہے۔
ہم بھول جاتے ہیں کہ صبر کی تلقین کرنے اور کسی کے دکھ کو سمجھنے میں فرق ہوتا ہے۔ کسی کو یہ بتانا کہ دنیا میں اس سے بھی زیادہ مشکلات ہیں، اس کی اپنی تکلیف کو ختم نہیں کرتا۔
کبھی کبھی انسان کو کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کے مسائل کا فوری حل پیش کرنے کے بجائے اسے توجہ سے سن سکے۔ جو اس کی بات کا مذاق نہ اڑائے، اسے شرمندہ نہ کرے اور اس کے احساسات کو محض ڈراما قرار نہ دے۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر مسئلے کا حل صرف نصیحت نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ہمدردی، محفوظ ماحول، عملی مدد اور ذہنی صحت کے ماہر سے بروقت رابطہ بھی ناگزیر ہوتا ہے۔ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ مضبوط بنو، حالات کا مقابلہ کرو، ہمت نہ ہارو اور زندگی میں آگے بڑھتے رہو۔
یہ سب باتیں اپنی جگہ درست ہیں، مگر کیا ہم نے کبھی سوچا کہ مضبوط رہنے کی مسلسل توقع بھی انسان کو تھکا سکتی ہے؟
ہر انسان کی برداشت کی ایک حد ہوتی ہے۔ کسی کے لیے معاشی مشکلات سب سے بڑا امتحان ہوتی ہیں، کسی کے لیے رشتوں کی تلخی، کسی کے لیے تنہائی اور کسی کے لیے وہ صدمہ جسے وہ کسی کے سامنے بیان بھی نہیں کر پاتا۔
مسئلہ صرف تکلیف کا ہونا نہیں، بلکہ بعض اوقات تکلیف کے ساتھ تنہا رہ جانے کا احساس بھی ہوتا ہے۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مدد مانگنا کمزوری نہیں۔ ذہنی صحت کے مسائل حقیقی ہوتے ہیں اور ان کے لیے مدد حاصل کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا جسمانی بیماری کے لیے علاج کروانا۔
زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنے والے ہر شخص کو ایک ہی پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ جس چیز کو ہم معمولی سمجھتے ہیں، ممکن ہے وہ کسی دوسرے انسان کے لیے شدید تکلیف کا باعث ہو۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مشکل کا کوئی حل نہیں، بلکہ یہ کہ شدید ذہنی اذیت کے دوران انسان کو وہ امکانات بھی دکھائی نہیں دیتے جو نسبتاً بہتر حالت میں اسے نظر آ سکتے ہیں۔ اسی لیے ایسے وقت میں تنقید کے بجائے مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
کسی انسان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد ہم اکثر کہتے ہیں کہ ہمیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ اتنی تکلیف میں تھا۔
ہم اس کی تصاویر دیکھتے ہیں، اس کی باتیں یاد کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کاش ہم نے اس سے ایک بار پوچھ لیا ہوتا کہ وہ واقعی کیسا ہے۔
لیکن کیا ہمیں کسی کی تکلیف سمجھنے کے لیے اس کے ٹوٹ جانے کا انتظار کرنا چاہیے؟
ہمیں اپنے گھروں، تعلیمی اداروں، کام کی جگہوں اور معاشرتی تعلقات میں ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں انسان اپنے مسائل بیان کرتے ہوئے خوف محسوس نہ کرے۔
جہاں ناکامی کو زندگی کا اختتام نہ سمجھا جائے، جہاں ذہنی بیماری کو شرمندگی نہ بنایا جائے، جہاں کسی کی پریشانی کو اس کے کردار یا ایمان کے خلاف دلیل نہ بنایا جائے اور جہاں مدد مانگنے والے کو تنہا چھوڑنے کے بجائے اس کے ساتھ کھڑا ہوا جائے۔
ہم ہر انسان کی زندگی کے تمام مسائل حل نہیں کر سکتے، لیکن ہم اپنے رویوں سے اس کی تکلیف میں اضافہ کرنے سے بچ سکتے ہیں۔ ہم اس کی بات سن سکتے ہیں، اسے محفوظ مدد تک پہنچا سکتے ہیں اور اسے یہ احساس دلا سکتے ہیں کہ اس کی موجودگی اہم ہے۔
مگر کسی مشکل وقت میں زندگی کا بے معنی محسوس ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ زندگی واقعی بے معنی ہے۔
انسان کی موجودہ کیفیت اس کے مستقبل کا حتمی فیصلہ نہیں ہوتی۔ حالات بدل سکتے ہیں، مدد مل سکتی ہے، علاج مؤثر ثابت ہو سکتا ہے اور وہ راستے بھی دکھائی دینے لگ سکتے ہیں جو شدید مایوسی کے دوران نظر نہیں آتے۔
اسی لیے ہمیں ناامیدی میں مبتلا انسان کو محض یہ کہہ کر خاموش نہیں کر دینا چاہیے کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ہمیں اس کے ساتھ مل کر یہ تلاش کرنا چاہیے کہ آج کیا بہتر کیا جا سکتا ہے، اسے کس مدد کی ضرورت ہے اور اسے اس مشکل وقت سے محفوظ طور پر گزرنے میں کیسے سہارا دیا جا سکتا ہے۔
میں آج اپنے قارئین سے ایک سوال کرنا چاہتی ہوں:
ہم ایک دوسرے کی زندگیوں میں موجود تو ہیں، مگر کیا واقعی ایک دوسرے کے لیے موجود بھی ہیں؟
کیا ہم کسی کی خاموشی کے پیچھے چھپی تکلیف کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں؟ کیا ہم کسی کی ناکامی پر اسے حقیر سمجھنے کے بجائے اس کا ہاتھ تھامتے ہیں؟ کیا ہم اپنے قریبی لوگوں کو اتنا محفوظ احساس دیتے ہیں کہ وہ اپنی کمزوریوں، خوف اور پریشانیوں کے بارے میں ہم سے بات کر سکیں؟
خودکشی کے ہر واقعے کے پیچھے ایک جیسی کہانی نہیں ہوتی، اس لیے کسی ایک شخص، رشتے یا حالات کو تمام واقعات کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں۔ لیکن ہر واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر ضرور مجبور کرتا ہے کہ ذہنی صحت، انسانی ہمدردی اور بروقت مدد کو ہماری اجتماعی ترجیحات میں کہاں جگہ حاصل ہے۔
شاید ہمیں ایک بہتر معاشرہ بنانے کے لیے بہت کچھ بدلنا پڑے، مگر اس تبدیلی کا آغاز ہمارے روزمرہ کے رویوں سے بھی ہو سکتا ہے۔
کسی کو غور سے سننے سے، اس کی تکلیف کو تسلیم کرنے سے، اس کی مدد کرنے سے اور اس کے مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑے ہونے سے۔
کیونکہ ہر انسان کی زندگی اہم ہے، خواہ وہ کامیاب ہو یا ناکام، خوش ہو یا پریشان، مضبوط دکھائی دیتا ہو یا اندر سے ٹوٹ رہا ہو۔
ہمیں انسانوں کو صرف اس وقت یاد نہیں کرنا چاہیے جب وہ ہمارے درمیان نہ رہیں؛ ہمیں ان کی موجودگی میں بھی انہیں یہ احساس دلانا چاہیے کہ ان کی زندگی قیمتی ہے۔
زندگی سب سے بڑی نعمت ہے۔ کیریئر، تعلیم، مالی آسودگی، شادی، صحت، کامیابیاں اور ملازمت، یہ سب بعد کی باتیں ہیں۔ سب کچھ اسی وقت تک ہے جب تک زندگی ہے۔ اگر زندگی ہی نہ ہو تو پھر کچھ بھی نہیں۔

ہر شخص زندگی کی کسی نہ کسی جنگ میں مصروف ہے۔ ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارے سامنے کھڑا انسان کن ذہنی، جذباتی یا جسمانی مشکلات سے گزر رہا ہے۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ ہو سکتی ہے، وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہو سکتا ہے، لیکن اس کے اندر کی کیفیت شاید اس کے سوا کوئی نہ جانتا ہو۔

اس لیے دوسروں سے توقعات وابستہ کرنے سے پہلے انہیں سمجھنے کی کوشش کریں۔ ان پر فیصلے صادر نہ کریں، انہیں کسی نام یا لیبل میں قید نہ کریں، بلکہ انہیں انسان سمجھ کر وہی عزت دیں جس کے وہ حق دار ہیں۔

کسی انسان کو صرف اس بنیاد پر اپنی نظروں میں کم تر نہ سمجھیں کہ وہ آپ کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکا۔ ممکن ہے وہ خود زندگی کے کسی ایسے مرحلے سے گزر رہا ہو جہاں اسے اپنے اردگرد کی بہت سی چیزیں محسوس کرنے یا سمجھنے میں دشواری ہو رہی ہو۔

کسی کو اس منزل تک نہ دھکیلیں جہاں سے واپسی اس کے لیے مشکل ہو جائے۔ اپنے الفاظ، رویوں اور فیصلوں میں اتنی گنجائش ضرور رکھیں کہ کسی کو اپنی تکلیف بیان کرنے کے لیے خوف محسوس نہ ہو۔

یاد رکھیے، زندگی ہے تو امید ہے۔ زندگی ہے تو حالات بدلنے کا امکان ہے۔ زندگی ہے تو غلطیوں کی اصلاح، رشتوں کی بحالی، معافی اور ایک نئی شروعات کی گنجائش ہے۔

معاف کرنا سیکھیے، سمجھنے کا حوصلہ رکھیے اور اپنے رشتوں کو اتنا مضبوط بنائیے کہ مشکل ترین حالات میں بھی سامنے والا انسان یہ محسوس کرے کہ وہ آپ سے اپنی بات کہہ سکتا ہے، بغیر کسی خوف کے، بغیر کسی شرمندگی کے اور بغیر کسی فیصلے کے۔

بطور والدین، استاد، دوست یا خاندان کے فرد، اپنا کردار ایسا بنائیے جو کسی کی زندگی میں روشنی بن سکے۔

اگر کوئی شخص اپنی تکلیف بیان نہیں کر پا رہا تو خود سے پوچھیے کہ آخر کیوں؟ کیا اسے خوف ہے کہ اس کی بات نہیں سنی جائے گی؟ کیا اسے خدشہ ہے کہ اسے جج کیا جائے گا؟ یا کیا ہم نے اپنے رویوں سے اس کے لیے بات کرنا مشکل بنا دیا ہے؟

اگر آپ کے اردگرد کوئی شخص ڈپریشن، مایوسی یا زندگی کی کسی مشکل جنگ سے گزر رہا ہے تو اسے یہ احساس دلائیں:

میں یہاں ہوں۔ میں تمہاری بات سن سکتی ہوں۔ میں تمہیں جج نہیں کروں گی۔ میں تمہیں سمجھنے کی کوشش کروں گی۔

اور امید رکھیں کہ آپ بھی کسی دوسرے انسان کے لیے یہی کردار ادا کریں گے۔

ہم مل کر ڈپریشن کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ہم مل کر زندگیوں کو بچانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

کیا معلوم، آپ کا ایک جملہ، آپ کی ایک ہمدردانہ گفتگو یا آپ کا بروقت بڑھایا ہوا ہاتھ کسی انسان کے لیے امید کا سبب بن جائے۔

زندگی انمول ہے۔ انسان قیمتی ہے۔ اور کبھی کبھی کسی انسان کو بچانے کی ابتدا صرف اسے سمجھنے سے ہوتی ہے۔
کچھ لفظ اپنے لیے لکھے جاتے ہیں، اور کچھ اُن لوگوں کے لیے جن کے دکھ ہمیں دکھائی نہیں دیتے۔

میں چاہتی ہوں کہ میری آواز کسی ایسے انسان تک پہنچے جو زندگی کی مشکلات سے تھک چکا ہے، جو اپنے دل کی بات کسی سے نہیں کہہ پاتا، یا جسے لگتا ہے کہ اس کی تکلیف سمجھنے والا کوئی نہیں۔

میں شاید ہر انسان کے مسائل حل نہ کر سکوں، لیکن میں چاہتی ہوں کہ میرے الفاظ کسی کے لیے امید بنیں، میری تحریر کسی کو سوچنے پر مجبور کرے اور میری کوشش کسی ایک انسان کے لیے بھی آسانی کا سبب بن سکے۔

یہ ایک چھوٹی سی کوشش ہے، انسان سے محبت کے نام۔

اگر آپ بھی سمجھتے ہیں کہ ہر انسان عزت، ہمدردی اور زندگی کا حق رکھتا ہے، تو اس سفر میں میرا ساتھ دیجیے۔

ہم مل کر ایک ایسی دنیا بنانے کی کوشش کریں گے جہاں انسان کو اس کے دکھ کی وجہ سے نہیں، اس کی انسانیت کی وجہ سے سمجھا جائے۔
ذرا ٹھہر جا زندگی ابھی باقی ہے
تیرے حصے کی کوئی خوشی
ابھی باقی ہے
تھک بہت گیا ہے تو
اندر ہی اندر
کہیں رویا ہے تو
خاموشی کا تیرے
لبوں پہ پہرا ہے
جانے کب سے درد کو
تو سہہ رہا ہے
مگر سن
ہر رات کا مطلب سحر کا ہونا نہیں
خوابوں کا ٹوٹنا
زندگی کو کھونا نہیں
راستے بند ہونا تقدیر کا
آخری فیصلہ نہیں
ابھی بھی خوشی کا امکان باقی ہے
ٹھہر جا ذرا ابھی زندگی باقی ہے
تجھے لگتا ہے کیا کوئی تیرا نہیں
درد کو تیرے سمجھنا آسان نہیں
سب کے درمیان بھی تو تنہا ہے
ذات میں تیری جیسے
کوئی صحرا ہے
مگر اے شخص
تیرے خواب ٹوٹنا تیری ہار نہیں
کسی کا چھوڑ جانا
تیری قیمت نہیں
تیری خاموشی تیری کہانی نہیں
تیری ناکامیاں تیری پہچان نہیں
جو محسوس کرتا ہے تو وہ ہے نہیں
مسکرانا ابھی تیرا ختم ہوانہیں
تیرے اندر کی دنیاابھی خالی ہے
تیرے نام کی دعا ابھی باقی ہے
ذرا ٹھہر جا زندگی ابھی باقی ہے
آج اگر
تجھے اپنے ہونے سے شکایت ہے
اپنے وجود سے ہی
تھکن کی روایت ہے
تیری آنکھوں میں اب کوئی
بستا نہیں
ہر سمت اندھیرا گھٹتا نہیں
تو آج کوئی بڑا فیصلہ مت کرنا
اپنے دکھ کو تنہائی میں قید مت کرنا
کسی اپنے کو آواز دینا، بات کرنا
اپنے دل کا بوجھ کسی کے ساتھ بانٹ لینا
سوچ میں اپنی تو مضبوط رہنا
انسان ہونے کا حصہ سمجھ کے رونا
یہ سوچ کے
کہ مدد مانگنا تیری شکست نہیں
تیرے درد کا علاج ناممکن نہیں
تو تھک جائے تو ٹھہر سکتا ہے
کسی کے کندھے پہ سر رکھ کے رو سکتا ہے
ہر جنگ تجھے اکیلے لڑنی نہیں
ہر رات تجھے تنہا گزارنی نہیں
کسی بچے کی ہنسی تجھے پھر بلائے گی
تیری مسکراہٹ صبح کی روشنی میں جگمگائے گی
کوئی اجنبی تیرا اپنا بن جائے گا
کوئی دوست تیری خاموشی سمجھ جائے گا
ممکن ہے تیرے حالات بدل جائیں گے
ممکن ہے بند رستے کھل جائیں گے
میں یہ نہیں کہتی سب آساں ہوگا
یہ زخم تیرا فوری ٹھیک ہوگا
اسی لمحے کے درد کو
زندگی مت سمجھ
تجھے جینے کی کوئی بڑی وجہ نہیں چاہیے
بس یہ سمجھ کے رات گزار لینا
تیرا ایک چھوٹا سا قدم ابھی کافی ہے
کسی سے مدد مانگ لینا ابھی کافی ہے
اور اگر تجھے لگتا ہے
تو بوجھ ہے
تو محبت کے لیے
کامل ہونا ضروری نہیں
جینے کے لیے تیرا
کامیاب ہونا ضروری نہیں
تو انسان ہے تجھے تھکنے کا حق ہے
تجھے رونے، رکنے، سسکنے کا حق ہے
تیرے حصے کی زندگی ابھی باقی ہے
تیرے نام کی اک نئی صبح ابھی باقی ہے
کیونکہ تو صرف اپنی دکھ کا نام نہیں
تو صرف اپنی شکست کا انجام نہیں
تیرے ہونے سے کسی کی دنیا ہے
ٹھہر جا اے میرے ہم سفر
تیرے اندر امید کا چراغ ابھی باقی ہے
تیری زندگی کا اک نیا باب ابھی باقی ہے
کسی اپنے کی آنکھ سے توخود کو دیکھ لے
اندھیرے میں سحر کو دیکھ لے
چاہے آج تجھے کچھ نہ دکھائی دے
تیری زندگی اہم ہے
تجھے سنائی دے
ذرا ٹھہر جا نمل
زندگی ابھی باقی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں