WhatsApp Image 2026-09-24 at 7.01.56 AM 0

سوشل میڈیا/تحریر/بن داؤد

آج کل سوشل میڈیا کا ایک عجیب رجحان بن چکا ہے۔ فیس بک، یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز پر ہر دوسرا شخص خود کو اسکالر بنا کر پیش کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اسلام کو بھی ایک طرح سے سوشل میڈیا کے مواد کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
کسی بھی شخص کو اپنے سامنے بٹھا لیا جاتا ہے اور اس سے قرآن مجید کا ترجمہ، احادیث مبارکہ کا ترجمہ، اسلامی مسائل اور دینی احکام کے بارے میں سوالات کیے جاتے ہیں۔ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ بعض اوقات ایسے لوگوں کو بھی بٹھا کر دین کے ان اختلافی مسائل پر بحث کروائی جاتی ہے جنہیں سمجھنے کے لیے باقاعدہ علمی استعداد، دینی تعلیم اور اصولِ تفسیر و حدیث سے واقفیت ضروری ہوتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر یہی سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو آنے والی نسل کا کیا بنے گا؟
آج ہی ہم دیکھ رہے ہیں کہ بہت سے لوگ دین سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کے ذہنوں میں اسلام کے بارے میں طرح طرح کے اشکالات پیدا کیے جا رہے ہیں۔ قرآن و حدیث کے نام پر ایسی گفتگو سامنے آ رہی ہے جس سے عام آدمی کے لیے صحیح اور غلط میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر یہی صورتِ حال برقرار رہی تو آنے والی نسل کے لیے اسلام کی حقیقی تعلیمات کو سمجھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ بعض مواقع پر ایسے افراد قرآن و حدیث کے الفاظ کا اپنی سمجھ کے مطابق ترجمہ اور مفہوم بیان کرتے ہیں، پھر اپنی ذاتی رائے یا نامکمل تحقیق کو دینی حقیقت کے طور پر پیش کر دیتے ہیں۔ حالانکہ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی تشریح محض چند الفاظ کا ترجمہ کر دینے کا نام نہیں؛ اس کے لیے علم، اصول، سیاق و سباق اور اہلِ علم کی رہنمائی ضروری ہے۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دین کوئی ایسا موضوع نہیں جسے محض ویوز، لائکس اور بحث و مباحثے کے لیے استعمال کیا جائے۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور احادیث مبارکہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات ہیں۔ ان کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انتہائی احتیاط، ذمہ داری اور علمی دیانت کی ضرورت ہے۔
آخر کوئی اس بنیادی بات کو کیوں نہیں سمجھ رہا کہ ہر شخص کو ہر موضوع پر بولنے کا حق تو ہو سکتا ہے، لیکن ہر شخص ہر دینی مسئلے کا ماہر نہیں ہوتا؟
سوشل میڈیا پر دین کی بات ضرور ہونی چاہیے، لیکن علم کے ساتھ، ذمہ داری کے ساتھ اور اہلِ علم کی رہنمائی میں۔ کیونکہ ایک غلط بات صرف ایک شخص کو متاثر نہیں کرتی؛ وہ ہزاروں اور بعض اوقات لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ اور جب معاملہ دین کا ہو تو اس کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں