استادِ عزم کا خواب شاگردِ وفا کے ہاتھوں تعبیر پا گیا۔
تلوار ہاتھ میں ہو، دشمن مغلوب ہو، انتقام کے تمام راستے کھلے ہوں اور پھر بھی انسان عدل اور رحم کا دامن نہ چھوڑے تو یہی کردار کی حقیقی سربلندی ہے۔
تاریخ کے بعض صفحات محض واقعات محفوظ نہیں کرتے، وہ نسلوں کے لیے کردار، قیادت اور عظمت کے پیمانے بھی متعین کرتے ہیں۔ بیت المقدس کی فتح بھی تاریخِ اسلام کا ایسا ہی درخشاں باب ہے جس کے اوراق پر سلطان صلاح الدین ایوبی کا نام شجاعت کے ساتھ ساتھ عدل، تدبر، عفو اور عالی ظرفی کی روشن علامت بن کر ثبت ہے۔ 2 اکتوبر 1187ء کو جب تقریباً اٹھاسی برس بعد بیت المقدس دوبارہ مسلمانوں کے زیرِ نگیں آیا تو یہ صرف ایک شہر کی بازیابی نہ تھی؛ یہ اس طویل جدوجہد کی تکمیل تھی جس کی بنیاد عماد الدین زنگی اور نور الدین زنگی نے رکھی اور جسے صلاح الدین ایوبی نے اپنے عزم و کردار سے منزل تک پہنچایا۔
سلطان صلاح الدین ایوبی کا اصل نام یوسف بن ایوب تھا۔ وہ 1138ء میں تکریت میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان کرد نژاد تھا۔ نوجوانی میں وہ اپنے چچا اسد الدین شیرکوہ کے ساتھ وابستہ ہوئے، جو نور الدین زنگی کے نامور سپہ سالار تھے۔ 1169ء میں صلاح الدین ایوبی مصر کے وزیر مقرر ہوئے۔ چند ہی برسوں میں ان کی سیاسی بصیرت، عسکری صلاحیت اور غیر معمولی قوتِ فیصلہ نے انہیں عالمِ اسلام کی ایک مؤثر قوت بنا دیا۔
صلاح الدین کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ صرف صلیبی طاقت نہ تھی بلکہ مسلمانوں کی اپنی سیاسی پراگندگی بھی تھی۔ مصر، شام اور گرد و نواح کی مسلم قوتیں مختلف مراکز میں بٹی ہوئی تھیں۔ انہوں نے جان لیا تھا کہ بیت المقدس کی بازیابی کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا جب تک مسلمان ایک مضبوط سیاسی و عسکری قوت میں نہ ڈھل جائیں۔ چنانچہ انہوں نے برسوں کی جدوجہد سے مصر اور شام کے بڑے حصوں کو ایک قیادت کے تحت منظم کیا۔ یہی اتحاد آگے چل کر فتحِ بیت المقدس کا بنیادی زینہ ثابت ہوا۔
بیت المقدس 1099ء میں پہلی صلیبی جنگ کے دوران صلیبی افواج کے قبضے میں چلا گیا تھا۔ شہر پر قبضے کے بعد بڑے پیمانے پر خون ریزی ہوئی اور مسلمانوں کے ساتھ یہودی آبادی بھی اس المیے کا نشانہ بنی۔ یہ سانحہ عالمِ اسلام کے حافظے پر ایک گہرا زخم بن کر باقی رہا۔ آنے والی دہائیوں میں زنگی حکمرانوں نے صلیبی ریاستوں کے مقابل مسلم قوت کو منظم کیا، مگر نور الدین زنگی کی زندگی میں بیت المقدس کی آزادی کا خواب پورا نہ ہوسکا۔ تاریخ نے یہ ذمہ داری ان کے بعد صلاح الدین ایوبی کے کندھوں پر رکھ دی۔
فیصلہ کن مرحلہ 1187ء میں آیا۔ صلیبی حاکم رینالڈ آف شاتیوں کی مسلسل معاہدہ شکنی اور مسلمان قافلوں پر حملوں نے حالات کو جنگ کی طرف دھکیل دیا۔ صلاح الدین نے اپنی افواج مجتمع کیں اور جولائی 1187ء میں حطین کے میدان میں صلیبی لشکر سے فیصلہ کن مقابلہ ہوا۔ شدید گرمی، پانی کی قلت اور صلاح الدین کی مؤثر حکمتِ عملی نے صلیبی فوج کو انتہائی دشوار صورتِ حال سے دوچار کردیا۔ بالآخر ان کی مرکزی عسکری قوت ٹوٹ گئی، بادشاہ گائے آف لوزینان سمیت کئی اہم سردار گرفتار ہوئے اور صلیبی ریاست کی دفاعی طاقت کو ایسا دھچکا لگا جس سے سنبھلنا اس کے لیے ممکن نہ رہا۔
حطین کے بعد فلسطین کے متعدد شہر یکے بعد دیگرے صلاح الدین کے زیرِ نگیں آتے گئے۔ اب نگاہ اس شہر پر تھی جو مسلمانوں کے لیے قبلۂ اول اور سفرِ معراج کی نسبت سے غیر معمولی تقدس رکھتا ہے۔ ستمبر 1187ء میں صلاح الدین کا لشکر بیت المقدس کے سامنے پہنچا۔ شہر کے دفاع کی ذمہ داری بالیان آف ابلین نے سنبھالی۔ ابتدا میں صلیبیوں نے سخت مزاحمت کی۔ منجنیقیں نصب ہوئیں، تیروں کی بارش ہوئی اور شہر کی فصیلوں پر مسلسل دباؤ بڑھتا گیا۔ جب مدافعین کو محسوس ہوا کہ مزید مزاحمت شہر کو تباہی کی طرف لے جائے گی تو مذاکرات کا دروازہ کھولا گیا۔
یہی وہ لمحہ تھا جہاں صلاح الدین صرف ایک فاتح سپہ سالار نہیں بلکہ ایک بلند کردار حکمران کے روپ میں تاریخ کے سامنے آئے۔ بالیان سے مذاکرات کے بعد شہر کو امان کے ساتھ حوالے کرنے کا معاہدہ طے پایا۔ مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے الگ الگ فدیہ مقرر ہوا اور ادائیگی کرنے والوں کو اپنے اموال سمیت محفوظ طریقے سے شہر چھوڑنے کی اجازت دی گئی۔ بڑی تعداد میں ایسے غریب بھی تھے جو فدیہ ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے؛ ان میں سے بہت سوں کی رہائی کے لیے رعایت اور مالی مدد کا اہتمام کیا گیا۔
بالآخر 2 اکتوبر 1187ء، بمطابق 27 رجب 583ھ، کا تاریخ ساز دن طلوع ہوا۔ بیت المقدس کے دروازے مسلمانوں کے لیے کھل گئے۔ تقریباً اٹھاسی برس بعد شہر ایک مرتبہ پھر مسلم اقتدار میں آگیا۔ مگر اس فتح کی اصل عظمت شہر کی فصیلوں پر لہرائے جانے والے پرچم میں نہیں، فاتح کے طرزِ عمل میں پوشیدہ تھی۔ صلاح الدین چاہتے تو 1099ء کی خون ریزی کا انتقام لے سکتے تھے، مگر انہوں نے انتقام کی بجائے ضبط اور امان کا راستہ اختیار کیا۔ شہر کی گلیوں کو مخالفین کے خون سے رنگین نہیں کیا، غیر مسلم عبادت گاہوں کو عمومی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا ۔
فتح کے بعد مسجد اقصیٰ اور قبۃ الصخرہ سے صلیبی دور کی تبدیلیوں کے آثار ہٹائے گئے، مسجد کو عبادت کے لیے تیار کیا گیا اور برسوں بعد وہاں دوبارہ اذان اور نماز کی صدائیں بلند ہوئیں۔ نور الدین زنگی نے بیت المقدس کی متوقع آزادی کے لیے ایک نہایت خوب صورت منبر تیار کروایا تھا۔ وہ خود اپنی زندگی میں اسے مسجد اقصیٰ تک نہ پہنچا سکے؛ صلاح الدین نے فتح کے بعد وہ منبر مسجد اقصیٰ میں نصب کروایا۔ یوں استادِ عزم کا خواب شاگردِ وفا کے ہاتھوں تعبیر پا گیا۔
بیت المقدس کی فتح نے پورے خطے کی سیاسی صورتِ حال بدل دی۔ یورپ میں اس خبر نے شدید ردِعمل پیدا کیا اور یہی واقعہ تیسری صلیبی جنگ کا ایک بڑا محرک بنا۔ بعد میں صلاح الدین کا مقابلہ انگلستان کے رچرڈ اول جیسے طاقت ور فرمانروا سے ہوا، لیکن بیت المقدس مسلمانوں کے پاس رہا۔ یوں 1187ء کی فتح ایک وقتی عسکری کامیابی کے بجائے مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔
صلاح الدین ایوبی کی عظمت صرف اس لیے نہیں کہ انہوں نے بیت المقدس فتح کیا؛ تاریخ میں شہر فتح کرنے والے سپہ سالار بے شمار گزرے ہیں۔ ان کی انفرادیت یہ ہے کہ انہوں نے فتح کے لمحے میں اپنے نفس کو بھی فتح کیا۔ تلوار ہاتھ میں ہو، دشمن مغلوب ہو، انتقام کے تمام راستے کھلے ہوں اور پھر بھی انسان عدل اور رحم کا دامن نہ چھوڑے تو یہی کردار کی حقیقی سربلندی ہے۔
فتحِ بیت المقدس آج بھی یہ سبق دیتی ہے کہ قوموں کی عظمت محض لشکروں کی کثرت سے جنم نہیں لیتی۔ اس کے لیے مقصد کی سچائی، صفوں کا اتحاد، دوراندیش قیادت، مسلسل جدوجہد اور فتح کے بعد ظرف درکار ہوتا ہے۔ حطین کے میدان سے بیت المقدس کی فصیلوں تک صلاح الدین کی داستان اسی حقیقت کی گواہی ہے کہ مضبوط کردار جب تدبر اور قوت کے ساتھ جمع ہوجائے تو تاریخ کا دھارا بدل سکتا ہے۔ اسی لیے صدیوں کا غبار بھی صلاح الدین ایوبی کے نام کی تابانی کو ماند نہیں کرسکا۔ بیت المقدس کی فتح ان کی عسکری ذہانت کا شاہکار ضرور تھی، مگر اس فتح کے بعد ان کا عفو و عدل ان کے کردار کی وہ فتح ہے جس کی بازگشت آج بھی تاریخ کے ایوانوں میں سنائی دیتی ہے۔